فیض حمید اور عمران کے 10 سالہ اقتدار کا خواب کیسے ٹوٹا؟

 

 

 

سیاست میں مداخلت کے الزام پر کورٹ مارشل کا شکار ہونے والے جنرل فیض حمید نے اپنے سیاسی کردار کے بل بوتے پر پراجیکٹ عمران خان کو حتمی شکل دیتے ہوئے انہیں 2018 میں وزیر اعظم تو بنوا دیا تھا لیکن عجیب اتفاق ہے کہ آج یہ دونوں دوست سزائیں پانے کے بعد قید میں ہیں اور ان کا ملک پر دس برس تک حکمرانی کرنے کا مشترکہ خواب بکھر چکا ہے۔

 

معروف لکھاری اور تجزیہ کار رؤف کلاسرا اپنے تجزیے میں بتاتے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان کے ماسکو کے سرکاری دورے سے واپسی کے بعد، ان کے وفد میں شریک صحافی حیران کن طور پر یہ کہتے پائے گئے کہ فیض حمید مستقبل کے صدر پوٹن ہیں۔ اس تاثر کی وجہ جاننے پر معلوم ہوا کہ ماسکو کے سیاسی ماحول اور روس کے صدارتی نظام حکومت نے ان کی سوچ پر گہرا اثر ڈالا تھا، جس کے بعد فیض حمید نے پوٹن کی طرح صدر بننے کا خواب دیکھنا شروع کر دیا تھا۔

 

رؤف کلاسرا کہتے ہیں کہ فیض حمید اپنے اس خواب کی تعبیر کے لیے جو منصوبے بنا رہے تھے وہ بظاہر حیران کن تھے۔ فیض حمید کے خیال میں ان کی پوٹن کے ساتھ مماثلت یہ تھی کہ ان دونوں کا تعلق خفیہ ایجنسیوں سے تھا اور دونوں اس میدان میں مہارت رکھتے تھے۔ فیض کا خیال تھا کہ جیسے سوویت یونین ٹوٹنے کے بعد پوٹن نے روس کو نہایت محنت اور ذہانت سے دوبارہ ایک عالمی طاقت بنایا، اسی طرز پر وہ بھی پاکستان کو ایک مضبوط اور طاقتور ریاست میں تبدیل کر دیں گے، بطور آئی ایس آئی چیف موصوف نے اس کے الٹ پالیسیاں اختیار کیں اور پاکستان کے لیے عالمی منظر نامے پر مسائل کھڑے کر دیے۔ فیض حمید نہ صرف انتہائی ذہین اور متحرک جنرل تھے بلکہ ’پراجیکٹ عمران خان‘، جنرل قمر باجوہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع، اور نواز شریف حکومت کے خاتمے اور انہیں جیل بھجوانے کا تمام تر کریڈٹ بھی جنرل فیض حمید کو دیا جاتا تھا۔

 

رؤف کلاسرا کے مطابق فیض حمید کے مداحوں کا کہنا تھا کہ عمران خان دور کے آرمی چیف جنرل قمر باجوہ محض ایک چہرہ تھے جبکہ انکے پیچھے موجود اصل حکمتِ ساز ذہن فیض حمید ہی کا تھا، جسے ایک ایسے سپائی ماسٹر کے طور پر پیش کیا جاتا تھا جس نے زرداری اور شریف خاندانوں کی سیاست کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی تھیں۔ ان کے نزدیک فیض حمید جیسا شاطر جرنیل پاکستانی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں آیا تھا اور یہ باور کرایا جاتا تھا کہ اگر ریاست کو سپر پاور بنانا ہے تو یہ کام صرف فیض حمید ہی کر سکتے ہیں۔

 

کلاسرا کہتے ہیں کہ یہ تمام باتیں انہوں نے ان صحافیوں سے سنی تھیں جو یا تو فیض حمید سے براہِ راست میل جول رکھتے تھے یا ان کے قریبی افسران کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھے۔ جب ان سے یہ سوال کیا جاتا کہ ایک حاضر سروس جنرل کس طرح پوٹن بن سکتا ہے تو اس کی توجیہ بھی پیش کی جاتی تھی۔ ان حلقوں کے مطابق مستقبل میں ملک میں صدارتی نظام متعارف کروایا جائے گا اور فیض حمید بھی جنرل ایوب خان، جنرل ضیاء الحق یا جنرل پرویز مشرف کی طرح ریاست کے سربراہ ہوں گے۔ انکا کہنا تھا کہ اگر صدارتی نظام نہ بھی آیا تو ایک متبادل منظرنامہ بتایا جاتا تھا جس میں عمران خان دوبارہ وزیراعظم بنیں گے، فیض حمید آرمی چیف ہوں گے جبکہ ایک سابق ڈی جی آئی ایس پی آر کو ڈی جی آئی ایس آئی تعینات کر دیا جائے گا۔ ان کے بقول اس کے بعد ملک میں ترقی کا نیا دور شروع ہو جانا تھا۔

 

اسکے علاوہ یہ بھی کہا جاتا تھا کہ فیض حمید آرمی چیف کے عہدے سے ریٹائر ہونے کے بعد بھی گھر نہیں جائیں گے بلکہ مستقل اختیارات کے ساتھ اقتدار میں موجود رہیں گے۔ اسی سوچ کے تحت پی ٹی آئی کے بعض وزرا ٹی وی ٹاک شوز میں یہ دعویٰ کرتے نظر آتے تھے کہ وہ کم از کم دس سال تک اقتدار میں رہیں گے اور انہوں نے اس حوالے سے جامع حکمت عملی تیار کر رکھی ہے۔ کلاسرا بتاتے ہیں کہ ایک ٹی وی شو میں ان کے ساتھ ایک وفاقی وزیر موجود تھے، جن کے خلاف وہ سکینڈلز فائل کر رہے تھے۔ اس وزیر نے عمران حکومت کے دوران اپنے ایک دوست کو پشاور میں 80 ملین ڈالرز کا ٹھیکہ دلوایا تھا اور خود بھی اسلام آباد میں اسی دوست کے گھر مقیم تھے۔ اس وفاقی وزیر کا مؤقف یہ تھا کہ ان سکینڈلز سے ان کی سیاسی حیثیت پر کسی قسم کا اثر نہیں پڑے گا۔ تاہم جیسے ہی عمران خان کی حکومت ہوئی، وہی وزیر سب سے پہلے لاہور پہنچ کر جہانگیر ترین اور علیم خان کی سیاسی جماعت سے وفاداری کا حلف لیتے نظر آئے۔ رؤف کلاسرا کے بقول، یہ تھا وہ انقلاب جس میں شامل تمام لوگ محض اقتدار کے ساتھ وابستہ تھے اور جسکا انجام آج سب کے سامنے ہے۔

Back to top button