عمران کی چوائس اچکزئیPTIسوشل میڈیابریگیڈکےنشانے پر

بانی پی ٹی آئی عمران خان کی آنکھوں کی خرابی اور دیگر صحت کے مسائل کو سیاسی ہتھیار بنانے کے بجائے 8 فروری کے احتجاج پر مکمل توجہ دینے کے مشورے پر قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف اور نام نہاد تحریکِ تحفظِ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی عمرانڈوز کے نشانے پر آ گئے۔ تحریک انصاف کے انقلابیوں نے سوشل میڈیا پر اچکزئی کی رہی سہی ساکھ اور عزت کا عملاً جنازہ نکال دیا۔ اس پوری صورتحال کا سب سے دلچسپ اور معنی خیز پہلو یہ ہے کہ خود پی ٹی آئی کی قیادت نے محمود خان اچکزئی کو سوشل میڈیا پر یوتھیوں کے بے لگام رگڑے سے بچانے کے لیے عملی طور پر ہاتھ کھڑے کر دئیے، جس نے پی ٹی آئی کے اندرونی تضادات کو ایک ابر پھر بے نقاب کر دیا ہے، ناقدین کے مطابق تحریک انصاف کا سوشل میڈیا حقیقت میں بے لگام ہو چکا ہے، جو اب جیل سے باہر موجود پی ٹی آئی قیادت کی حکمت عملی اور ہدایات پر عمل کرنے سے صاف انکاری ہے۔

خیال رہے کہ اپوزیشن لیڈر محمود خان نے پی ٹی آئی قیادت کو عمران خان کی صحت کے مسائل کو اچھالنے کی بجائے 8 فروری کے احتجاجی پروگرام، پہیہ جام، شٹر ڈاؤن اور عام ہڑتال پر مکمل توجہ دینے کا مشورہ دیا۔ ان کے بقول، عمران خان کی آنکھوں کی خرابی اور دیگر صحت کے مسائل کو زیادہ ہوا دینے سے پارٹی کی 8 فروری کی احتجاجی تحریک کمزور ہو سکتی ہے، جبکہ موجودہ سیاسی صورتحال میں مارچ، ہڑتال اور دیگر احتجاجی اقدامات پر توجہ دینا زیادہ مؤثر ہوگا۔ تاہم، تحریک انصاف کے سوشل میڈیا کے انقلابی کارکنان کو اچکزئی کا مشورہ ایک آنکھ نہ بھایا اور انھوں نے اچکزئی کے بیان کو اپنی نظریاتی سوچ کے خلاف قرار دیتے ہوئے سوشل میڈیا پر ان کے خلاف نفرت انگیز مہم شروع کر دی۔ اس ساری صورتحال کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ خود پی ٹی آئی کی قیادت بھی اچکزئی کو اس مہم سے بچانے میں عملی طور پر ناکام رہی، جس نے پارٹی کے اندرونی سیاسی اختلافات کو مزید واضح کر دیا ہے۔

بلوچستان کے 12 شہروں پر حملے، سکیورٹی ادارے ناکام کیوں ہوئے؟

ناقدین کے مطابق پی ٹی آئی میں اختلاف رائے اب دلیل یا تعمیری بحث کی بجائے ڈیجیٹل نفرت کی صورت اختیار کرچکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چند دن قبل تک محمود خان اچکزئی کےگن گانے والے یوتھیوں کوصرف ایک بیان نےاس حد تک مشتعل کردیا کہ معمولی سا اختلاف رائے، کردار کشی میں بدل گیا۔ عمران خان کی صحت کے معاملے کو پسِ پشت ڈال کر سیاسی ایجنڈا مسلط کرنے کی اس جنگ نے ایک بار پھر ثابت کردیا ہے کہ پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا اب محض اظہار کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ باقاعدہ ہتھیار بن چکا ہے۔ پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق، پارٹی قیادت بھی اچکزئی کو سوشل میڈیا کے اندھا دھند حملوں سے بچانے میں بے بس دکھائی دیتی ہے۔ پی ٹی آئی لیڈر شپ نے اپنی اس بے وقعتی بارے خود اچکزئی کوآگاہ کر دیا ہے۔ جس نے نہ صرف پارٹی کے اندر موجود اختلافات اور کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا ہے بلکہ یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ تحریک انصاف کا سوشل میڈیا اب قیادت کے کنٹرول سے باہر ہو چکا ہے۔

سیاسی مبصرین اس صورتحال کو تحریک انصاف کے لیے ایک سنجیدہ وارننگ قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق، پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا نیٹ ورک اب محض جذباتی ردِعمل کا مظہر نہیں رہا بلکہ پارٹی کے لیے ایک اندرونی چیلنج بن چکا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ جب ایک جماعت کی ڈیجیٹل فورس اپنی ہی اتحادی قیادت کے خلاف اس حد تک جارحانہ ہو جائے کہ مرکزی لیڈر شپ بھی اسے روکنے میں ناکام نظر آئے،ایسی صورتحال کو پارٹی کے زوال کی شروعات قرار دینا بے جا نہ ہو گا۔ کچھ تجزیہ کاروں کے مطابق محمود خان اچکزئی کا بیان سیاسی حکمتِ عملی کے تناظر میں تھا، جس کا مقصد احتجاجی تحریک کو واضح سمت دینا تھا، مگر پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا کارکنان نے اسے عمران خان ذاتی حملہ سمجھ لیا۔ اس پر یوتھیوں کا ردعمل اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ پارٹی کے اندر اختلافِ رائے برداشت کرنے کی گنجائش تیزی سے ختم ہوتی جا رہی ہے، سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا بریگیڈ کو سمجھنا چاہیے کہ عمران خان کی صحت جیسے حساس معاملے کو جذباتی بیانیے کے طور پر استعمال کرنا وقتی طور پر ہمدردی تو پیدا کر سکتا ہے، مگر طویل المدتی سیاسی جدوجہد کے لیے یہ حکمتِ عملی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کے بقول، اچکزئی کا مؤقف دراصل اسی خدشے کی عکاسی کرتا تھا، مگر پارٹی کے اندر پائے جانے والے عدم برداشت کے ماحول نے اس مشورے کو تنازع میں تبدیل کر دیا ہے۔

Back to top button