فیض حمید نے نواز شریف کی رہائی کا راستہ کیسے ہموار کیا تھا ؟

سینیئر صحافی جاوید چوہدری نے انکشاف کیا ہے کہ عمران خان کے دور حکومت میں نواز شریف کو میڈیکل گراؤنڈز پر جیل سے نکال کر علاج کی خاطر بیرون ملک بھجوانے کے لیے جنرل فیض حمید نے نہ صرف جنرل باجوہ کو اپنے ساتھ ملایا بلکہ خاتون اول بشری بی بی کی روحانی حمایت بھی حاصل کی اور آخر میں شوکت خانم میموریل ہسپتال کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر فیصل سلطان کو بھی ایسا کرنے پر راضی کیا۔
جاوید چوہدری کے مطابق نواز شریف کے خلاف احتساب کے کیسز سننے والے کچھ ججز کے ساتھ اپنی گفتگو پر مبنی چند خطرناک آڈیو اور ویڈیو ٹیپس مریم نواز کے ہاتھ لگ جانے کے بعد فیض حمید نے میاں صاحب کو جیل سے نکال کر بیرون ملک بھجوانے کی ڈیل کی تھی تاکہ خفیہ ٹیپس منظر عام پر نہ آئیں۔ لیکن اس منصوبے کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنا ابھی باقی تھا چونکہ عمران خان کسی بھی صورت نواز شریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت نہیں دینا چاہتے تھے۔
جاوید چوہدری بتاتے ہیں کہ جنرل فیض حمید نے سب سے پہلےآرمی چیف جنرل قمر باجوہ کو اپنے ساتھ ملایا۔ اس کے بعد انہوں نے بشری بی بی کو اعتماد میں لیا اور پھر عمران کے قریبی ساتھی اور شوکت خانم ہسپتال کے ڈاکٹر فیصل سلطان کو بھی ساتھ ملا لیا۔ جب جیل میں نواز شریف کے پلیٹ لیٹس گرنے کی خبریں آنا شروع ہوئیں اور عمران خان پر دباؤ بڑھا تو انہوں نے جنرل باجوہ اور فیض کو مشورے کے لیے بلایا۔ فیض حمید خاموش بیٹھے رہے تاہم جنرل باجوہ نے وزیر اعظم کو مشورہ دیا کہ یہ فیصلہ آپ ہی نے کرنا ہے، اگر میاں نواز شریف کو جیل میں کچھ ہو گیا تو وہ دوسرے بھٹو بن کر آپ کے گلے پڑ جائیں گے‘ آپ اگر یہ بوجھ اٹھا سکتے ہیں تو بے شک انہیں بیرون ملک بھجوانے سے انکار کر دیں۔
یہ معاملہ بعدازاں وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ڈسکس ہوا تو فیصل واوڈا اور مراد سعید نے کھل کر نواز شریف کو باہر بھجوانے کی مخالفت کی۔ فیصل واوڈا کا کہنا تھا ’’اگر نواز شریف جیل میں مرتا ہے تو اسے مرنے دیں۔ مراد سعید نے بھی نواز شریف کو ڈرامے باز قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف ایک لمبی چوڑی تقریر جھاڑ دی۔
تاہم جاوید چوہدری بتاتے ہیں کہ عمران خان نے شوکت خانم ہسپتال کے سی ای او ڈاکٹر فیصل سلطان کو بلایا اور معاملہ ان پر چھوڑ دیا‘ اس پر جنرل فیض حمید ڈر گئے‘ انہیں خدشہ تھا کہ ڈاکٹر فیصل کہیں دوبارہ نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس کروانے کا حکم نہ دے دیں۔
چنانچہ جادوگر کہلانے والے جنرل فیض نے ناممکن کو ممکن بنانے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے اپنے دو سینئر انٹیلی جینس آفیسرز کے ذمے یہ مشن لگا دیا۔ وہ دونوں ڈاکٹر فیصل سے ملے اور انہیں مشورہ دیا کہ آپ جو بھی فیصلہ کریں نواز شریف کی موجودہ میڈیکل رپورٹس کے معائنے کے بعد کریں۔ آپ نے اگر نئے ٹیسٹ کروائے یا سیمپلز شوکت خانم کی لیب بھجوائے اور اس دوران نواز شریف کو کچھ ہو گیا تو آپ اور شوکت خانم ہسپتال لیب پر کیس بن جائے گا جسے بھگتنا آسان نہیں ہو گا‘ فیض کے افسران نے ڈاکٹر فیصل سلطان کو محترمہ بے نظیر بھٹو کیس کی مثال بھی دی۔ انہیں بتایا گیا کہ 27 دسمبر 2007 کو جب محترمہ بے نظیر بھٹو پر حملہ ہوا تو انہیں سنٹرل ہسپتال راولپنڈی لے جایا گیا تھا۔ وہاں جن ڈاکٹرز نے انکا مشاہدہ کیا تھا وہ لمبی مدت تک کیس اور انکوائریاں بھگتتے رہے‘ پھر انکی جان بھی ہم ہی لوگوں نے چھڑائی تھی ورنہ ان کے خلاف فرائض میں غفلت برتنے کا کیس بھی بن سکتا تھا‘ لہٰذا آپ اگر اس معاملے میں سستی دکھائیں گے تو کل کلاں نواز شریف کی موت آپ کے گلے پڑ جائے گی‘ فیصلہ بہر حال آپ نے کرنا ہے تاہم ہمارا مشورہ ہے کہ آپ یہ پراسیس لمبا نہ کریں‘ میاں صاحب کا مشاہدہ کریں‘ رپورٹس دیکھیں اور فیصلہ کر دیں۔
جاوید چوہدری کے مطابق ڈاکٹر فیصل سلطان سمجھ دار تھے۔ وہ بات سمجھ گئے‘ انہوں نے رپورٹس کا مطالعہ کیا اور عمران خان کو بتا دیا کہ اس کنڈیشن میں اگر مریض کو برسوں تک بھی کچھ نہیں ہوتا لیکن اگر اس کی طبیعت بگڑ جائے تو وہ ہسپتال بھی نہیں پہنچ پاتا‘ اس دوران جنرل فیض حمید بشریٰ بی بی کو بھی قائل کر چکے تھے‘ عمران خان نے مرشد سے مشورہ کیا اور مرشد نے مراقبے کے بعد نواز شریف کو بیرون ملک بھجوانے کی اجازت دے دی۔ یوں 19 نومبر 2019 کو نواز شریف علاج کے لیے لندن چلے گئے اور پھر 9 اپریل 2022 کو عمران خان کی اقتدار سے بے دخلی کے بعد واپس آئے۔
جاوید چوہدری کے مطابق علاج کی خاطر نواز شریف کا بیرون ملک جانا دراصل ایک ڈیل کا نتیجہ تھا جو میاں صاحب کا جانا ڈیل کا نتیجہ تھا جو جج ارشد ملک اور دیگر ججز کی فیض حمید کے ساتھ آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگز کے بدلے میں ہوئی تھی‘ جج ارشد ملک شروع میں احساس ندامت اور بعدازاں بدنامی اور نوکری سے فراغت کی وجہ سے شدید مایوسی اور ڈپریشن میں چلےگئے اور4 دسمبر 2020 کو ہارٹ اٹیک سے انتقال کر گئے، لیکن ان کی موت کو کرونا وائرس کے کھاتے میں ڈال دیا گیا جبکہ اس کی اصل وجہ شرمندگی، بے عزتی اور وہ غیر اخلاقی ویڈیو تھی جو جنرل فیض حمید کے دفتر میں انہیں دکھائی گئی تھی تاکہ وہ نواز شریف کے خلاف عدالتی فیصلہ جاری کریں۔
