افغان ڈرونز نے پاکستان میں عسکری ٹارگٹس کو نشانہ کیسے بنایا؟

جمعے کو پاکستان کے مختلف شہروں بشمول اسلام آباد میں افغان طالبان کی جانب سے کیے گئے ڈرون حملوں کو پاکستانی عسکری حکام نے ناکام بنانے کا دعویٰ تو کیا ہے، لیکن تشویشناک حقیقت یہ ہے کہ ان ڈرونز نے اپنے پاکستانی فوجی ٹارگٹس کو ٹھیک ٹھیک نشانہ بنایا۔
اگرچہ ان حملوں سے کوئی بڑا جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا، تاہم دفاعی ماہرین کے مطابق ڈرونز کا وفاقی دارالحکومت سمیت دیگر شہروں میں اپنے اہداف کو ہٹ کرنا سکیورٹی کے حوالے سے کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ مسلح افواج کے سپریم کمانڈر صدر آصف علی زرداری نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان طالبان نے پاکستان کی ریڈ لائن عبور کر لی ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں صدر کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنے شہریوں کو نشانہ بنائے جانے کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا اور افغان سرزمین کو پڑوسی ممالک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔ ان کے مطابق پاکستان اپنے عوام کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
ادھر پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ انٹر سروسز پبلک ریلیشنز کے مطابق 13 مارچ کو افغان طالبان کی جانب سے چند ڈرونز کے ذریعے راولپنڈی، کوہاٹ اور کوئٹہ میں حملے کیے گئے تاہم یہ ڈرونز اپنے مطلوبہ اہداف تک نہیں پہنچ سکے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ان ڈرونز کو ’سافٹ کِل‘ اور ’ہارڈ کِل‘ ٹیکنالوجی کے ذریعے راستے میں ہی ناکارہ بنا دیا گیا۔ فوجی ترجمان کے مطابق ان ڈرونز کے ملبے گرنے کے نتیجے میں کوئٹہ میں دو بچے جبکہ کوہاٹ اور راولپنڈی میں ایک، ایک شہری زخمی ہوئے۔ آئی ایس پی آر نے کہا کہ ان حملوں کا مقصد عوام میں خوف و ہراس پھیلانا تھا اور یہ افغان طالبان کی اس دہشت گردانہ ذہنیت کی عکاسی کرتے ہیں جس کے ذریعے وہ حکومت چلا رہے ہیں۔
تاہم فوجی بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ان شہروں میں کن مخصوص مقامات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ عام کمرشل ڈرونز تھے جنہیں الیکٹرانک آلات کے ذریعے ناکارہ بنایا گیا۔ دوسری جانب افغان طالبان کی وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ افغان فورسز نے جمعے کی شام فیض آباد کے قریب واقع ایک اہم فوجی تنصیب ’حمزہ کیمپ‘ کو ڈرون حملے میں نشانہ بنایا۔ وزارت دفاع کی جانب سے ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ڈرونز کے ذریعے وہاں موجود کمانڈ سینٹر اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جس سے قابلِ ذکر نقصان ہوا۔
ماہرین کے مطابق افغان طالبان نے جو ڈرون استعمال کیے وہ کم لاگت والے کمرشل ڈرونز ہیں جو عام مارکیٹ میں آسانی سے دستیاب ہوتے ہیں اور اپنے ساتھ محدود مقدار میں دھماکہ خیز مواد بھی لے جا سکتے ہیں۔ رواں ماہ کے آغاز میں بھی افغان حکومت نے پاکستان کے خلاف اسی نوعیت کے ڈرون حملوں کا دعویٰ کیا تھا۔
طالبان کی وزارت دفاع کے مطابق یہ کارروائیاں پاکستان کی جانب سے افغانستان میں کیے گئے فضائی حملوں کے جواب میں کی گئیں۔ چونکہ طالبان حکومت کے پاس روایتی فضائیہ تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے، اس لیے انہوں نے فضائی کارروائیوں کے لیے دھماکہ خیز ڈرونز کا سہارا لیا۔
رپورٹس کے مطابق ان کارروائیوں میں دو طرح کے ڈرون استعمال کیے گئے، جن میں خودکش ڈرونز اور کواڈ کاپٹرز شامل ہیں۔ عسکری امور کے ایک غیر ملکی ماہر نے دعویٰ کیا ہے کہ ممکن ہے طالبان کے پاس ڈرون کے پرزے تیار کرنے کی صلاحیت نہ ہو اور وہ یہ پرزے بیرون ملک سے خرید کر افغانستان میں اسمبل کرتے ہوں۔
افغان امور کے تجزیہ کار سمیع یوسفزئی کے مطابق طالبان جو ڈرون استعمال کر رہے ہیں وہ نگرانی اور ویڈیو ریکارڈنگ کے لیے استعمال ہونے والے کمرشل ڈرونز ہیں جو مارکیٹ میں آسانی سے دستیاب ہوتے ہیں۔ سمیع یوسفزئی کا کہنا ہے کہ طالبان نے ان ڈرونز کو طویل فاصلے تک مار کرنے اور زیادہ مؤثر بنانے کے لیے ماہرین کی خدمات حاصل کی ہیں۔ ان کے مطابق طالبان 200 سے 300 کلومیٹر تک مار کرنے والا میزائل تیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
دفاعی ماہرین کے مطابق پاکستانی سکیورٹی فورسز نے اگرچہ ان ڈرونز کو تباہ کر دیا، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ یہ ڈرون اسلام آباد تک پہنچ کیسے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان سرحد اسلام آباد سے کافی فاصلے پر ہے جبکہ کوئٹہ اور کوہاٹ بھی سرحد سے دور واقع ہیں، اس کے باوجود ان ڈرونز کا شہروں تک پہنچ جانا سکیورٹی کے نظام پر سوال اٹھاتا ہے۔ ان کے مطابق یہ بنیادی نوعیت کے ڈرونز تھے لیکن اس کے باوجود شہری زخمی ہوئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کے پاس پاکستان کے اندر بڑی روایتی فوجی کارروائی کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔ ان کے مطابق طالبان عموماً شدت پسند گروہوں کی پشت پناہی یا خودکش حملوں کے ذریعے کارروائیاں کرتے ہیں جبکہ روایتی جنگ یا جدید ’نان کانٹیکٹ وارفیئر‘ میں وہ پاکستان کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ لیکن افغان طالبان جس طرح بذریعہ ڈرونز پاکستان کی کارروائیوں کا جواب دے رہے ہیں، اس سے لگتا ہے کہ ان کے پاس سینکڑوں ڈرونز موجود ہو سکتے ہیں اور ممکن ہے وہ مقامی سطح پر بھی انہیں تیار کر رہے ہوں۔
افغان طالبان کے ڈرونز اسلام آباد تک کیسے پہنچنے لگے؟
واضح رہے کہ افغان طالبان کے وزیر دفاع ملا یعقوب مجاہد نے حالیہ دنوں میں خبردار کیا تھا کہ اگر کابل پر حملہ کیا گیا تو اس کا جواب اسلام آباد پر حملے کی صورت میں دیا جا سکتا ہے۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کہ افغانستان جنگ نہیں چاہتا، لیکن اگر جنگ مسلط کی گئی تو طالبان طویل عرصے تک لڑنے کے لیے تیار ہیں۔ دفاعی ماہرین کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے فوری خاتمے کے امکانات کم دکھائی دیتے ہیں۔ ڈاکٹر حسن عسکری رضوی کے مطابق پاکستان افغانستان کے اندر مزید کارروائیوں کے لیے پرعزم دکھائی دیتا ہے جبکہ طالبان حکومت بھی پاکستان کے مطالبات ماننے پر آمادہ نظر نہیں آتی۔
