بشری بی بی کے ہاتھوں عمران خان کے پھدو بننے کی کہانی

 

برطانوی جریدے دی اکانومسٹ کی خصوصی رپورٹ کی شریک مصنفہ پاکستانی صحافی بشریٰ تسکین نے ایک انٹرویو میں دعوی کیا ہے کہ عمران خان بطور وزیراعظم اپنی تیسری اہلیہ بشریٰ بی بی کی کٹھ پتلی بن چکے تھے جو کہ روحانی بصیرت کے نام پر ان سے تمام اہم فیصلے کروایا کرتی تھیں۔ بشریٰ تسکین کے مطابق، انٹر سروسز انٹیلی جنس کا ایک افسر مخصوص ایجنڈے پر مبنی معلومات خاتون اول تک پہنچاتا تھا جنہیں وہ “روحانی اشاروں” کے طور پر عمران خان کے سامنے پیش کرتی تھیں۔ اور یہ جعلی روحانیت ایک جوہری ملک کے وزیراعظم کے فیصلوں کی بنیاد بنتی رہی۔

معروف برطانوی صحافی اوون بینٹ جونز کے ساتھ اکانومسٹ کے لیے لکھی جانے والی رپورٹ کی شریک مصنفہ بشری تسکین نے بتایا کہ ان کی تحقیق کے دوران سامنے آنے والی معلومات حیران کن تھیں، خاص طور پر بشریٰ بی بی کا “روحانی لبادہ” اور وہ طریقہ واردات جس سے انہوں نے عمران خان پر کنٹرول حاصل کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کنٹرول کے نتیجے میں عمران خان کے سیاسی وعدے صرف کاغذی بن کر رہ گئے، یعنی بطور وزیراعظم عمران اپنے وعدوں پر عمل کرنے کی بجائے عملیات کے گھن چکر میں الجھ کر رہ گئے تھے۔

صحافی بشری تسکین کا کہنا تھا کہ بشریٰ بی بی کا اثر و رسوخ صرف ذاتی نہیں بلکہ سرکاری اور سیاسی معاملات میں بھی نمایاں تھا۔ ان کے مطابق، روزانہ کے حکومتی معاملات، تقرریاں اور تبادلے، ملاقاتیں، یہ سب کچھ “روحانی علم اور جادو” کی بنیاد پر ہو رہا تھا۔ انہوں نے یہ سوال اٹھایا کہ آیا ایک جوہری ملک، جس کی آبادی کروڑوں میں ہو، اس کا لیڈر ایسے غیر روایتی اور روحانی بنیادوں پر فیصلے لے سکتا ہے، اور یہ حقیقت فوجی قیادت بشمول آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوا کے لیے بھی تشویش کا باعث تھی۔ تاہم عمران خان نے بشری بی بی کو اپنی ریڈ لائن قرار دے رکھا تھا اور وہ ان کے خلاف کوئی بات نہیں سننا چاہتے تھے۔ لیفٹنٹ جنرل عاصم منیر کو بطور آئی ایس آئی سربراہ بھی اسی لیے ہٹایا گیا کیونکہ انہوں نے وزیر اعظم سے خاتون اول کی مبینہ کرپشن کے حوالے سے شکایت کی تھی۔

بشری تسکین اور ان کی ٹیم نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ کی تیاری کے دوران پی ٹی آئی کے سینئر ارکان، وزرا اور پارلیمنٹیرینز سے رابطہ کیا، جنکی اکثریت نے کہا کہ عمران خان کی ناکامی کی بنیادی وجہ ان کی تیسری اہلیہ کی فیصلہ سازی میں مداخلت تھی، نہ کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کی سیاسی مداخلت۔ صحافی بشری تسکین نے کالے جادو اور روحانی اثرات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ بشریٰ بی بی کی شادی کے وقت جمائمہ خان کی ایک ٹوئٹ میں کالے جادو کا ذکر تھا، مگر بین الاقوامی میڈیا نے اس پہلو کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ ان کے مطابق پاکستان میں روحانیت اور کالے جادو کے معاملات عام ہیں، مگر انہیں اس حوالے سے دی اکانومسٹ کے لیے تحقیقاتی رپورٹ لکھتے ہوئے واضح ثبوت حاصل کرنا پڑے جس کے بعد وہ انٹرنیشنل آڈینس کو یہ بات سمجھانے میں کامیاب ہوئیں۔

صحافی بشری تسکین کا کہنا تھا کہ بشریٰ بی بی کے پاس “انٹیلی جینس ذرائع” تھے جو انہیں حساس اندرونی معلومات فراہم کرتے تھے، ان معلومات کی بنیاد پر وہ عمران کو اپنی روحانی بصیرت سے متاثر کرتے ہوئے “صحیح” راستہ دکھاتی تھیں۔ یہ سلسلہ تقرریوں، تبادلوں اور ملاقاتوں تک پھیلا ہوا تھا، اور ان سب کو “جادو اور علم” کی بنیاد پر چلایا جاتا تھا۔ خاتون صحافی نے کہا کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد پہلی مرتبہ پچھلے برس  بشری ایک بڑا عوامی مجمع اکٹھا کرنے میں کامیاب ہو گئی لیکن اپنی سیاسی ناپختگی کی وجہ سے انہوں نے یہ موقع گنوا دیا اور اب وہ خود جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں۔ بشری تسکین کے الفاظ میں بشریٰ بی بی پانی کے بلبلے کی طرح تیزی سے ابھریں اور پھر اسی تیزی سے غائب ہو گئیں۔

دی اکانومسٹ کی رپورٹ پر پی ٹی آئی نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ پارٹی کی میڈیا ونگ کا کہنا ہے کہ یہ رپورٹ “جھوٹا پروپیگنڈا” ہے اور اس کا مقصد عمران خان کی سیاسی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے۔ صحافی بشری تسکین نے اس ردعمل کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ان کی رپورٹ سچ پر مبنی ہے اور ان کا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ان کی تحقیق کا صرف ایک ہی مقصد تھا کہ حقیقت جانی جا سکے۔ اگرچہ پی ٹی آئی نے دی اکانومسٹ کی رپورٹ کی تردید کی ہے، لیکن برطانوی جریدے میں کیے گئے انکشافات کی نوعیت اور دیے گے شواہد نے اسے ملک بھر میں موضوع بحث بنا دیا ہے۔

Back to top button