بشریٰ بی بی نے عمران کے کان بھر کر گنڈاپور کی چھٹی کیسے کروائی؟

عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی کے تحفظات اور ان کے قریبی ساتھیوں کی شکایات پر گنڈاپور کی چھٹی کروائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق 26 نومبر کے دنگا فساد کے بعد بشری بی کے عتاب کا نشانہ بننے والے علی امین گنڈاپور کے خلاف ماضی قریب میں بننے والےگروپ میں شامل افراد نے جیل میں عدالتی سماعتوں کے دوران بانی پی ٹی آئی کے سامنے شکایات لگائیں۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ علی امین گنڈا پور کے خلاف عمران خان کو مبینہ شکایات لگانے والوں میں عاطف خان، شکیل خان، جنید اکبر اور مشال یوسفزئی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ قاضی انور ایڈووکیٹ اور دیگر وکلاء نے بھی مبینہ طور پر علی امین گنڈا پور کے خلاف شکایت لگانے والوں کاحصہ تھے۔ ذرائع کے مطابق ان افراد کو عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی کی مکمل تائید اور حمایت حاصل تھی۔ جس کے بعد عمران خان نے فوری علی امین گنڈاپور کو پارٹی صدارت سے ہٹانے کا فیصلہ کیا۔ذرائع کے مطابق عمران خان علی امین گنڈا پور کو اپنی توجہ خیبر پختونخوا میں گورننس اور دہشتگردی پر مرکوز رکھنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔

مبصرین کے مطابق پاکستان تحریک انصاف خیبرپختونخوا کی صوبائی صدرات وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور سے واپس لے کر ان کے مخالف گروپ کے جنید اکبر خان کو دینے کے بعد خیال کیا جارہا ہے کہ پارٹی معاملات سے علی امین کو دور کرنے کے بعد ان کی پوزیشن کمزور ہوگئی ہے۔ پی ٹی آئی کے نظریاتی حلقوں کا دعوی ہے کہ علی امین گنڈاپور کو ان کی خراب کارکردگی اور کارکنوں کی ناراضی کی وجہ سے ہٹایا گیا۔پارٹی کے ایک سینیئر رہنما نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ سب کچھ ایک دن میں نہیں ہوا بلکہ علی امین گنڈاپور کی چھٹی کے حوالے سے بات کافی دنوں سے چل رہی تھی اور پھر عمران خان نے حتمی فیصلہ کرلیا۔  پی ٹی آئی رہنما کے مطابق ہمارے لئے’بڑا ایشو یہ ہے کہ عمران خان تک ہر ایک کی رسائی نہیں ہے جس کی وجہ سے ان تک سچ نہیں پہنچ رہا تھا جبکہ علی امین اور دیگر ان کے حمایتی سب اچھا کی رپورٹ دیتے تھے۔‘انہوں نے بتایا کہ بشریٰ بی بی کی رہائی اور پشاور میں ان کے قیام کے دوران صورت حال خراب ہوئی اور علی امین گنڈاپور کی پالیسیوں پر سوالات اٹھنے لگے۔

ایک اور رہنما نے بھی یہی بات کی اور بتایا کہ بشریٰ بی بی جب پشاور آئیں تو کارکنان خصوصاً یوتھ رہنماؤں ان سے ملاقات کی اور علی امین گنڈاپور کے خلاف شکایات کے انبار لگائے۔ جبکہ اسلام آباد مارچ کے دوران بھی دونوں میں اختلافات پیدا ہوئے اور یہ سب باتیں عمران خان تک پہنچ گئیں۔ ’جب عمران خان تک باتیں پہنچنے لگیں تو علی امین کے کاغذات خراب ہوگئے اور آخر وہ صدرات سے محروم ہوگئے۔‘

کیا مولانا اور عمران مل جل کر شہباز کو ٹف ٹائم دے پائیں گے؟

سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اب علی امین گنڈاپور کی 8 فروری سے پہلے والی حثیت نہیں ہے۔ علی امین کی پوزیشن پارٹی میں اب بہت کمزور ہے۔’وزیراعلیٰ بننے سے پہلے علی امین ہیرو تھے، کارکنان ان کے ساتھ تھے۔ جس کے باعث یہ دبنگ لیڈر تھے لیکن اب ان پر پرو اسٹیبلشمنٹ کی مہر لگ چکی ہے اور وہ پہلے سے بہت کمزور ہو چکے ہیں۔ مبصرین کے مطابق جنید اکبر کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین اور صوبائی صدر بنانے سے عاطف خان گروپ مزید مضبوط ہوگیا۔ اب آگے پارٹی تنظیم میں مزید تبدیلیوں کا بھی امکان ہے جس میں علی امین گنڈاپور کا کردار انتہائی کم ہوگا۔ جبکہ عمران خان نے ناقص کارکردگی کے حامل گنڈاپور کے قریبی وزراء کو بھی ہٹانے کی ہدایات جاری کر دی ہیں جس کے بعد وزیر اعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کا کڑاکا نکل جائے گا۔

Back to top button