عاصم منیر پاکستانی تاریخ کے طاقتور ترین فوجی سربراہ کیسے بنے؟

چیف آف ڈیفنس فورسز کا منصب سنبھالنے کے بعد آرمی چیف اور فیلڈ مارشل کے عہدوں پر فائز جنرل عاصم منیر کو پاکستانی تاریخ کا طاقتور اور بااختیار ترین فوجی سربراہ قرار دیا جا رہا ہے۔ فوجی ڈھانچے کی تنظیم نو اور تاحیات استثنیٰ نے انہیں ایسی طاقتور پوزیشن عطا کر دی ہے جو پہلے کسی فوجی سربراہ کے پاس موجود نہیں تھی۔
27ویں آئینی ترمیم کے نتیجے میں فوجی اختیارات کی نئی تقسیم نے طاقت کے توازن کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیا ہے۔ اس ترمیم کے تحت فیلڈ مارشل عاصم منیر کو نہ صرف تاحیات استثنیٰ مل چکا ہے بلکہ تینوں مسلح افواج یعنی بری، بحری اور فضائی کی متحدہ کمان بھی ان کے سپرد کر دی گئی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان کے اختیارات جنرل پرویز مشرف سے بھی بڑھ چکے ہیں، مشرف جنہوں نے 1999 میں نواز شریف کو ہٹا کر اقتدار سنبھالا تھا۔ اس مرتبہ فرق یہ ہے کہ جنرل عاصم منیر کو اتنے وسیع اختیارات دلوانے میں خود مسلم لیگی حکومت اور نواز شریف نے بنیادی کردار ادا کیا ہے۔
آئین کے آرٹیکل 243 اور تینوں سروسز ایکٹس میں ترامیم نے فوجی سٹرکچر اور ملٹری کمانڈ اینڈ کنٹرول کا مرکز بدل دیا ہے، جس کے نتیجے میں آرمی چیف یعنی چیف آف ڈیفنس فورسز تمام دفاعی فیصلوں کے واحد محور بن گئے ہیں۔ ملٹری ری سٹرکچرنگ کے نتیجے میں اب جنرل عاصم منیر تینوں افواج کے درمیان تعاون، مشترکہ منصوبہ بندی، آپریشنز اور کمانڈ کے حوالے سے فیصلہ کن اختیار رکھتے ہیں۔ عسکری حلقوں کا کہنا ہے کہ جدید جنگوں میں رفتار، ٹیکنالوجی اور ملٹی ڈومین آپریشنز نے روایتی ڈھانچوں کو غیر مؤثر بنا دیا تھا، کیونکہ سائبر جنگ، خلا میں مقابلہ، ڈرونز اور اطلاعاتی محاذ ایسے چیلنج ہیں جو علیحدہ علیحدہ فورسز کی حدود کو قبول نہیں کرتے۔ اسی لیے ایک مربوط اور مؤثر ملٹری نظام ناگزیر ہو چکا تھا۔ ان کے مطابق آرمی ایکٹ میں حالیہ ترامیم نے اختیارات کو ترتیب دیتے ہوئے واضح خطوط پر منظم کر دیا ہے، یوں کنفیوژن دور ہو گیا ہے۔
چیف آف دی ڈیفنس فورسز اور فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر پاکستان کی تاریخ کے اُن فوجی رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنے عسکری کیریئر کے دوران نہ صرف میدانِ جنگ بلکہ خفیہ امور، انتظامی اصلاحات اور قومی سلامتی کے حساس ترین محاذوں پر نمایاں قیادت پیش کی۔ اُن کی کامیابیوں اور اعزازات نے انہیں ایک منفرد، مضبوط اور ہمہ جہت سپہ سالار کے طور پر متعارف کروایا ہے۔ جنرل عاصم منیر 1968 میں راولپنڈی میں پیدا ہوئے، اُن کے والد ایک استاد تھے۔ عاصم منیر نے کم عمری میں قرآن حفظ کیا اور ابتدائی تعلیم بھی راولپنڈی میں ہی مکمل کی۔ 1986 میں انہوں نے منگلا کے آفیسرز ٹریننگ سکول سے کمیشن حاصل کیا اور دورانِ تربیت شاندار کارکردگی پر اعزازی تلوار حاصل کی، جو ان کی اعلیٰ پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا اولین اعتراف تھا۔ بعد ازاں انہوں نے جاپان کے Fuji School، ملائشیا کے Armed Forces College اور پاکستان کی نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی سے اعلیٰ عسکری و تعلیمی تربیت حاصل کی۔
اپنے کیریئر کے دوران جنرل عاصم منیر نے کئی اہم ترین عہدوں پر خدمات سرانجام دیں جن میں فورس کمانڈر نادرن ایریاز، کور کمانڈر گوجرانوالہ، اور جنرل ہیڈ کوارٹرز میں کوارٹر ماسٹر جنرل کے مناصب شامل ہیں۔ وہ پاکستان کی تاریخ کے پہلے اور واحد فوجی سربراہ ہیں جنہوں نے بیک وقت دونوں بڑے خفیہ اداروں یعنی ملٹری انٹیلی جینس اور انٹر سروسز انٹیلی جینس کی سربراہی کی۔ 29 نومبر 2022 کو انہیں پاکستان آرمی کا 17واں چیف آف آرمی اسٹاف مقرر کیا گیا، جبکہ مئی 2025 میں انہیں اعزازی فیلڈ مارشل کا عہدہ تفویض کیا گیا۔
بھارت کے خلاف ’معرکۂ حق‘ ایک فیصلہ کن آپریشن تھا جس میں 9 اور 10 مئی 2025 کی درمیانی رات پاکستان نے بھارت کو مختلف محاذوں پر شدید نقصان پہنچایا اور اسے ناکامی سے دوچار کیا۔ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے ماحول میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مداخلت کرتے ہوئے جنگ بندی کرائی۔ حکومت نے اس معرکے میں جنرل عاصم منیر کی فیصلے سازی، جنگی حکمت عملی اور عملی قیادت کے اعتراف میں انہیں فیلڈ مارشل کا عہدہ عطا کیا۔ ان کی قیادت میں شمالی اور جنوبی سرحدی علاقوں کی سیکیورٹی مؤثر انداز میں مضبوط ہوئی، دہشت گردانہ کارروائیوں میں کمی آئی اور ملکی سطح پر عوامی اعتماد بحال ہوا۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے عالمی سطح پر پاکستان کا مؤقف مؤثر طور پر پیش کیا اور دفاعی سفارت کاری کو نئی سمت دی۔ ان کی زیرِ نگرانی پاکستان کی فوج نے اپنی دفاعی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کیا، جدید ڈرون پروگراموں اور میزائل ڈیفنس سسٹمز کو وسعت دی، فضائی صلاحیتوں کو اپ گریڈ کیا اور ہائی ٹیک وار فیئر کے مختلف شعبوں میں اہم پیش رفت کی۔ اس کے علاوہ بارڈر مینجمنٹ اور ڈیجیٹل نگرانی کے نظام کو بھی جدید خطوط پر مستحکم بنایا گیا۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ چیف آف ڈیفنس فورسز اور فیلڈ مارشل عاصم منیر مستقبل میں پاکستان کو دفاعی، تزویراتی اور علاقائی سطح پر کس سمت لے کر جاتے ہیں اور ملک کو کس طرح نئی بلندیوں تک پہنچاتے ہیں۔
