فیض حمید کا انٹیلیجنس نیٹ ورک بشریٰ کو الو کیسے بناتا رہا؟

سابق آئی ایس آئی سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے ایما پر وزیراعظم شہباز شریف کی جاسوسی کرنے والے ان کے سابق اے ڈی سی میجر عبدالرحمن نے گرفتاری کے بعد دوران تفتیش ہوشربا انکشافات کیے ہیں۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ میجر عبدالرحمن کا نیٹ ورک ماضی میں سابق وزیراعظم عمران خان، ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور انکی سہیلی فرح خان گوگی کی بھی جاسوسی کرتا رہا ہے اور تمام انفارمیشن فیض حمید کو فراہم کی جاتی تھی۔ میجر عبدالرحمن نے بتایا ہے کہ ان کے جاسوسی نیٹ ورک میں آئی ایس آئی کے دو افسران رحمت اللہ اور ارسلان ستی مرکزی حیثیت رکھتے تھے جنکی پوسٹنگز فیض حمید نے آئی ایس آئی سے فارغ ہوتے وقت بیرون ملک کروا دی تھیں۔ رحمت اللہ کی پوسٹنگ سعودی عرب میں پاکستانی سفارت خانے میں کروائی گئی تھی جب کہ ارسلان ستی کی پوسٹنگ متحدہ عرب امارات میں پاکستانی سفارتخانے میں ہوئی۔
بتایا جاتا ہے کہ کینیا میں قتل ہونے والے سینئر صحافی ارشد شریف کے دبئی میں قیام کے وقت ارسلان ستی اپنے سابقہ باس فیض حمید کے ایماء پر ان کے ساتھ رابطے میں تھا اور انہیں کینیا بھجوانے میں بھی شامل تھا۔ وزیراعظم شہباز شریف کی پی ایم ہاؤس میں ہونے والی گفتگو کی آڈیو ریکارڈنگز لیک کرنے کے الزام میں میجر عبد الرحمن کی گرفتاری کے بعد رحمت اللہ اور ارسلان ستی کو بھی شامل تفتیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا اور انہیں پاکستان طلب کرلیا گیا تھا۔ دوران تفتیش رحمت اللہ نے انکشاف کیا ہے کہ وہ فیض حمید کے ایماء پر ماضی میں عمران خان، بشریٰ بی بی اور فرح گوگی کی جاسوسی کرتا رہا اور پھر پراجیکٹ رحمت کے تحت ان کا پیر بھی بن گیا۔ موصوف نے ایک دلچسپ کہانی سنائی اور بتایا ہے کہ اس نے بشریٰ تک پہنچنے کے لئے فرح گوگی کو کیسے ٹریپ کیا۔ رحمت اللہ کے مطابق وہ فرح گوگی کو پیر بن کر ملا اور جلد ہی شیشے میں اتار لیا۔ فرح نے رحمت کو بشریٰ بی بی سے بھی ملوا دیا اور وہ بھی اس کو ماننے لگیں۔ اس کا طریقہ واردات یہ تھا کہ وہ سارا دن اپنے نیٹ ورک کے ذریعے فرح گوگی اور بشری ٰبی بی کی فون پر ہونے والی گفتگو سنتا اور پھر انہیں بتاتا کہ ان کی زندگی میں کیا مسائل چل رہے ہیں اور انہیں کیسے حل کیا جا سکتا ہے۔ رحمت اللہ کبھی پیر بن کر فرح گوگی کو بتاتا کہ وہ اپنے بیٹے کی وجہ سے پریشان ہیں، تو کبھی بشریٰ بی بی کو بتاتا کہ خان صاحب کن مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں اور ان کے خلاف کون کیا کر رہا ہے۔
زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ آگے بشریٰ بی بی بھی اپنے شوہر نامدار کو بتاتیں کہ ان کی زندگی میں کیا مسائل چل رہے ہیں اور ان کے دوست اور دشمن کیا کر رہے ہیں۔ یوں خان صاحب کا اپنی پیرنی پر ایمان مزید مضبوط ہوتا چلا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ رحمت اللہ اور ارسلان ستی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے لیے تب سے کام کر رہے تھے جب وہ ڈائریکٹر جنرل کاؤنٹر انٹیلی جنس تعینات تھے۔ وہ رحمت اللہ کے ذریعے بشریٰ بی بی اور فرح خان گوگی کو ایسی انفارمیشن فیڈ کیا کرتے جس سے کہ ان کا اپنا ایجنڈا پورا ہو۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ بشریٰ بی بی کو مانیکا خاندان کی کرپشن کی فائلیں اکٹھی کرنے کی اطلاع بھی رحمت اللہ نے پیر بن کر دی تھی جس کی تصدیق فیض حمید نے بطور ڈی جی کاؤنٹر انٹیلی جنس عمران خان کو کی تھی۔ تب موجودہ آرمی چیف چیف عاصم منیر آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل تھے۔ یہی وہ وقت تھا جب بشریٰ بی بی نے عمران خان کو اپنے انٹیلی جینٹ پیر رحمت اللہ کے کہنے پر یہ بشارت دی کہ عاصم منیر اب ان کے لئے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں لہٰذا فیض حمید کو نیا آئی ایس آئی سربراہ مقرر کردیا جائے۔ چنانچہ خان صاحب نے ایسا ہی کیا اور عاصم منیر کو اس عہدے پر تعیناتی کے صرف آٹھ ماہ بعد ہی فارغ کر دیا۔
بتایا جاتا ہے کہ فیض حمید کے ڈی جی آئی ایس آئی بننے کے بعد اس جاسوسی نیٹ ورک نے اپنی کاروائیاں اور بھی تیز کر دیں، رحمت اللہ نیٹ ورک فیض حمید کو لمحے لمحے کی خبر دیتا اور وہ آگے اپنا چورن عمران کو بیچ دیتے۔ یوں موصوف خان صاحب کے قریب ہونے کے بعد بشریٰ بی بی کے بھی کافی قریب ہو گئے تھے۔ اسی لئے پنکی پیرنی نے خان صاحب کو یہ بتا دیا تھا کہ فیض حمید کا آرمی چیف بننا کتنا ضروری ہے ورنہ وہ بطور وزیر اعظم اپنی آئینی مدت پوری نہیں کر پائیں گے۔ یہی وجہ تھی کہ جب جنرل باجوہ نے فیض حمید کو آئی ایس آئی چیف سے ہٹا کر کور کمانڈر پشاور تعینات کیا تو عمران خان نے پھڈا ڈال دیا جو ان کے زوال کا باعث بنا۔ جنرل باجوہ کے بعد جنرل عاصم منیر نئے فوجی سربراہ بنے اور فیض حمید کو وقت سے پہلے ریٹائرمنٹ لے کے گھر جانا پڑا۔
یاد رہے کہ ماضی میں آئی ایس آئی چیف فیض حمید کے اے ڈی سی رہنے والے میجر عبدالرحمن نے گرفتاری کے بعد تفتیش کے دوران اعتراف کیا ہے کہ وہ فیض حمید کے کہنے پر وزیر اعظم شہاز شریف کی آڈیوز ریکارڈ کر کے لیک کرتے رہے۔ ان کا آئی ایس آئی میں کوڈ نیم میجر ارسلان ہے مگر ان کا اصل نام عبد الرحمٰن ہے۔ موصوف نے تفتیش کے آغاز ہی میں اپنے جرم کا اعتراف کر لیا تھا۔ خیال رہے کہ چند ماہ پہلے وزیراعظم شہباز شریف کے دفتر میں ہونے والی گفتگو کی آڈیوز سوشل میڈیا پر لیک ہونے کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا تھا اور وزیراعظم ہاؤس کا عملہ شامل تفتیش کیا گیا تھا۔میجر عبدالرحمن کے اقرار جرم کے بعد فیض حمید کے قریبی دونوں افسران رحمت اللہ اور ارسلان ستی کو بھی شامل تفتیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ یہ دونوں صاحبان فیض حمید کے انتہائی قریب سمجھے جاتے ہیں اور بطور ڈی جی آئی ایس آئی تبادلے کے بعد بھی ان کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھے۔ میجر عبدالرحمن ماضی میں لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے اے ڈی سی رہے ہیں جب وہ ڈی جی آئی ایس آئی تھے۔ جب اکتوبر 2022 میں جنرل باجوہ نے وزیر اعظم عمران خان کی مرضی کے برخلاف فیض کا پشاور تبادلہ کر دیا تو انہوں نے میجر عبدالرحمن کو عمران خان کا اے ڈی سی لگوا دیا۔
تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں عمران خان کو وزارت عظمیٰ سے ہٹائے جانے کے بعد میجر عبدالرحمن وزیر اعظم شہباز شریف کے اے ڈی سی کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے اور فیض حمید کے لیے ان کی جاسوسی بھی کرتے رہے۔ فیض یہ انفارمیشن عمران خان کو مہیا کرتے تھے جو اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے استعمال کرتے تھے۔ یاد رہے کہ عمران اپنی کئی تقاریر میں یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ اداروں میں ان کے لوگ اب بھی موجود ہیں جو انہیں اہم ترین معلومات فراہم کرتے رہتے ہیں۔ تاہم جب وزیراعظم ہاؤس کی آڈیو لیکس کی تحقیقات شروع ہوئیں تو ڈی جی آئی ایس آئی ندیم احمد انجم کے حکم پر میجر عبدالرحمن کو حراست میں لے لیا گیا جس نے فوری اعتراف جرم کر لیا۔
اس نے وزیراعظم ہاؤس کی جاسوسی کرنے کا جرم قبول کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اپنے سابقہ باس فیض حمید کے حکم پر یہ کام کر رہا تھا اور اس کے عوض اسے مالی فائدے ملتے تھے۔ میجر عبدالرحمن عرف میجر ارسلان کے پاس ایک خفیہ کمیونیکیشن ڈیوائس تھی جسے وہ وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والی میٹنگز کی گفتگو ریکارڈ کرنے کے لیے استعمال کرتا تھا۔ جب اس ڈیوائس کا ڈیٹا چیک کیا گیا تو پتہ چلا کہ یہ ایک دوسری ڈیوائس سے رابطہ میں تھی جس کی لوکیشن بہاولپور کی تھی جہاں فیض حمید بطور کور کمانڈر تعینات تھے۔عبدالرحمن نے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے یہ ڈیوائس آئی ایس آئی کے حوالے کر دی اور بتایا کہ اسے یہ ڈیوائس بھی فیض حمید نے ہی مہیا کی تھی۔
