امریکی سٹنگر میزائل ٹیکنالوجی ایران کے ہاتھ کیسے لگی؟

سٹنگر میزائلز نے ایران امریکہ جنگ کا پانسہ پلٹ دیا۔ پے در پے جنگی طیاروں اور ہیلی کاپٹرز کی تباہی کے بعد امریکہ، ایران جنگ سے بھاگنے کے راستے ڈھونڈنے لگا۔ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ ایران سے جنگ میں امریکہ کی جیت کو شکست میں بدلنے والی سٹنگر میزائل ٹیکنالوجی پاکستان کے راستے ایران تک پہنچی اور آج یہی امریکی ٹیکنالوجی امریکہ اور اسرائیل کیلئے بڑی درد سر بن چکی ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق  80کی دہائی میں افغانستان کی سنگلاخ وادیوں میں جب سٹنگر میزائل کی گھن گرج سنائی دی تو صرف سوویت ہیلی کاپٹر ہی زمین بوس نہیں ہوئے، بلکہ اس وقت کی ایک سپر پاور کا غرور بھی خاک میں مل گیا۔تاہم سوویت یونین کی پسپائی کے ساتھ ہی امریکہ کو یہ احساس ستانے لگا کہ جس ٹیکنالوجی نے اسے اس جنگ میں برتری دلائی ہے، وہی کل اس کے لیے دردِ سر بھی بن سکتی ہے۔ اور یہی خدشہ جلد حقیقت میں بدل گیا اور ایران امریکی سٹنگر میزائل ٹیکنالوجی حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔ اب صورتحال یہاں تک جا پہنچی ہے کہ ایران امریکی ٹیکنالوجی سے تیارکردہ سٹنگر میزائلز کے ذریعے ہی امریکہ کے لڑاکا طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کو نشانہ بنایا جانے لگا۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ حساس ٹیکنالوجی ایران تک کیسے پہنچی؟ کون سے خفیہ راستے تھے جن کے ذریعے یہ ہتھیار سرحدیں پار کرتا رہا؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ امریکہ خود اپنی ہی ایجاد کے سامنے بے بس کیوں دکھائی دے رہا ہے؟

اس حوالے سے سینئر صحافی بلال غوری کا اپنے ایک تازہ سیاسی تجزیے میں کہنا ہے کہ سوویت یونین کے خلاف افغان جہاد میں شریک کوئی ایک بھی کمانڈر ایسا نہیں جس نے اسلحہ نہ بیچا ہو۔ بلال غوری بتاتے ہیں کہ مولوی یونس خالص کی حزب اسلامی کے ایک کمانڈر کو اوجڑی کیمپ میں ٹریننگ کے بعد سٹنگر میزائل دیئے گئے اور اس تنبیہہ کیساتھ افغانستان روانہ کیا گیا کہ افغانستان جانے کیلئے ہلمند کے راستے کا انتخاب کرنا، ایرانی سرحد کا رُخ نہیں کرنا۔ تاہم وہ راستہ تبدیل کرنے کی وجہ سے ایرانی پاسداران انقلاب کے ہاتھوں گرفتار ہوگئے۔ یوں 4لانچر اور 16اسٹنگر میزائل ایران کے ہاتھ لگ گئے۔ بلال غوری کے بقول مختلف ممالک کا پریشر آںے پر ایرانی حکام نے افغان کمانڈروں کو تو رہا کردیا مگر کوششوں کے باوجود ایران سے سٹنگر میزائل واپس نہ لئے جا سکے۔ مبصرین کے مطابق آج یہی سٹنگر میزائلز کی ٹیکنالوجی امریکہ کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔

بلال غوری کا مزید کہنا ہے کہ 25ستمبر 1986ء کو آئی ایس آئی کے اوجڑی کیمپ میں دھماکوں سے اسلام آباد اور راولپنڈی لرز اُٹھے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ دھماکے بھی اسی سلسلے کی کڑی تھے۔ تاہم ڈی جی آئی ایس آئی جنرل اختر عبدالرحمان جواس وقت چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی تھے، وہ اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم پر گنجان آباد علاقے میں اسلحہ خانہ بنانے پر تنقید کی زد میں تھے، اس لئے انہوں نے اوجڑی کیمپ دھماکوں کو تخریب کاری قرار دیدیا۔جنرل ضیاالحق کے معتمد خاص اور سابق وائس چیف جنرل خالد محمود عارف کے مطابق جنرل ضیاالحق نے دانستہ طور پر اس حادثے کو زیادہ اہمیت نہ دی۔ وزیراعظم محمد خان جونیجو نے سانحہ اوجڑی کیمپ کی تحقیقات کیلئے لیفٹیننٹ جنرل عمران اللہ کی سربراہی میں ایک کمیشن تشکیل دیا تو جنرل ضیاالحق برہم ہو گئے اور انھوں نے 29مئی 1988ء کو وزیراعظم محمد خان جونیجو کو گھر بھیج دیا۔

پاکستان کا امریکا- ایران جنگ بندی کے فریم ورک کی خبروں پر تصدیق یا تردید سے گریز

اس حوالے سے اس وقت کے سٹنگر ٹریننگ سکول کے سربراہ اور چیف انسٹرکٹر کرنل ریٹائرڈ محمود احمد غازی کا اپنی کتاب ’’افغان جنگ اور سٹنگر کی داستان‘‘میں کہنا ہے کہ پاکستان نے امریکہ سے مجموعی طورپر 487لانچر اور 2288 سٹنگر میزائل وصول کیے تھے۔ ان میں سے 122لانچر اور 281 سٹنگر 10 اپریل 1988ء کو اوجڑی کیمپ کے مشہور دھماکے میں تباہ ہو گئے جس کے بعدپاکستان کے پاس صرف 365 لانچر اور 2007ء میزائل باقی رہ گئے تھے۔ ان میں سے 336لانچر اور 1969میزائل مجاہدین نے استعمال کئے تھے اور باقی ماندہ امریکہ کو واپس کر دیے گئے تھے۔ تاہم دفاعی ماہرین کے مطابق چالیس سال قبل افغانستان جنگ کا پانسہ پلٹنے والی سٹنگر میزائل ٹیکنالوجی نے آج ایران امریکہ جنگ میں بھی طاقت کا توازن بدل کر رکھ دیا ہے اس وقت امریکی ٹیکنالوجی کی وجہ سے سوویت یونین افغانستان سے بھاگ نکلی تھی اور آج اسی ٹیکنالوجی کی وجہ سے امریکہ ایران سے بھاگنے کیلئے بہانے تلاش کر رہا ہے۔

Back to top button