سابق صدر کلنٹن نے ٹرمپ کی جنسی عیاشیوں کا پردہ کیسے چاک کیا؟

 

 

 

سابق امریکی صدر بل کلنٹن نے انکشاف کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ان کے سامنے اعتراف کیا تھا کہ انہوں نے جیل میں خودکشی کرنے والے سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کے ساتھ عیاشی کے شاندار لمحات گزارے تھے، لیکن بعد ازاں ان کے تعلقات میں دراڑ آ گئی۔

 

امریکی ایوانِ نمائندگان کی اوور سائیٹ کمیٹی کے سامنے ویڈیو ریکارڈ شدہ گواہی میں بل کلنٹن نے حلف لیکر بتایا کہ ٹرمپ نے 2003 کے دوران ایک گالف ٹورنامنٹ میں ان سے اپنے دوست ایپسٹین کا ذکر کیا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب کلنٹن صدارت چھوڑ چکے تھے۔ یہ ٹرمپ کے صدر منتخب ہونے سے ایک دہائی سے بھی زیادہ عرصہ پہلے کی بات ہے۔ کلنٹن کے مطابق کسی نہ کسی طرح ٹرمپ کو معلوم تھا کہ میں بھی جیفری ایپسٹین کے نجی طیارے میں سفر کر چکا ہوں۔ انہوں نے کہا: ‘آپ جانتے ہیں، ہم نے برسوں تک بہترین وقت گزارا، لیکن ایک رئیل سٹیٹ ڈیل کی وجہ سے ہمارے تعلقات ختم ہو گئے۔

 

دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل یہ مؤقف اختیار کر چکے ہیں کہ ایپسٹین سے ان کے تعلقات تب خراب ہوئے جب ایپسٹین نے ان کے نجی کلب میں کام کرنے والی کم عمر خواتین کو ملازمت پر رکھ لیا۔

بل کلنٹن نے اپنی گواہی میں کہا کہ اس گفتگو سے انہیں یہ تاثر نہیں ملا کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایپسٹین سے متعلق کسی غیر مناسب سرگرمی میں ملوث تھے۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ بل کلنٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ دونوں نے ایپسٹین کے ساتھ تب تک سماجی روابط رکھے جب تک اس نے 2008 میں ایک کم عمر لڑکی سے جسم فروشی کروانے کا اعترافِ جرم نہیں کیا۔ بعد ازاں 2019 میں انہیں وفاقی سطح پر جنسی سمگلنگ کے الزامات کے تحت دوبارہ گرفتار کیا گیا۔ بعد میں موصوف ایک رات جیل میں مردہ پائے گئے جس کے بعد ان کی موت کو خودکشی قرار دے دیا گیا۔

 

سابق امریکی صدر بل کلنٹن کی حلفیہ گواہی کی ویڈیوز میں دکھایا گیا کہ کلنٹن شواہد کا جائزہ لے رہے تھے، جن میں ان کی وہ تصاویر بھی شامل تھیں جو ایپسٹین فائلز کے حصے کے طور پر جاری کی گئی تھیں۔ سابق صدر نے بتایا کہ ان کا تعارف ایپسٹین سے ان کے سابق وزیر خزانہ لیری سمرز نے کرایا تھا، جنہوں نے ایپسٹین کو ایک ایسے عطیہ دہندہ کے طور پر پیش کیا جو کلنٹن اور ان کے عملے کو دنیا بھر کے دوروں کے لیے اپنی نجی پرواز فراہم کرنے پر آمادہ تھا تاکہ وہ ایڈز کے خلاف فلاحی فاؤنڈیشن قائم کر سکیں۔ کلنٹن کے مطابق انہوں نے ایپسٹین کے نجی طیارے پر ایشیا، افریقہ اور یورپ کے دورے کیے، اور ایک مرتبہ فلوریڈا سے نیویارک تک بھی سفر کیا۔ تاہم 2003 کے بعد انہوں نے دیگر عطیہ دہندگان سے تعاون لینا شروع کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ ایپسٹین ایک دلچسپ شخصیت تھے، لیکن مجھے یہ نہیں لگا کہ وہ واقعی میرے کام میں دلچسپی رکھتے تھے۔

 

کلنٹن نے واضح کیا کہ ان کا ایپسٹین یا اس کی قریبی ساتھی میکسویل کی جانب سے متعارف کرائی گئی کسی بھی خاتون کے ساتھ کوئی جنسی تعلق نہیں تھا۔ البتہ انہوں نے اعتراف کیا کہ ایک پرواز کے دوران انہیں ایک فضائی میزبان نے گردن کا مساج دیا تھا، جس کی بعد میں شناخت ایپسٹین کی زیادتی کا نشانہ بننے والی خاتون کے طور پر ہوئی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ انہیں یہ علم نہیں تھا کہ ایپسٹین ان لڑکیوں کو، جنہیں مساج کے لیے بھرتی کیا جاتا تھا، جنسی استحصال کا نشانہ بناتا رہا ہے۔

امریکہ اور اسرائیل کا ایران میں رجیم تبدیلی کا خواب کیسے ٹوٹا؟

کلنٹن نے اپنے حلفیہ بیان میں مزید کہا کہ مجھے یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں لگی۔ میں یہ نہیں بتا سکتا کہ کتنی بار ایسا ہوا کہ کسی امیر شخص نے مجھے اپنی طرف مدعو کیا اور وہاں مساج کی سہولت موجود تھی۔ ایسی کشتیوں اور تقریبات میں یہ سب ہوتا رہتا ہے، اگرچہ میں عموماً اس سے گریز کرتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ وہ کبھی ایپسٹین کے کیریبین جزیرے پر نہیں گئے تھے اور انہیں یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ ایپسٹین ان کے 1993 سے 2001 کے دور صدارت میں وائٹ ہاؤس کے 17 دورے کر چکا تھا۔ یاد رہے کہ اس سے قبل کلنٹن کی اہلیہ اور سابق وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن بھی کمیٹی کے سامنے پیش ہو چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یاد نہیں کہ انہوں نے کبھی ایپسٹین سے ملاقات کی ہو، اور انہوں نے پینل پر زور دیا کہ صدر ٹرمپ کا بیان بھہ ریکارڈ کیا جائے۔ یاد رہے کہ سابق امریکی صدر کلنٹن اور ان کی اہلیہ ہیلری کلنٹن کے ویڈیو ریکارڈڈ بیانات نیویارک میں ریکارڈ کیے گئے، جہاں کلنٹن خاندان رہائش پذیر ہے۔

Back to top button