جنرل ضیاء بٹ نواز حکومت کے خاتمے کی وجہ کیسے بنے؟

 

 

 

جنرل پرویز مشرف کے ہاتھوں 1999 میں وزیراعظم نواز شریف کی حکومت کا خاتمہ دراصل انکے آئی ایس آئی چیف لیفٹینینٹ جنرل ضیاء الدین بٹ کی انٹیلی جینس کا نتیجہ تھا۔ ملک کی طاقتور ترین خفیہ ایجنسی کے سربراہ ہونے کے باوجود جنرل بٹ کو نہ تو مشرف اور ان کے ساتھیوں کی حکومت مخالف بغاوت کی سازش کا علم ہو سکا اور نہ ہی وہ آرمی چیف نامزد ہونے کے باوجود اپنا عہدہ سنبھال سکے بلکہ الٹا فوج کے بریگیڈ 111 کے ہاتھوں گرفتار ہو گئے۔ ان کی اس ناکامی نے نواز حکومت کے خاتمے کی راہ ہموار کی۔

 

معروف صحافی اور لکھاری روف کلاسرا اپنی ایک تحریر میں بتاتے ہیں کہ اس بحران کی جڑیں کارگل جنگ میں پیوست تھیں، کارگل منصوبے کے بارے میں آرمی چیف جنرل مشرف نے نہ صرف نواز حکومت کو اندھیرے میں رکھا بلکہ جنوبی ایشیا کی دو نیوکلیئر طاقتوں کو ایک خطرناک جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔ وزیراعظم نواز شریف کیلئے یہ بات انتہائی حیران کن اور تشویشناک تھی کہ جنرل مشرف اور ان کے چند قریبی ساتھیوں نے انہیں اعتماد میں لیے بغیر اتنی بڑی عسکری کارروائی کا آغاز کر دیا تھا۔ اس سے بھی زیادہ افسوسناک پہلو یہ تھا کہ وزیراعظم کو جنگ کی اطلاع اپنے آرمی چیف یا ڈی جی آئی ایس آئی کے بجائے بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کے فون کے ذریعے ملی۔

 

روف کلاسرا کہتے ہیں کہ کارگل آپریشن کو فوج کے صرف تین چار سینئر جرنیلوں تک محدود رکھا گیا تھا۔ اس قدر اہم عسکری سرگرمی 6 ماہ تک خفیہ رہی اور انٹر سروسز انٹیلیجنس کے سربراہ ضیاء الدین بٹ کو بھی اس کا علم نہ ہو سکا۔ یہاں تک کہ جب حالات جنگ کی حد تک پہنچ گئے تب بھی سول حکومت اور فوج کے بیشتر اعلیٰ افسران اس سے لاعلم رہے۔ اگر بھارتی وزیراعظم واجپائی خود فون نہ کرتے تو ممکن تھا کہ وزیراعظم نواز شریف کو بھارتی جوابی حملے کی خبر ٹی وی سکرین کے ذریعے ملتی۔ اس تمام صورتحال میں ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ضیاء الدین بٹ کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں، جو نہ تو وزیراعظم کو بروقت آگاہ کر سکے اور نہ ہی عسکری قیادت کے اندر پنپنے والی غیر معمولی پیش رفت کو بھانپ پائے۔ بعد ازاں یہی کمزوری اکتوبر 1999 میں ان کیلئے مزید تباہ کن ثابت ہوئی۔

 

روف کلاسرا کے مطابق بھارتی وزیراعظم کے فون کے بعد جنرل مشرف نے 24 گھنٹوں کا وقت لے کر آئی ایس آئی ہیڈکوارٹر میں ایک اعلیٰ سطحی بریفنگ کا اہتمام کیا، جہاں لیفٹینینٹ جنرل محمود کو وزیراعظم اور ان کی ٹیم کو کارگل آپریشن پر بریف دینے کی ذمہ داری دی گئی۔ اس بریفنگ میں نواز شریف کو ایسی تصویر پیش کی گئی کہ پاکستانی فوج نے بھارتی فوج کو مکمل طور پر جکڑ لیا ہے اور کسی بھی لمحے سری نگر میں داخل ہو کر کشمیر کو آزاد کرا لیا جائے گا۔ وزیراعظم کو یقین دلایا گیا کہ اگر بھارتی فوج واقعی مشکل میں نہ ہوتی تو واجپائی کبھی فون نہ کرتے۔

 

اسی بریفنگ میں مشرف کے ایما پر نواز شریف کو یہ باور کرایا گیا کہ کارگل معرکے کے بعد ان کا نام تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ جوش و خروش اور خوشامدانہ بیانات کے اس ماحول میں وزیراعظم یہ حقیقت نظر انداز کر گئے کہ یہ جنگ ان کی اجازت اور علم کے بغیر شروع کی گئی تھی اور اس کی خبر انہیں دشمن ملک کے وزیراعظم نے دی تھی۔ یہاں تک کہ بریفنگ کے اختتام پر وزیراعظم سے اس آپریشن کی کامیابی کیلئے دعا بھی کرائی گئی، جسے بعد ازاں اس بات کے ثبوت کے طور پر پیش کیا گیا کہ وزیراعظم کارگل ایڈونچر سے آگاہ تھے۔

 

تاہم کلاسرا بتاتے ہیں کہ اس بریفنگ میں موجود ایک سابق جنرل شدید ذہنی اضطراب کا شکار تھا۔ بریفنگ ختم ہونے کے بعد ڈیفنس سیکرٹری جنرل افتخار احمد نے وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری سعید مہدی کو بتایا کہ وزیراعظم کو گمراہ کیا گیا ہے اور حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ ان کے مطابق پاکستانی فوج کو کارگل میں شدید جانی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے، سپلائی لائنز منقطع ہیں اور متعدد فوجی خوراک نہ ملنے کے باعث جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ یہ بھی واضح کیا گیا کہ پاکستانی فوج زیادہ دیر تک کارگل پر اپنا قبضہ برقرار نہیں رکھ سکے گی۔ اگلے روز وزیر اعظم نواز شریف نے اپنے قابل اعتماد ساتھیوں کے ایک اجلاس میں جب یہ تمام حقائق سنے تو وہ سخت پریشان ہو گئے۔ انہیں اندازہ ہوا کہ جنرل مشرف اور جنرل محمود نے انہیں ماموں بنا کر خطرناک عسکری ایڈونچر میں دھکیل دیا ہے۔ انہیں یہ بھی احساس ہوا کہ ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ضیاء الدین بٹ نہ تو کارگل کے معاملے میں ان کی رہنمائی کر سکے اور نہ ہی فوج کے اندر بڑھتی ہوئی بغاوت کے آثار کو محسوس کر پائے۔

کیا وزیراعظم شہباز کیلئے وقت سے پہلے قیامت آنے والی ہے؟

سینیئر صحافی کے مطابق اسی پس منظر میں وزیراعظم نواز شریف نے فیصلہ کیا کہ جنرل پرویز مشرف کو آرمی چیف کے عہدے سے ہٹا کر جنرل ضیاء الدین بٹ کو نیا آرمی چیف مقرر کیا جائے۔ تاہم یہ فیصلہ بہت دیر سے کیا گیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جنرل بٹ اپنے عہدے کا حلف اٹھانے سے پہلے ہی جنرل مشرف کے وفادار ساتھیوں کے ہاتھوں گرفتار ہو گئے۔ اس گرفتاری کے ساتھ ہی نواز شریف حکومت عملاً ختم ہو گئی اور فوج نے اقتدار سنبھال لیا۔ بعد ازاں جنرل ضیاء الدین بٹ کا کورٹ مارشل کیا گیا۔

 

یوں کارگل جنگ میں غلط معلومات، انٹیلی جنس کی سنگین ناکامی، اور عسکری قیادت کے خفیہ فیصلے بالآخر اکتوبر 1999 کے مارشل لا پر منتج ہوئے۔ اس پورے عمل میں جنرل ضیاء الدین بٹ کی بطور ڈی جی آئی ایس آئی ناکامی اور بطور نامزد آرمی چیف انجام، نواز شریف حکومت کے خاتمے کی بنیادی وجہ بنے اور پاکستان کی سیاسی تاریخ کا دھارا ہمیشہ کیلئے بدل گیا۔

Back to top button