عمرانی انتشار نے اسٹیبلشمنٹ کو 27ویں ترمیم پر کیسے مجبور کیا؟

پاکستانی فیصلہ سازوں کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے فوج کا کردار مضبوط کرنے اور عدلیہ کو لگام ڈالنے کی اصل وجہ وہ سیاسی انتشار ہے جس کی بنیاد عمران خان اور تحریکِ انصاف نے ڈالی۔ طاقت کے مراکز کے درمیان عدم اعتماد، اداروں پر دباؤ، اور سسٹم کو یرغمال بنانے کی روش نے پاکستان کو اُس موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں اب نظام کو بچانے کے نام پر طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ کو مزید طاقت دینے کا عمل جاری ہے۔
معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار عاصمہ شیرازی نے بی بی سی اردو کے لیے اپنی تحریر میں پاکستان کے بدلتے ہوئے آئینی، عدالتی اور سیاسی منظر نامے کا تنقیدی جائزہ پیش کیا ہے۔ عاصمہ شیرازی لکھتی ہیں کہ پاکستان اس وقت ایسے جمود کا شکار ہے جو ہوا کے رک جائے اور حبس بڑھ جانے سے پیدا ہوتا ہے۔ انکا کہنا ہےکہ یہ جمود ٹوٹے گا تو پاکستان کا سفر آگے بڑھے گا، مگر سوال یہ ہے کہ اب یہ جمود توڑے گا کون اور کیسے؟
سینیئر اینکر پرسن کہتی ہیں کہ جو لوگ کل تک جمہوریت کے چیمپیئن بنے ہوئے تھے آج وہ سمجھوتے کو جمہوریت بنا کر پیش کر رہے ہیں، اور جو آج جمہوریت کے محافظ بنے بیٹھے ہیں وہ عمران خان کے دور حکومت میں تشکیل دیے گئے اسی ہائبرڈ نظام کی پیداوار تھے۔ یعنی چہرے بدل گئے ہین مگر مصلحتیں نہیں بدلیں۔ وہ لکھتی ہیں کہ 27ویں آئینی ترمیم نے آئین کے ڈھانچے میں بڑی تبدیلی کی ہے، اگرچہ آئینی ترامیم کا اختیار پارلیمان کے پاس ہے، مگر سینیٹ میں عددی اکثریت نہ ہونے کے باوجود بڑے پیمانے پر آئینی ترامیم پاس کرانا کسی طور درست نہیں تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ 27 ویں آئینی ترمیم کے بعد ایک نئی عدلیہ وجود میں آگئی ہے۔ اب ایک ایسی آئینی عدالت تشکیل دی گئی ہے جو انتظامیہ کے زیراثر ہے۔ پچھلے چند برسوں سے عمران خان کا سیاسی ایجنڈا لے کر چلنے والے جج حضرات خود ہی استعفے دے کر گھروں کو چلے گئے ہیں۔ ماضی میں بھی عدالتیں کبھی فوج اور کبھی سماجی فسطائیت کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑی رہیں۔
جسٹس منیر سے عطا بندیال تک اس ملک میں جو کچھ ہوتا رہا وہ سب کے سامنے ہے۔ جج کا کالا چولا پہلے منیر اور بندیال جیسے کرداروں نے اپنے ذاتی فائدے کے لیے اسٹیبلشمنٹ کا ساتھ دیا۔ شیرازی پاکستانی عدلیہ کا بھیانک چہرہ بے نقاب کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ کبھی تو ہماری سپریم کورٹ نے ایک منتخب وزیراعظم کو تختہ دار پر چڑھا دیا اور کبھی آئین شکن فوجی جرنیل کو من مرضی کی آئینی ترامیم کرنے کی اجازت دی۔ اسی سپریم کورٹ کے ججز نے کروڑوں عوام کے منتخب وزرائے اعظم کو گھر بھیجا۔ چنانچہ اس ملک میں کبھی بھی طاقتور مایوس نہیں ہوئے، اگر مایوس ہوا ہیں تو عوام اور جمہوریت پر یقین رکھنے والے۔
سینیئر اینکر پرسن کے مطابق موجودہ نظام یہ سمجھتا ہے کہ پروجیکٹ عمران کے لیے فوج نے میڈیا میں نقب لگائی، عدلیہ کی تشکیلِ نو کی، اور ہائبرڈ نظام کو مضبوط کیا۔ اب جب پروجیکٹ عمران ناکام ہونے کے بعد لپیٹا جا رہا ہے تو انتظامیہ کے بعد عدلیہ اور پھر میڈیا کو بھی پاک کرنے کا عمل شروع ہوگا۔ وہ خبردار کرتی ہیں کہ جب کسی نظام کو ہائبرڈ کی عادت پڑ جائے تو پھر پروجیکٹ کے خاتمے کے بعد آزاد آوازوں کو بھی نکال باہر کرنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اور اج بھی ایسا ہی ہو رہا ہے۔ اس دوران سیاست میں اختلاف کی وہ تھوڑی بہت گنجائش جو عمران خان کے دور میں ختم کر دی گئی تھی، اب مزید سمٹ رہی ہے۔ ان سب پابندیوں کا بنیادی مقصد ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہے جہاں نہ مکالمہ رہے اور نہ اختلاف، صرف ایک آواز ہو اور ایک بیانیہ ہو۔
عاصمہ کے بقول میڈیا پہلے ہی نیم مردہ ہے۔ آزاد آوازیں دبائی جا چکی ہیں، جو بچے ہیں اُن پر گلا گھونٹنے کا دباؤ ہے کہ وہ کسی ایک کیمپ کا حصہ بن جائیں۔ سوشل میڈیا پر حالت یہ ہے کہ لوگ گالم گلوچ سے بچنے کے لیے اپنی عزت کی حفاظت کرتے پھرتے ہیں۔ عاصمہ شیرازی لکھتی ہیں کہ آج بڑے بڑے سینئر صحافی خوفزدہ ہیں۔ وہ دہشت گردی، عالمی سیاست اور جمہوریت پر لکھنے سے بھی گریز کرتے ہیں۔
حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ آزادی اظہار کا دائرہ سکڑتا جا رہا ہے اور گالیاں دینے والے پلیٹ فارم پھل پھول رہے ہیں۔ اس کی ایک حالیہ مثال ’اکانومسٹ‘ کے آرٹیکل کے بعد سامنے آئی جب سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ کے بارے میں رپورٹ شائع ہونے پر سوشل میڈیا میں مغلظات کا طوفان برپا ہو گیا۔
کہیں "زومبیز” کیمرہ لیے صحافیوں کو ہراساں کرتے نظر آئے، تو کہیں ٹرولنگ کی شدت نے فضا کو مزید آلودہ کیا۔
سینیئر اینکر پرسن کہتی ہیں کہ پاکستان میں ریاستی امور ہمیشہ طاقت کے مراکز کے زیراثر چلائے گئے ہیں اور اس روش نے ملک کو سخت نقصان پہنچایا ہے۔ لیکن افسوس کہ آج بھی ریاست اسی شکنجے میں پھنسی ہے۔ عاصمہ شیرازی یاد دلاتی ہیں کہ انہوں نے اس نظام پر سوال تب اٹھایا تھا جب کوئی اور ایسا کرنے کا تصور بھی نہیں کرتا تھا، لیک آج بھی انہیں شدید ٹرولنگ کا سامنا ہے۔ لیکن سوال اٹھانا ان کا فرض ہے اور وہ یہ فرض نبھاتی رہیں گی۔ آخر میں وہ لکھتی ہیں کہ نظام ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ کو شخصی ضمانتیں اور قانونی تحفظات مل چکے ہیں۔ لیکن جب تک مکالمے کا دروازہ نہیں کھلے گا، کوئی نیا پروجیکٹ پاکستان کو آگے نہیں لے جا سکتا۔
