امریکہ اور اسرائیل کا ایران میں رجیم تبدیلی کا خواب کیسے ٹوٹا؟

 

 

 

معروف صحافی اور لکھاری نصرت جاوید نے کہا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے ایران میں بھی وینزویلا کی طرح ایک ہی رات میں رجیم تبدیل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، لیکن ایران کی جانب سے موثر ڈرون اور میزائل حملوں نے نہ صرف امریکہ اور اسرائیل کے اندازے غلط ثابت کر دیے ہیں بلکہ اسکی اتحادی خلیجی ریاستوں کو بھی مصیبت میں ڈال دیا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ خامنہ ای کی شہادت کے باوجود امریکہ اور اسرائیل ایران میں رجیم تبدیلی کا مقصد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔

 

نصرت جاوید اپنے سیاسی تجزیے میں یاد دلاتے ہیں کہ دفاعی امور کے حوالے سے جو ایک اصول بارہا ثابت ہوا ہے وہ یہ ہے کہ برسوں کاغذی جنگی منصوبے اکثر عملی طور پر میدانِ جنگ میں پہلی گولی چلنے کے ساتھ ہی ناکام ہو جاتے ہیں۔ انکے مطابق امریکی اور اسرائیلی خفیہ ایجنسیوں یعنی سی آئی اے اور موساد نے ایران میں اپنے مخبر تو گھسا دیے لیکن ان کی دی گئی معلومات کی بنیاد پر ایران جیسے ملک میں خامنہ ای کے قتل کے باوجود حکومت کی تبدیلی ممکن نہیں ہو پائی۔ انہوں نے افغانستان کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ دو دہائیوں تک وہاں قابض رہنے کے باوجود افغان عوام کی اجتماعی نفسیات کو نہ سمجھ سکا۔ اربوں ڈالرز کے زیاں اور جدید ہتھیاروں کے باوجود امریکی افواج کو وہاں سے ذلیل وخوار ہو کر نکلنا پڑا۔

 

انہوں نے کہا کہ ایران میں رجیم کی تبدیلی کے لیے صرف حساس معلومات یا اہم شخصیات تک رسائی کافی نہیں تھی بلکہ ایرانی ثقافت اور اجتماعی یادداشت کا مطالعہ بھی ضروری تھا، جسے امریکی اور اسرائیلی منصوبہ سازوں نے نظرانداز کر دیا۔سینیئر صحافی نے واضح کیا کہ ایران وینزویلا نہیں ہے۔ ایران میں حتمی فیصلہ ساز منتخب صدر یا پارلیمان نہیں بلکہ روحانی رہنما ہوتے ہیں۔ علی خامنہ ای کو منتخب ہونے سے پہلے کئی مراحل کی تعلیم و تربیت سے گزرنا پڑا، اور ان کی شہادت کے بعد فیصلہ سازی کے لیے تین افراد پر مشتمل ایک کونسل تشکیل دی گئی ہے، جس میں ایرانی صدر، عدلیہ کی نمائندگی، اور مذہبی اداروں کی جانب سے آیت اللہ علی رضا شامل ہیں۔

 

نصرت جاوید نے بتایا کہ خامنہ ای نے 11 سال کی عمر میں قم میں دینی تعلیم کے حصول کا آغاز کیا اور برسوں کی محنت کے بعد آیت اللہ کے منصب تک پہنچے۔ ایران میں مساجد سے منسلک مدرسوں کا ایک وسیع جال موجود ہے، جو خودمختار مالی وسائل سے قائم ہے۔ اس نظام کی وجہ سے کسی رہنما کو ہٹانے کے باوجود فیصلہ سازی کا اختیار روحانی رہنما کے جانشین کو منتقل ہوتا ہے۔

دوسری جانب وینزویلا میں صدر مادورو ایک نصابی آمر تھا، اور امریکہ نے اسے اغواء کر کے نائب صدر کو اپنے تابع نظام سنبھالنے پر مجبور کر دیا، لیکن ایران میں ایسا ممکن نہیں۔ ایرانی عوام کی خود مختاری اور مذہبی، سیاسی اور عسکری ڈھانچے کی مضبوطی امریکی منصوبوں کے لیے بڑی رکاوٹ ہے۔ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد چالیس روزہ سوگ نے بھی ایرانی عوام کو مزید مستحکم کر دیا ہے۔

 

نصرت جاوید نے افغانستان اور عراق میں امریکی رجیم چینج کی ناکامیوں کی مثال دی۔ انہوں نے کہا کہ ان دونوں ممالک میں عبوری حکومتیں اور منتخب شدہ نظام امریکی فوجوں کی نگرانی میں قائم ہوئے، لیکن اتحادی افواج کے انخلاء کے بعد یہ نظام تحلیل ہو گے۔ عراق گروہی تشدد کا شکار ہو گیا اور افغانستان میں بالآخر طالبان فاتح ٹھہرے۔ چنانچہ ایران میں بھی بری فوجیں اتارے بغیر امریکہ اور اسرائیل وہاں کے 47 سالہ حکومتی ڈھانچے کو بدل نہیں سکتے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل ایران کے موجودہ جغرافیائی وحدت کو کمزور کرنا چاہتا ہے، جبکہ ایران میں بلوچ، کرد اور آذربائیجان کے مسائل سے بھی ایسے منصوبے بنائے جا رہے ہیں، لیکن یہ منصوبے طویل المدتی اور پیچیدہ ہیں۔ ایران کے عسکری ڈھانچے اپنی حکمت عملی کے مطابق میزائلوں کے ذریعے دشمنوں کو قابو میں رکھے ہوئے ہیں۔

ایران پر حملے کے بعد پاکستان سب سے مشکل پوزیشن میں کیوں؟

نصرت جاوید نے کہا کہ ایران ہر امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کی وجہ سے تیل کی قیمت میں ہوشربا اضافہ ہو رہا ہے۔ اامریکہ میں پٹرول کا ایک گیلن 3 ڈالر ہو گیا، جس سے پاکستان جیسے غریب ممالک پر مہنگائی کا شدید اثر پڑنے والا ہے۔ ان کے مطابق، ایران پر مسلط کردہ خلفشار نے نہ صرف ایران بلکہ دنیا کے دیگر ممالک کو بھی معاشی بحران میں ڈال دیا ہے۔ ایسے میں صدر ٹرمپ کو دنیا بھر سے تنقید کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ جو بھی دعوے کرتے رہے ہیں لیکن سچ یہ ہے کہ ایران میں موجود مذہبی، سیاسی اور عسکری ڈھانچے شخصیات کو مارنے کے باوجود کبھی ٹوٹ نہیں سکتے۔

Back to top button