فیض حمید کا عمرانڈو بھائی FIA کے شکنجے میں کیوں آ گیا؟

ملکی سیاسی تاریخ کے متنازعہ ترین جرنیل جنرل فیض حمید کے عمرانڈو بھائی سردار نجف حمید خان سرکاری زمینوں پر قبضے، اختیارات کے ناجائز استعمال اور مس کنڈکٹ کے الزامات پر ایف آئی اے کے ریڈار پر آگئے۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے نے سابق نائب تحصیلدار نجف حمید خان کے خلاف مقدمہ درج کرتے ہوئے نیا شکنجہ تیار کرلیا ہے۔
ایف آئی اے کے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد کی جانب سے سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کے بھائی نجف حمید سمیت 3 افراد کے خلاف درج کئے گئے مقدمے میں غیرقانونی طور پر قیمتی سرکاری زمین کی منتقلی اور مالی خورد برد کے الزامات عائد کئے گئے ہیں۔ ایف آئی اے ذرائع کے مطابق نجف حمید کے خلاف مقدمہ ایک عام شہری ملازم حسین کی درخواست پر درج کیا گیا ہے ، جس میں تین افراد کو ملزم قرار دیا گیا ہے ۔ ملزموں میں سابق حلقہ پٹواری اسلام آباد نجف حمید، سابق ریونیو افسر اسلام آباد عبدالظہور اور سہولت کار خالد منیر شامل ہیں۔مدعی کا الزام ہے کہ ملزمان نے ملی بھگت سے ایک کنال سے زائد قیمتی سرکاری اراضی کو غیرقانونی طور پر دھوکے اور جعلسازی کے ذریعے خالد منیر کے نام منتقل کیا، جو درحقیقت ان کی مشترکہ مفاد پر مبنی سازش تھی۔ یہ زمین وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے ایک قیمتی ایریا میں واقع ہے ۔ایف آئی اے ترجمان کے مطابق مدعی کی درخواست پر پرائمری انکوائری میں ملزموں کے خلاف ٹھوس شواہد سامنے آئے ہیں، جس کے بعد ملزمان کے خلاف باقاعدہ مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ اس حوالے سےتفتیش کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ تمام پہلوؤں کا بغور جائزہ لینے کے بعد ہی قانون کے مطابق آگے کی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
واضح رہے کہ سردار نجف حمید خان جنرل (ر)فیض حمید کے بھائی ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان تحریک انصاف کے ممبر اور سرگرم رہنما بھی ہیں۔ ماضی قریب میں وہ دوران ملازمت ہی پی ٹی آئی کیلئے جلسے ،ریلیوں کا اہتمام کرتے رہے ہیں، انتخابات کے دوران الیکشن مہم میں بھی بھرپور حصہ لیتے رہے ہیں۔ نجف حمید کے سیاسی اثرورسوخ کا اندازہ ان کی فیس بُک پروفائل دیکھ کر لگایا جا سکتا ہے کہ وہ ماضی میں ضلع چکوال اور خصوصاً اپنے علاقے لطیفال میں ایک متحرک شخصیت تھے۔ان کی فیس بُک پروفائل پر ایسی بہت سی تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں جن میں انھیں سڑکوں کا افتتاح اور سکولوں میں تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ماضی قریب میں’نائب تحصیلدار نجف حمید سڑکوں اور پارکوں کا افتتاح کر رہے ہوتے تھے اور پیچھے علاقے سے منتخب ہونے والے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی ہاتھ باندھے کھڑے ہوتے تھے۔‘جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ نجف حمید بحیثیت تحصیلدار بھی کتنے طاقتور تھے۔
خیال رہے کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے بھائی، نجف حمید، کا نام پہلی بار سرکاری اراضی پر قبضے اور مالی بے ضابطگیوں کے الزامات میں سامنے نہیں آیا۔ اراضی کے انتقالات کی فیسوں میں مبینہ خورد برد کے معاملے پر اینٹی کرپشن نے نجف حمید کے خلاف تحقیقات شروع کر رکھی ہیں۔اینٹی کرپشن ذرائع کے مطابق، نجف حمید کی بطور نائب تحصیلدار تعیناتی کے دوران ضلع چکوال کے پانچ موضع جات میں کروڑوں روپے مالیت کی اراضی کے 60 سے زائد انتقالات میں فیسوں سے متعلق بے ضابطگیوں کے شواہد سامنے آئے ہیں۔ مزید برآں، چکوال کے نو موضع جات میں ان کی تعیناتی کے دوران ہونے والے تمام انتقالات کی فیسوں کا آڈٹ بھی جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق جون 2021 سے فروری 2023 تک نجف حمید کی تعیناتی کے عرصے میں ہونے والے تمام انتقالات کی چھان بین جاری ہے، جبکہ تحقیقاتی ٹیم کو اسٹامپ ڈیوٹی، رجسٹری فیس اور ودہولڈنگ ٹیکس کی کٹوتیوں میں مبینہ خورد برد کے شواہد بھی ملے ہیں۔
عمران کے حامی جان دینے والے جوانوں کو ہیرو کیوں نہیں مانتے؟
مبصرین کے مطابق آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل فیض حمید کی آئین شکنیوں کی داستان کافی طویل ہے۔ اپنی مدت ملازمت کے دوران انھوں نے اختیارات کے ناجائز استعمال کی تاریخ رقم کی بلکہ اس بہتی گنگا میں جنرل فیض حمید نے اپنے بھائی کو بھی خوب اشنان کروایا۔ جنرل فیض کے فیض کی بدولت ہی ان کا پٹواری بھائی نجف حمید تھوڑے ہی عرصے میں پٹواری سے تحصیلدار بن گیا۔ جنرل فیض حمید کے بھائی کی پٹواری سے تحصیلدار بننے کی کہانی بھی خاصی دلچسپ ہے۔ نجف حمید نے ریونیو ڈیپارٹمنٹ میں پٹواری کی حیثیت سے ملازمت کا آغاز کیا تھا جس کے بعد وہ پہلے گرداور بنے اور پھر نائب تحصیلدار کے عہدے پر فائز رہے۔ ریونیو ڈیپارٹمنٹ میں ملازمت کرنے والے اختر عباس کے مطابق نجف حمید نے اپنا اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے نائب تحصیلدار کے عہدے تک ترقی پائی۔انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’نجف حمید بھی گرداور کے عہدے پر کام کر رہے تھے۔ جب پروموشن کا وقت آیا تو محکمے میں موجود تمام گرداوروں کو کہا گیا کہ وہ ترقی لینے سے انکار کر دیں اور پھر نجف حمید کو نائب تحصیلدار کے عہدے پر ترقی دے دی گئی۔
ریونیو ڈیپارٹمنٹ ذرائع کے مطابق جب لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید آئی ایس آئی میں ڈائریکٹر جنرل انٹرنل سکیورٹی یعنی ڈی جی سی تعینات ہوئے تو نجف حمید گرداور کے عہدے پر فائز تھے۔’اس کے بعد تونجف حمید کی چاندی ہو گئی۔ ان کو نائب تحصیلدار بننا تھا لیکن مسئلہ یہ تھا کہ ان کے محکمے میں دیگر گرداور بھی موجود تھے۔ اس وقت ان تمام لوگوں سے کاغذ پر لکھوا لیا گیا کہ ہم پروموشن نہیں چاہتے، نجف حمید کو ترقی دے دی جائے۔‘ جس کے بعد نجف حمید کو ترقی دے دی گئی۔
خیال رہے کہ کچھ عرصہ قبل بھی سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید کے کرپٹ بھائی سابق تحصیلدار نجف حمید پاکستانی میڈیا چینلز میں خبروں کی زینت بنے ہوئے تھے جس کا سبب ’اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ‘ کی جانب سے درج کیا گیا بدعنوانی کا ایک مقدمہ ہے جس میں وہ شریک ملزم ہیں۔اسی مقدمے میں نجف حمید کو انسداد کرپشن کی عدالت کے باہر سے گرفتار بھی کیا گیا تھا لیکن اُسی روز انھیں ضمانت مل گئی اور انھیں رہا کردیا گیا۔
اسی طرح پنجاب کے محمکہ اینٹی کرپشن نے یکم اگست 2023 کو ماضی میں پاکستان مسلم لیگ (ق) پرویز الٰہی گروپ سے تعلق رکھنے والے صوبہ پنجاب کے سابق وزیر برائے معدنیات کے خلاف ایک کرپشن اور بے نامی جائیدادیں بنانے کا مقدمہ درج کیا تھا۔اس مقدمے میں نجف حمید بھی ایک درجن سے زائد ملزمان کی فہرست میں شامل تھے ۔ ان تمام افراد پر الزام ہے کہ انھوں نے سابق صوبائی وزیر برائے معدنیات حافظ عمار یاسر کی ’ناجائز اثاثہ جات‘ بنانے میں مدد کی۔تاہم سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید کے اثر و رسوخ کے باعث نجف حمید اس مقدمے سے بھی بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے تھے، لیکن جنرل فیض حمید کے انجام کو پہنچنے کے بعد فیضی امداد کا سلسلہ بند ہو گیا ہے۔ اس لئے اب نجف حمید کے لیے ایف آئی اے کے شکنجے سے بچ نکلنا مشکل ہی نہیں ناممکن دکھائی دیتا ہے۔
