جنرل عاصم منیر ملکی تاریخ کے طاقتور ترین فوجی سربراہ کیسے بنے؟

فیلڈ مارشل اور چیف آف ڈیفنس فورسز عاصم منیر ملکی تاریخ کے طاقتور ترین فوجی سربراہ بن چکے ہیں۔ جرمن نشریاتی ادارے ڈی ڈبلیو کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں فوجی اختیارات کی ازسرِنو تقسیم فیلڈ مارشل عاصم منیر کو تاحیات عہدہ، استثنیٰ اور تینوں مسلح افواج کی متحدہ کمان سونپ کر سیاسی قیادت نے ملک کے مستقبل کی سمت پر گہرے سوالات اٹھا دئیے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق آئین میں 27ویں ترمیم کے بعد فیلڈ مارشل عاصم منیر پاکستان کے طاقتور ترین فوجی رہنما کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ اس ترمیم نے نہ صرف ان کے اختیارات میں بے پناہ اضافہ کیا ہے بلکہ انہیں تاحیات عہدہ اور مکمل قانونی استثنیٰ بھی فراہم کر دیا ہے۔ آئینی ترمیم کے تحت تینوں مسلح افواج یعنی آرمی، نیوی اور ایئر فورس کو ایک نئے عہدے ”چیف آف ڈیفنس فورسز‘‘ کے ماتحت کر دیا گیا ہے، جس کی باگ ڈور اب فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ہاتھ میں ہے۔ ستائیسویں آئینی ترمیم کے تحت انہیں عمر بھر کے لیے فوجداری کارروائی سے استثنیٰ بھی دے دیا گیا، جسے ناقدین غیر معمولی اور غیر محدود اختیارات کا منبع قرار دے رہے ہیں۔

ستائیسویں آئینی ترمیم کو جہاں حکومت اپنی تاریخی فتح قرار دیتی دکھائی دیتی ہے وہیں حالیہ جنگ میں بھارت کے چھکے چھڑانے پر جنرل عاصم منیر کو دئیے گئے فیلڈ مارشل کے عہدے کا بھرپور دفاع کرتی نظر آتی ہے۔ تاہم جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے پروفیسر اور مصنف عقیل شاہ کے مطابق پارلیمنٹ سے پاس ہونے والی آئینی ترمیم ”آمرانہ قانون سازی‘‘ کی واضح مثال ہے۔ دنیا کی کسی بھی جمہوریت میں آرمی چیف کو مشترکہ فوجی سربراہ کا عہدہ نہیں دیا جاتا۔‘‘ اس کے ساتھ ساتھ جنرل عاصم منیر کو قانونی استثنیٰ ملنے کے بعد آئین کا آرٹیکل 6، جو فوجی بغاوت کو جرم قرار دیتا ہے، عملاً غیر مؤثر ہو جاتا ہے۔

دوسری جانب دفاعی تجزیہ کار لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نعیم خالد لودھی کا کہنا ہے کہ سیاست دانوں نے اپنے وقتی مفاد کے لیے پاکستان کے طویل المدت مفادات داؤ پر لگا دئیے ہیں۔‘‘ اس وقت فیلڈ مارشل عاصم منیر پاکستان کے سب سے طاقتور شخص بن چکے ہیں۔ اسی طرح وفاعی تجزیہ کار اور مصنف شجاع نواز کے مطابق سیاست دانوں نے ”اپنی انشورنس پالیسی کی تجدید کی ہے کیونکہ آئینی ترمیم کے بعد اب جنرل عاصم منیر کی پانچ سالہ مدت ملازمت موجودہ حکومت کی باقی ماندہ مدت سے زیادہ ہے، اس لیے وفاقی اتحادی حکومت آئندہ انتخابات میں ان کی حمایت کے خواہاں ہیں۔‘‘

27 ویں آئینی ترمیم نے فوج کے سٹرکچر کو کیسے تبدیل کیا؟

شجاع نواز کا مزید کہنا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کے بعد جنرل عاصم منیر کے اختیارات سابق فوجی حکمران پرویز مشرف کے برابر ہو چکے ہیں، جنہوں نے 1999 میں ایک فوجی بغاوت کے نتیجے میں اقتدار سنبھالا تھا،اس وقت جنرل عاصم منیر کے پاس ایک فرمانبردار وزیرِ اعظم بھی ہے اور فوجی ڈھانچے کو ازسرِ نو ترتیب دینے کی قوت بھی موجود ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ آرمی چیف کو اس وقت وسیع اختیارات مل چکے ہیں۔ بطور چیف آف ڈیفنس فورسز، عاصم منیر کو عسکری کمانڈ کے ڈھانچے میں بڑی تبدیلیوں اور فورسز کو جدید خطوط پر استوار کرنے کا اختیار ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کے پاس برطانوی روایت کے مطابق تاحیات فیلڈ مارشل کا اعزاز برقرار رہے گا۔ شجاع نواز کے مطابق جنرل عاصم منیر سفارتی محاذ پر بھی کامیابیاں سمیٹنے میں کامیاب رہے ہیں، تاہم حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا مستقبل مضبوط معیشت اور مستحکم سیاسی نظام میں مضمر ہے اور فی الحال دونوں چیزوں کی پاکستان میں شدید کمی ہے۔‘‘

خیال رہے کہ جنرل عاصم منیر نومبر سن 2022 میں آرمی چیف بنے تھے۔ اس سے قبل وہ بری فوج میں کوارٹر ماسٹر جنرل، کور کمانڈر گوجرانوالہ، ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ اور بعد ازاں پاکستان کی طاقتور خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل بھی رہ چکے ہیں۔ انہیں سن 2019 میں اس وقت کے وزیرِ اعظم عمران خان نے صرف آٹھ ماہ بعد آئی ایس آئی کی سربراہی سے ہٹا دیا تھا، جس کی وجوہات کبھی سامنے نہیں آئیں۔ تاہم عمران خان کی برطرفی کے بعد جنرل منیر کے حالات یکسر بدل گئے اور شہباز شریف کی حکومت نے انہیں نہ صرف آرمی کی قیادت سونپی بلکہ مئی میں بھارت کے ساتھ ہونے والی چار روزہ جھڑپ کے بعد انہیں فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی بھی دی تھی جبکہ اب انھیں تینوں مسلح افواج کی کمان سونپ دی گئی ہیں

 

Back to top button