امریکہ کی مسلم دنیا کو لڑوانے کی سازش کیسے کامیاب ہوئی؟

جیو نیوز سے وابستہ معروف اینکر پرسن حامد میر نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے بہت سوچ سمجھ کر رمضان المبارک کے دوران ایران پر حملہ کیا چونکہ وہ جانتے تھے کہ رد عمل میں ایران امریکہ کے اتحادی خلیجی ممالک میں موجود امریکی اڈوں پر حملہ کر دے گا اور یوں مسلم دنیا آپس میں لڑنا شروع کر دے گی۔
روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تجزیے میں حامد میر کہتے ہیں کہ 2026 ء کے رمضان المبارک میں امریکا اور اسرائیل کی طرف سے ایران پر مسلط کی گئی جنگ لبنان تک پھیل چکی ہے۔ اس جنگ میں مسلم ممالک کو شامل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ مسلمان آپس میں لڑیں۔ اسرائیل کے وزیر اعظم نتین یاہو اور امریکی صدر ٹرمپ نے بہت سوچ سمجھ کر رمضان المبارک میں ایران پر حملہ کیا۔ انہیں معلوم تھا کہ ایران کی طرف سے جوابی حملے صرف اسرائیل پر نہیں بلکہ ایران کے اردگرد موجود عرب ممالک میں امریکی فوجی اڈوں پر بھی ہونگے اور پھر مسلمان آپس میں لڑیں گے۔ یہ جنگ شروع کرنیوالے فاشسٹ رمضان المبارک میں لڑی جانے والی جنگوں کی تاریخ سے واقف ہوں یا نہ ہوں لیکن مسلمانوں کو تو اپنی تاریخ معلوم ہے۔
سینیئر اینکر پرسن بتاتے ہیں کہ تاریخ اسلام کی پہلی جنگ غزوہ بدر کو قرآن نے یوم الفرقان یعنی فیصلے کا دن قرار دیا۔ یہ جنگ دو ہجری بمطابق 13مارچ 624 ء کو بدر حنین کے میدان میں لڑی گئی۔ پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سربراہی میں 313 مسلمانوں نے ابو جہل کے ایک ہزار سپاہیوں کے لشکر کو رمضان المبارک میں شکست دی تھی۔ غزوہ خندق پانچ ہجری بمطابق مارچ 627 ء میں لڑی گئی۔ اس جنگ کا اعلان رمضان میں ہوا تھا۔ مسلمانوں نے رمضان میں خندق کھود کر اپنا دفاعی حصار قائم کیا۔ اس جنگ میں تین ہزار مسلمانوں نے دس ہزار کے لشکر کو شکست دی۔ 710 ء کے رمضان المبارک میں طارق بن زیاد نے اندلس یعنی سپین کو فتح کیا۔ 1187ء کے رمضان المبارک میں صلاح الدین ایوبی نے جنگ حطین میں بیت المقدس کو آزاد کرایا ۔ 1973 میں مصر، اردن، عراق اور سوڈان نے ملکر نہر سوئز سے قبضہ چھڑانے کیلئے اسرائیل پر حملہ کیا۔ یہ جنگ بھی رمضان میں لڑی گئی اور اس جنگ میں پاکستان ایئر فورس کے 16 ہوا بازوں کو مصر اور شام بھیجا گیا جنہوں نے کئی اسرائیلی طیارے تباہ کئے۔ اس جنگ میں کامیابی کی وجہ مسلم ممالک کا اتحاد تھا ۔
حامد میر کہتے ہیں کہ اب 2026 کے رمضان المبارک میں شروع ہونے والی جنگ پر نظر ڈالئے۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ اُس نے ان مسلم ممالک پر جوابی حملے کئے جن کی فضائی حدود سے ایران پر حملے ہوئے۔ اسکا ثبوت کویت کی فضا میں تباہ ہونے والے تین امریکی طیارے ہیں، تاہم سعودی عرب نے ایران کو یقین دلا دیا ہے کہ اُسکی فضائی حدود ایران کیخلاف استعمال نہیں ہونگی ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان عرب ممالک نے اپنی سرزمین پر امریکا کو فوجی اڈے بنانے کی اجازت کیوں دی؟ 1990ء میں عراق نے سعودی عرب پر حملہ کیا تو امریکا نے سعودی عرب کے دفاع کیلئے اپنی فوج وہاں بھیج دی، کئی دیگر عرب ممالک نے بھی اپنے دفاع کیلئے اپنی سرزمین پر فوجی اڈے قائم کرا دیئے۔ ان فوجی اڈوں کے رد عمل میں القاعدہ جیسی تنظیمیں پیدا ہوئیں۔ وقت گزرنے کے بعد عرب ممالک کو احساس ہو رہا ہے کہ امریکا اُن کے دفاع کی بجائے اسرائیل کے دفاع میں زیادہ دلچسپی رکھتا ہے ۔ اب کسی کو شک نہیں رہنا چاہئے کہ نتین یاہو اور ٹرمپ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مسلمانوں کو آپس میں لڑا رہے ہیں۔
ایران نے اپنے سستے ڈرون طیاروں کی مدد سے اسرائیل سمیت کچھ عرب ممالک میں امریکی ٹھکانوں پر جوابی حملے کئے جن کو روکنے کیلئے انتہائی مہنگے میزائل استعمال کئے گئے، لیکن یہ مہنگے میزائل تمام سستے ڈرون روکنے میں ناکام رہے۔ خلیج کے عرب ممالک میں بڑے نقصان کے علاوہ تیل کی قیمتوں اور سٹاک مارکیٹوں پر بہت منفی اثر پڑا ہے ۔یہ جنگ لمبی ہو گئی تو ٹرمپ کیساتھ ساتھ مسلم دنیا میں ان کے اتحادیوں کیلئے بڑی مشکلات کھڑی ہو سکتی ہیں۔ ایران میں ریجیم چینج کے خواب کی تعبیر کسی خلیجی ملک سے بھی برآمد ہو سکتی ہے۔ ایران کو خامنہ ای کی صورت میں ایک شہید مل گیا ہے جو کئی صدیوں تک امریکا کے خلاف نفرت کی علامت بنا رہیگا۔ نیتن یاہو اور ٹرمپ اس جنگ کو شیعہ سنی لڑائی بنانا چاہتے ہیں لیکن یہ جنگ کفر اور اسلام کی جنگ بن رہی ہے۔ اسرائیل اور امریکا کی کوشش ہے کہ ایران کے کرد اور بلوچ علیحدگی پسندوں کی مدد سے مسلمانوں کو مسلمانوں سے لڑادیں ۔ لیکن اگر یہ فارمولا ایران میں کامیاب ہو گیا تو کیا اسکے اثرات ترکی پاکستان اور خطے کے دیگر ممالک پر نہیں پڑیں گے؟
ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے بے نتیجہ کیوں رہیں گے؟
حامد میر کہتے ہیں کی انہوں نے رمضان المبارک میں قرآن کی کچھ سورتوں کا ترجمہ پڑھا تو سوچنے لگا کہ اس کتاب میں موجود ہدایات کے باوجود ہم رمضان میں ایک دوسرے سے کیوں لڑرہے ہیں؟ ہم اپنی تاریخ سے سبق کیوں نہیں سیکھتے؟ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ مسلمان کمزور ہونے کے باوجود متحد رہیں تو 313 کا لشکر ایک ہزار کے لشکر کو شکست دے سکتا ہے اور مسلمانوں کا اتحاد جنگ حطین کے ذریعہ بیت المقدس پر قبضہ ختم بھی کروا سکتا ہے۔ 2026ء کے رمضان المبارک میں صرف ایران پر نہیں دنیا بھر کے مسلمانوں پر صیہونی انتہا پسندوں نے ایک جنگ مسلط کی ہے۔ ہمیں یا تو اس جنگ کو روکنا ہے یا پھر متحد ہو کر اُن سے جنگ لڑنی ہے جن کا اصل مقصد بیت المقدس میں صیہونی عبادت گاہ بنانا ہے۔ یہ مقصد امریکی وزیر دفاع کی زبان سے ساری دنیا سُن چکی۔ یہ شخص صرف اسلام کا نہیں بلکہ سیکولرازم اور اقوام متحدہ کا بھی دشمن ہے۔ مسلمانوں کے پاس دفاع کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں۔ مسجد اقصیٰ کا تحفظ صرف فلسطینیوں اور ایران کی نہیں دنیا بلکہ بھر کے مسلمانوں کی ذمہ داری ہے۔
