لاہورکے سنارنے ساتھی سناروں کا20کلوسوناکیسے لوٹا؟

 

 

 

لاہور کے ایک سنار کی جانب سے ساتھی سناروں سے 20کلوگرام سونے کے فراڈ نے صوبے میں جرائم کے کمی بارے مریم نواز کے دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے۔ کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے 1100 سے زائد ریکارڈ یافتہ عادی مجرموں کو پولیس مقابلوں میں ہلاک کیے جانے کے بعد پنجاب حکومت صوبے میں جرائم کی شرح میں 40 فیصد تک کمی کا دعویٰ کرتی نظر آتی ہے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ وزیرِ اعلیٰ مریم نواز کے دعوؤں کے برعکس صوبائی دارالحکومت لاہور میں فراڈ اور قبضہ مافیا کی سرگرمیاں بدستور جاری ہیں۔ حالیہ دنوں لاہور میں ایک مبینہ فراڈیے جیولر کے ساتھی سناروں کا تقریباً 20 کلو گرام سونا لے کر فرار ہونے کی خبروں نے جہاں پنجاب پولیس میں تھرتھلی مچا دی ہے ہیں اس واردات کے سامنے آنے کے بعد جرائم پر قابو پانے کے سرکاری دعوؤں پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔

 

ابتدائی اطلاعات کے مطابق لاہور کے علاقے اچھرہ میں واقع جیولری مارکیٹ کا ایک جیولر اپنے ساتھیوں کا 20 کلوگرام سے زائد سونا لے کر فرار ہو گیا، سونے کی مالیت ایک ارب روپے سے زائد بتائی جا رہی ہے۔ اس مقدمے کے مدعی جیولر احمد صدیقی کے مطابق ان سمیت مارکیٹ کے مختلف جیولرز نے شیخ وسیم اختر کے پاس 20 کلو گرام سونا امانتاً رکھوایا ہوا تھا، جس کا انھیں باقاعدہ معاوضہ ادا کیا جاتا ہے۔ اس حوالے سے معاملات ٹھیک چل رہے تھے تاہم وہ گزشتہ دو تین دن مارکیٹ نہیں آئے اور نہ ہی دکان کھولی۔ جس پر انھیں تشویش ہوئی جس پر انھوں نے ساتھی دکانداروں سے مل کر شیخ وسیم اختر کی دکان کا تالا توڑ کر دیکھا تو سارا سونا غائب تھا۔ پھر ہم نے مارکیٹ میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی ریکارڈنگ دیکھی تو اس میں وہ سونے کے باکس لے کر فرار ہو رہے تھے۔‘بقول احمد صدیقی: ’شیخ وسیم نے ایک تاجر کو بتایا تھا کہ ان کی بھابھی کا انتقال ہو گیا ہے، لہذا وہ کراچی جا رہے ہیں، لیکن بعد میں معلوم ہوا وہ اپنا مکان فروخت کرنے کے علاوہ ایک اور تاجر سے 60 لاکھ روپے کمیشن اور کمیٹی کے پیسے بھی وہ کھا چکے ہیں۔

تاہم پولیس حکام کے مطابق شیخ وسیم اختر کی دکان پر متعدد جیولرز نے اپنا سونا امانتاً رکھوایا تھا۔ جب وہ کئی روز سے دکان پر نہیں آئے تو تاجروں نے خود کارروائی کرتے ہوئے لاکر کھول کر چیک کیا۔ لاکر خالی نکلنے پر انہوں نے شیخ وسیم پر غبن کا الزام عائد کیا اور اچھرہ تھانے میں درخواست جمع کرائی۔ایس پی ماڈل ٹاؤن شہربانو نے بتایا کہ معاملے کی مختلف پہلوؤں سے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق شیخ وسیم اختر نامی جیولر کراچی فرار ہوگیا ہے، جن کی تلاش کے لیے کراچی پولیس سے بھی رابطہ کیا گیا ہے۔

ماڈل ٹاؤن ڈویژن کے پولیس ترجمان کے بقول اب تک صرف ایک درخواست موصول ہوئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار نے سونا ایک دکان دار کے پاس امانتاً رکھوایا تھا اور وہ اب غائب ہے۔ پولیس کے ترجمان نے بتایا کہ متعدد دکانداروں نے شیخ وسیم نامی تاجر کے پاس سونا رکھوا رکھا تھا جو اب مبینہ طور پر فرار ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق اس معاملے میں ایک اہم پیش رفت شیخ وسیم اختر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا منظرعام پر آنا ہے۔ فوٹیج میں انہیں ہاتھوں میں شاپنگ بیگز اٹھائے پلازہ سے نکلتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ پولیس ترجمان کے بقول غائب ہونے والے سونے کے کئی لوگ دعوے دار تو بن رہے ہیں تاہم اس حوالے سے قانونی کارروائی آگے بڑھانے سے گریزاں ہیں تاحال اس میگا فراڈ بارے صرف ایک درخواست سامنے آئی ہے۔ جس پر پولیس تفتیشی عمل آگے بڑھا رہی ہے۔

خیال رہے کہ حالیہ دنوں خیبر پختونخوا کے ضلع ایبٹ آباد میں ڈاکٹر وردہ نامی ایک خاتون کے قتل کا معاملہ منظرعام پر آیا تھا۔ جس میں مقتولہ ڈاکٹر وردہ نے ملزمہ ردا کے پاس 67 تولے سونے کے زیورات رکھوائے تھے تاہم زیورات واپس مانگنے پر ملزمہ نے ڈاکٹر وردہ کو ساتھیوں کے ساتھ مل کر قتل کر دیا تھا۔

ان دونوں واقعات کے بعد سوال پیدا ہوتا ہے کہ شہری بڑی مقدار میں سونا یا قیمتی اشیا بینکوں کے لاکرز میں رکھنے کی بجائے دوستوں، رشتہ داروں یا دیگر افراد کے پاس امانتاً کیوں رکھتے ہیں؟ ماہرین کے مطابق اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں ایک وجہ تو یہ ہو سکتی ہے کہ لوگ عموما دوستوں یا رشتہ داروں کے پاس ایسی قیمتی اشیاء بطور امانت رکھواتے ہیں جو انھوں نے اپنی انکم ٹیکس ریٹرنز میں شو نہیں کی ہوتیں انھیں خطرہ ہوتا ہے کہ اگر انھوں نے یہ اشیاء بنکوں کے لاکرز میں رکھوائیں تو وہ ایف بی آر کے نشانے پر آ سکتے ہیں۔ ویسے بھی پاکستان میں بینک لاکرز کا نظام کافی پیچیدہ ہوتا ہے۔’لاکر حاصل کرنے کے لیے کئی دستاویزات اور تصدیقی مراحل سے گزرنا پڑتا ہے جو عام شہریوں کے لیے پیچیدہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ بینکوں کی انشورنس پالیسیاں بھی محدود ہوتی ہیں۔‘ اس لئے لوگ بینک لاکرز میں قیمتی اشیاء اور جیولری رکھوانے کا رسک نہیں لیتے۔

ماہرین کا مزید وضاحت کرتے ہوئے کہنا تھا کہ لاکرز میں رکھی گئی اشیا کی انشورنس کلیم کی رقم زیادہ سے زیادہ 40 لاکھ روپے تک محدود ہوتی ہے۔ ’اگر لاکر سے چوری یا نقصان ہو جائے تو بینک کی طرف سے صرف اسی حد تک معاوضہ ادا کیا جاتا ہے۔ چاہے اندر موجود اشیا کی مالیت کروڑوں میں ہی کیوں نہ ہو۔‘’اس لیے لوگ اکثر بینک لاکرز سے گریز کرتے ہیں اور زیادہ مالیت کے سونے کو گھروں میں یا قابل اعتماد افراد کے پاس رکھتے ہیں۔ تاہم یہ طریقہ بھی خطرے سے خالی نہیں ہوتا۔‘

 

Back to top button