بشریٰ عرف پنکی پیرنی نے عمران کی سیاست کا جنازہ کیسے نکالا؟

فائنل احتجاج سے قبل ہی بشری بی بی نے پی ٹی آئی کی سیاست کا جنازہ نکال دیا۔سعودی عرب بارےبشریٰ بی بی کے بیان پر پی ٹی آئی دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور ہو گئی۔ جہاں ایک طرف عمران خان نے اپنی مرشد اہلیہ بشری بی بی کو سیاست سے روک دیا ہے وہیں دوسری جانب پی ٹی آئی قیادت نے پنکی پیرنی کے دعوے سے اعلان لاتعلقی کر دیا ہے تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ پی ٹی آئی قیادت اب بشری بی بی کے بیان سے اظہار لا تعلقی کر رہی ہے تاہم حقیقت یہ ہے کہ بشری بی بی ایک منصوبے کے تحت پی ٹی آئی کی احتجاجی کال کو مذہبی ٹچ دینا چاہ رہی تھیں جو پی ٹی آئی کے گلے پڑ گیا ہے۔

اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سینیئر صحافی اور نون لیگی سینیٹر عرفان صدیقی کا کہنا ہے کہ بشریٰ بی بی نے جو کچھ کہا وہ مکمل تیاری اور سوچا سمجھا منصوبہ ہے۔ تاہم  حقیقت یہ ہے کہ بشریٰ بی بی جیسے بیان کی نظیر پی ٹی آئی کی فتنہ و فساد سے بھری تاریخ میں بھی نہیں ملتی۔انہوں نے کہا کہ دوست ممالک کو ناراض کرکے پاکستان سے دور کرنا بانی پی ٹی آئی کی سیاست کا حصہ رہا ہے، ’خان نہیں تو پاکستان نہیں ‘ کا نعرہ سائفر والے امریکہ سے ہوتا ہوا مکہ ومدینہ کی مقدس سرزمین تک آ پہنچا ہے۔

عرفان صدیقی کا مزید کہنا تھا کہ بشریٰ بی بی نے ننگے پاؤں اور مدینہ کے نام پر لوگوں کے مذہبی جذبات سے کھیلتے ہوئے یہ بھی نہ سوچا کہ ایک عظیم دوست اسلامی ملک پر کتنا گھناؤنا اور شرانگیز الزام لگایا جا رہا ہے۔

تجزیہ کاراعزاز سید نے کہا کہ بشریٰ بی بی کو اپنے بیان سے ہونے والے مضمرات اور اثرات کابالکل کوئی آئیڈیا نہیں ہے، بیان میں ایک اسلامی ٹچ دینے کی کوشش کی گئی جو پی ٹی آئی کے گلے پڑ گیا۔ بشری بی بی چاہتی تھیں کہ 24نومبر کو مظاہرین اس اعتماد کے ساتھ آئیں کہ اس احتجاج کی مذہبی اہمیت بھی ہےکہ وہ ایک ایسے بندے کے لئے احتجاج کررہے ہیں جو شریعت نافذ کرنا چاہتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ بشریٰ بی بی کے بیان پر ہر سطح پر بڑی ناپسندیدگی کا اظہار کیا گیا ہے، پی ٹی آئی کو ا س کا سیاسی نقصان ہوگا

کچھ مبصرین یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ بانی پی ٹی آئی نے کون سی شریعت نافذ کر رکھی تھی جس کے باعث سعودی عرب ان سے خطرہ محسوس کر رہا تھا۔پی ٹی آئی والے لاکھ کہیں کہ بشریٰ بی بی کے پاس کوئی پارٹی عہدہ نہیں اس لیے انکے بیان کی کوئی حیثیت نہیں لیکن اس امر میں کیا اشتباہ ہے کہ وہ بانی پی ٹی آئی کی شریک حیات ہیں انکا یہ بیان سفارت کاروں کے ذریعے لازماً سعودی حکمرانوں تک پہنچے گا ۔سعودیوں کی طرف سے سوالات بھی اٹھیں گے کہ ہم نے یہ کب کہا ہے کہ ہم شریعت کا نظام ختم کرنے پر لگے ہوئے ہیں؟ بانی پی ٹی آئی جب برسراقتدار تھے تب بھی انہوں نے سعودی عرب کی اسلامی قیادت کے بالمقابل ایران اور ترکی سے مل کر ملیشیا کی اسلامی کانفرنس میں جو کردار ادا کرنا چاہا تھا جب سعودیوں نے اس پر سوال اٹھایا تو انہیں فوری اپنے منفی کردار اور باتوں سے مکرنا اور یوٹرن لینا پڑاتھا،اسی طرح سعودی کراؤن پرنس کے جہاز میں نیویارک جاتے ہوئے انہوں نے جو زبان استعمال کی اس پر بھی انہیں نقصان اٹھانا پڑا۔ ناقدین کے مطابق اپنے اناڑی پن کی وجہ سے آج عمران خان بے بسی کی اس حالت میں پہنچ گئے ہیں اوراگر کوئی کسر رہ گئی تھی تو وہ بشریٰ بی بی کے بیانات سے پوری ہو جائیگی ۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بشریٰ بی بی کے اس بیان سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ پاکستان کی اندرونی سیاست کے لیے دیگر ممالک سے تعلقات کو استعمال نہیں کرنا چاہیے۔بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بشریٰ بی بی کے اس بیان سے مسلکی اختلاف کا تاثر ابھر کر آ رہا ہے اور اس سے پی ٹی آئی نے مذہبی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی۔بشریٰ بی بی کے اس بیان سے نظر آ رہا ہے کہ یہ معاملہ صرف سفارتی تعلقات کا نہیں بلکہ اس کے ذریعے ملک میں مسلکی لڑائی پھیلانے کی کوشش کی گئی ہے۔

بعض تجزیہ کاروں کے مطابق عمران خان اپنی اہلیہ کے ذریعے مذہبی ووٹ بینک بڑھانا چاہتے ہیں۔ ساتھ ہی لگتا ہے کہ وہ سعودی عرب پر دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں۔عمران خان کو اندازہ ہے کہ سعودی عرب ایسا ملک ہے جو اگر دباؤ ڈالے تو پاکستان میں اسے سنا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ وہ مذہبی طبقات کی ہمدردی بھی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے بقول ماضی میں شیر افضل مروت نے بھی سعودی عرب کے بارے میں بات کی تھی۔ لیکن انہیں ٹف ٹائم کا سامنا کرنا پڑا اور اب وہی بات بشریٰ بی بی نے کی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ پارٹی کے اندر یہ سوچ موجود تھی جس کا اظہار اب کیا جا رہا ہے۔

خیال رہے کہ شیر افضل مروت نے کچھ عرصہ قبل ایک بیان میں الزام عائد کیا تھا کہ عمران خان کی حکومت گرانے میں سعودی عرب کا بھی ہاتھ تھا۔ بعدازاں عمران خان اور تحریکِ انصاف نے اس بیان سے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا۔

Back to top button