افغان طالبان کے ڈرونز اسلام آباد تک کیسے پہنچنے لگے؟

افغانستان اور پاکستان کے مابین سرحدی کشیدگی میں اضافے کے بعد جمعہ کی شام افغان طالبان نے اسلام آباد میں فیض آباد کے قریب اہم فوجی تنصیبات کو ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ تاہم پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ دارالحکومت کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے تمام ڈرونز کو اپنے ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی فضائی دفاعی نظام نے تباہ کر دیا۔ یاد رہے کہ اس سے ایک روز پہلے افغان طالبان نے کوہاٹ میں فوجی چھاونی کو ڈرونز سے نشانہ بنایا تھا۔
افغان وزارت دفاع نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ جمعہ کی شام تقریباً پانچ بجے افغان فضائیہ نے اسلام آباد کے علاقے فیض آباد میں پاکستانی فوج کے ایک سٹریٹجک مرکز ’حمزہ کیمپ‘ کو نشانہ بنایا۔ بیان کے مطابق افغانستان پر جاری پاکستانی فضائیہ کے حملوں کے رد عمل میں یہ جوابی کارروائی ’ریجیکٹ آپریشن‘ کے تسلسل میں کی گئی۔ دوسری جانب پاکستانی حکام نے افغان دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی فوجی تنصیب کو نقصان نہیں پہنچا اور تمام ڈرونز کو بروقت مار گرایا گیا۔
پاکستانی سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان کے فضائی دفاعی نظام نے فوری ردعمل دیتے ہوئے دارالحکومت اسلام آباد کے حساس علاقے میں داخل ہونے والے ڈرونز کو تباہ کر دیا۔ پاکستانی عسکری حکام نے تصدیق کی کہ شام سات بج کر 15 منٹ کے بعد اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم پر واقع فیض آباد کے علاقے میں حمزہ کیمپ کے اوپر دو بغیر پائلٹ طیارے منڈلاتے دیکھے گئے تھے۔ حکام کے مطابق ان ڈرونز کو فوری طور پر ٹریک کیا گیا اور دفاعی نظام کے ذریعے مار گرایا گیا۔ یاد رہے کہ فیض آباد دراصل اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان ایک اہم ترین علاقہ ہے جہاں متعدد سرکاری اور فوجی تنصیبات بھی موجود ہیں، اس لیے سکیورٹی اداروں نے واقعے کے بعد علاقے میں نگرانی مزید سخت کر دی ہے۔
افغان طالبان کی جانب سے داغے گئے ڈرونز کے اسلام آباد پہنچنے کے بعد احتیاطی تدابیر کے طور پر وفاقی دارالحکومت کی فضائی حدود کو کچھ دیر کے لیے عارضی طور پر بند کر دیا گیا تھا۔ اس دوران اسلام آباد کے فضائی دفاعی نظام کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا۔ بعد ازاں وزیر اعظم شہباز شریف کے غیر ملکی میڈیا کے لیے ترجمان نے بتایا کہ ابتدائی نوعیت کے چند ڈرونز کو روکنے کے بعد اسلام آباد کی فضائی حدود دوبارہ کھول دی گئی ہے اور صورت حال مکمل کنٹرول میں ہے۔
سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے جاری بیان میں بھی کہا گیا کہ اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر آپریشنل وجوہات کی بنا پر کچھ وقت کے لیے فلائٹ آپریشنز میں معمولی ایڈجسٹمنٹ کی گئی تھی، تاہم اب تمام پروازیں معمول کے مطابق جاری ہیں۔ ترجمان سول ایوی ایشن نے مسافروں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی پروازوں سے متعلق تازہ معلومات کے لیے متعلقہ ایئرلائنز سے رابطہ کریں تاکہ کسی ممکنہ تاخیر یا تبدیلی کے بارے میں آگاہی حاصل کی جا سکے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل جمعہ کے روز خیبرپختون خوا کے ضلع کوہاٹ میں بھی پولیس نے تین ڈرون حملے ناکام بنا دیے تھے۔ حکام کے مطابق ان واقعات میں تین افراد زخمی ہوئے جبکہ ڈرونز کو تباہ کر دیا گیا۔ یہ واقعات ایسے وقت میں پیش آئے ہیں جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات شدید کشیدگی کا شکار ہیں اور سرحدی علاقوں میں وقفے وقفے سے جھڑپیں ہو رہی ہیں۔
دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان حالیہ کشیدگی کا آغاز گزشتہ ماہ 26 فروری کی شب ہوا تھا جب افغان طالبان کی جانب سے سرحدی علاقوں میں پاکستانی چیک پوسٹوں کو نشانہ بنانے کا الزام سامنے آیا۔ اس کے بعد پاکستان نے اس صورتحال کو ’کھلی جنگ‘ قرار دیتے ہوئے ’آپریشن غضب للحق‘ کے تحت جوابی کارروائیاں شروع کر دی تھیں۔
وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ آپریشن غضب للحق کے دوران پاکستانی سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں اب تک افغان طالبان کے 663 جنگجو مارے گئے جبکہ 887 زخمی ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق کارروائیوں کے دوران افغانستان میں 249 چوکیاں تباہ کی گئیں جبکہ 44 چوکیوں پر قبضہ بھی کیا گیا۔ مزید برآں 224 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپیں بھی تباہ کر دی گئی ہیں۔ وزیر اطلاعات نے بتایا کہ افغانستان بھر میں دہشت گردوں اور ان کے معاون ڈھانچے کے تقریباً 70 مقامات کو فضائی کارروائیوں میں نشانہ بنایا گیا، جن میں لاجسٹک مراکز اور تربیتی کیمپ شامل تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ 12 اور 13 مارچ 2026 کی درمیانی شب پاکستانی فورسز نے افغانستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گردوں سے منسلک تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔
عطا تارڑ کے مطابق کابل، پکتیا اور قندھار کے علاقوں میں دہشت گردوں کے کیمپوں اور معاون ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا اور کارروائی انتہائی درستگی کے ساتھ کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ جاری کردہ ویڈیوز سے واضح ہوتا ہے کہ کارروائیاں صرف ان تنصیبات کے خلاف کی گئیں جو مبینہ طور پر پاکستان کے خلاف دہشت گردی میں ملوث عناصر کی حمایت کر رہی تھیں اور کسی شہری آبادی یا سول تنصیبات کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔
افغان وزارت دفاع کا کوہاٹ شہر پر فضائی حملے کا دعوی
تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ ڈرون واقعات اور سرحدی جھڑپیں دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کی نشاندہی کرتی ہیں، جس کے باعث خطے کی سکیورٹی صورتحال مزید حساس ہو گئی ہے۔ لیکن سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ اب افغان طالبان کے داغے گئے ڈرونز وفاقی دارالحکومت اسلام اباد تک پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔
