افغانستان پاکستان کے لیے بھارت سے بھی بڑا دشمن کیسے بن گیا ؟

معروف لکھاری اور تجزیہ کار کیپٹن ریٹائرڈ ایاز امیر نے کہا ہے کہ ہم قیام پاکستان کے بعد سے اب تک بھارت کو اپنا ازلی دشمن قرار دیتے آئے ہیں، لیکن دکھ کی بات ہے کہ پاکستان جن لاکھوں افغانیوں کو پچھلے 30 برسوں سے اپنے بھائی قرار دے کر سنبھال رہا تھا وہی اس مملکت خداداد کے سب سے بڑے دشمن نکلے۔
اپنی تازہ سیاسی تجزیے میں ایاز امیر کہتے ہیں کہ ہماری تاریخ فسادات سے بھری پڑی ہے اور ہر فساد نظریے کے نام پر ہوا۔افغانستان میں دہائیوں پر محیط شورش‘ جنگ اور خانہ جنگی‘ یہ تمام کارروائیاں نظریے کے نام پر ہوئیں۔جنہیں مجاہدین کا لقب دیا گیا اُن کا نعرہ نظریہ تھا اور اُن کے خلاف جو طالبان اُٹھے اُن کا نعرہ بھی وہی نظریہ تھا۔ تحریک طالبان پاکستان نے ریاستِ پاکستان کے خلاف جو شورش کھڑی کی ہوئی ہے‘ وہ بھی نظریے کے نام پر ہے۔ وہ سابقہ فاٹا میں اپنی اسلامی ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں۔ یہاں مسلمانوں اور مسلمانیت کی کوئی کمی ہے کہ وہ ایک دفعہ پھر ہمیں مسلمان بنانا چاہتے ہیں؟ عجیب ملک ہے نظریے کے نام پر جو آتا ہے ہمیں پھر سے مسلمان بنانا چاہتا ہے۔ ضیا الحق نے بھی اس قوم کے ساتھ یہی کیا۔ آئے تھے اقتدار میں زورِ بازو سے لیکن نظریے کو اپنا ایجنڈا بنا لیا اوروہ اس لیے کہ اُن کے پاس اور کچھ تھا نہیں‘ اور۔پھر گیارہ سال اس قوم کو عقیدے کی راہ پر ڈالتے رہے۔
لیکن ایاز امیر کے بقول سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ان تمام کاوشوں سے کیا ہمارا معاشرہ بہتر ہوا اور بھلائی کی طرف گیا۔ بظاہر ایسا نہیں لگتا۔ انکا کہنا ہے کہ افغانستان میں برسر اقتدار انے کے بعد طالبان تو خواتین کے حوالے سے اُسی ڈگر پر چلنے لگے جس پر وہ پہلے دورِ حکومت میں چل رہے تھے۔ لڑکیوں کے سکولوں کو بند کر دینا‘ لڑکیوں کی تعلیم پر پابندیاں عائد کرنا۔ دوسری جانب پاکستانی طالبان بھی فاٹا کے علاقوں میں انہی پالیسیوں کو لے کر چل رہے ہیں۔
جب القاعدہ کے لوگ اور دیگر عرب ممالک سے آئے ہوئے جنگجو فاٹا کے علاقوں میں منتقل ہوئے تھے تو اُنہوں نے معاشرے کے ذہنی طور پر پست ترین طبقات کے ہاتھوں میں بندوقیں دے دیں۔ جب ویسے ہی پیچھے کی سوچ رکھنے والے لوگوں کے ہاتھوں میں طاقت آ گئی تو اُنہوں نے اُس طاقت کے ساتھ وہی کیا جتنی اُن کی سوچ تھی۔
ایاز امیر کہتے ہیں کہ جن عناصر کو 2014 اور اُسکے بعد کے فوجی آپریشنوں میں ہم سرحد پار دھکیلنے میں کامیاب ہو گئی تھے وہ آج پھر خیبرپختونخوا کے بڑے علاقوں میں دندناتے پھر رہے ہیں۔ اس کا ذمہ دار کون ہے؟ یہ کس کی پالیسی تھی؟ باجوہ اور فیض کا نام لینے سے زبانیں بند کیوں ہو جاتی ہیں؟ ہماری اجتماعی دانش مندی کی وجہ سے صورتحال اب یہ بن چکی ہے کہ آئے روز طاکبان کے حملے ہو رہے ہیں اورمعصوم جانوں کا نقصان ہورہا ہے۔ لیکن یہ صورتحال کیسے پیدا ہوئی‘ اسباب جاننے کیلئے کوئی تیار نہیں۔ یا یوں کہیے کہ ہچکچاہٹ کا عالم ایسا بنا دیا گیا ہے کہ عافیت اسی میں سمجھی جاتی ہے کہ زبانیں بند رہیں۔
ایاز امیر کہتے ہیں کہ ہم خود کو جمہوریت کہتے ہیں نا؟ تو موازنہ پھر ایسے ملکوں سے ہی کرنا چاہیے جہاں کچھ نہ کچھ جمہوری آزادیاں قائم ہیں۔کسی جمہوری ملک میں ایسی صورتحال ہوتی جیسا کہ ہمارے خیبرپختونخوا میں ہے تووہاں رپورٹر گئے ہوتے‘ حساس علاقوں میں جاتے‘ اورپھر عوام کو بھی اصلی صورتحال سے آگاہ کرتے۔ یہاں کیفیت یہ ہے کہ سرکاری سچ سے ہٹ کر آپ کچھ کہیں تو شامت آ جاتی ہے۔ اجازت اسی چیز کی ہے کہ جو سرکاری سچ ہے اُس کی جُگالی ہوتی رہے۔ میڈیا کے بحث مباحثوں سے کچھ صحیح اندازہ ہوتا ہے کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں اصلی صورتحال کیا ہے۔ یہ جو اگلے دن تحصیل زہری‘ ضلع خضدار میں واقعہ پیش آیا جہاں سترسے اَسی جنگجو گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر شہر میں داخل ہوئے‘ متعدد عمارتوں پر حملے ہوئے‘ ایک پرائیویٹ بینک لوٹا گیا‘ اورآٹھ گھنٹے تک وہ وہاں رہے۔ ایسے حملے پہلے بھی مختلف مقامات پر ہو چکے ہیں۔ کوئی اور ملک ہوتا تو اب تک ٹی وی پر زہری سے براہِ راست رپورٹیں نشر ہو رہی ہوتیں۔ لیکن ایسے علاقوں میں کوئی جانے کی کوشش تو کرے۔
انکا کہنا ہے کہ 1971 میں مشرقی پاکستان میں بالکل ایسا ہی ہوا۔ انڈین فورسز کی ڈھاکہ کی طرف پیش قدمی شروع ہو چکی تھی اور مغربی پاکستان کے لوگ اُس ساری صورتحال سے مکمل طور پر بے خبر تھے۔ وہ اس لیے کہ اُس وقت کا میڈیا صحیح خبر رپورٹ کر نہیں سکتا تھا۔ راج شاہی جو کولکتہ کی طرف بارڈر کے قریب ہے‘ انڈین فوج کے قبضے میں چلا گیا اور یہاں پاکستان کسی کو پتا نہیں تھا۔
عمران خان کو اپنی 18 ماہ کی قید اتنا بڑا ظلم کیوں لگتی ہے؟
ایاز امیر کے بقول میں یہ نہیں کہہ رہا کہ خیبر پختونخوا یا بلوچستان میں کوئی راج شاہی یا ڈھاکہ گرنے والا ہے لیکن اس دیس کے باسیوں کو پتا تو ہو کہ اصل صورتحال کیا ہے اور کس قسم کے خطرات ہمارے مغربی علاقوں میں منڈلا رہے ہیں۔
سوچیں تو سہی ہماری قومی سوچ کیارہی ہے۔ پچھتر‘ چھہتر سال ہم نے ہندوستان کو اپنا دشمن بنائے رکھا۔ اب بھی ہماری زیادہ فورسز کشمیر سے لے کر بحیرۂ عرب تک انڈین بارڈر پر ہیں۔ لیکن اب تھوڑی سی آنکھیں کھل رہی ہیں کہ خطرہ تو کہیں اور سے آرہا ہے۔ جن کے چالیس سال ہم محافظ اور نگہبان بنے رہے اورسب عقیدے کے نام پر‘ وہی ہمیں خونخوار آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ یہ درست ہے کہ مشرقی پاکستان پر حملہ انڈین فوج نے کیا لیکن ہمیں بھولنا نہیں چاہیے کہ انڈین جارحیت کا میدان ہم نے تیار کیا۔ وہاں جو کھلواڑ ہوا تھا اُس کا فائدہ ہندوستان نے اٹھایا لیکن کھلواڑ ہندوستان نے تیار نہیں کیا تھا۔ 1970ء کے انتخابات کے نتائج جنرل یحییٰ خان اور اُن کے ساتھیوں نے تسلیم نہیں کیے تھے۔ مارچ 1971ء میں ڈھاکہ میں جو قومی اسمبلی کا اجلاس ہونا تھا‘ وہ ملتوی ہندوستان نے نہیں بلکہ یہاں کے سورماؤں نے کیا تھا۔ سوال یہ ہے کہ ہماری تاریخ گول دائروں میں کیوں پھرتی رہتی ہے اور ہم بار بار وہی چیزیں کیوں دہرائے جاتے ہیں؟
