بنگلہ دیش میں ہادی کے قتل سے پاکستان کا نقصان کیسے ہوا؟

 

 

 

معروف لکھاری اور تجزیہ کار عمار مسعود نے کہا ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ‘را’ نے حسینہ واجد کی حکومت کے خلاف انقلاب برپا کرنے والے مقبول ترین سٹوڈنٹ لیڈر عثمان ہادی کو اس لیے قتل کروا دیا کہ وہ فروری میں ہونے والے عام انتخابات میں برسر اقتدار آ سکتے تھے۔ لہذا انہیں سڑک پر سرعام گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا۔ اس قتل کا ایک مقصد بنگلہ دیش میں ایسے لوگوں کو اقتدار میں آنے سے روکنا تھا جو پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن ہادی کے قتل سے بنگلہ دیش میں بھارت مخالف جذبات مزید ابھر کر سامنے آ گئے ہیں۔

 

اپنے سیاسی تجزیے میں عمار مسعود کہتے ہیں بنگلہ دیش میں حالیہ سیاسی ہلچل کے دوران انقلابی طلبہ تحریک کے نمایاں رہنما عثمان ہادی کے سرِعام قتل نے ملکی سیاست کو ایک نئے بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ یہ قتل محض ایک فرد کی موت نہیں بلکہ آنے والے عام انتخابات پر اثرانداز ہونے کی ایک منظم کوشش ہے۔ عثمان ہادی اُن نوجوان رہنماؤں میں شامل تھے جنہوں نے سابق وزیرِاعظم شیخ حسینہ واجد کے خلاف چلنے والی طلبہ تحریک میں کلیدی کردار ادا کیا۔ یہ تحریک بالآخر حسینہ واجد کے اقتدار کے خاتمے اور ملک سے فرار پر منتج ہوئی۔

 

عمار مسعود کہتے ہیں کہ عثمان ہادی فروری میں متوقع عام انتخابات میں ایک مضبوط اور عوامی لیڈر کے طور پر ابھر رہے تھے۔ ان کے بھارت مخالف سیاسی نظریات نہ صرف بنگلہ دیش بلکہ عالمی سطح پر جانے جاتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں انتخابات سے محض ایک ماہ قبل قتل کر دیا گیا۔ بنگالی عوام میں یہ الزام شدت اختیار کر رہا ہے کہ عثمان ہادی کے قتل میں بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ ملوث ہے۔

 

مبصرین کے مطابق بھارت خائف تھا کہ اگر بھارت مخالف نوجوان قیادت انتخابات میں کامیاب ہو گئی تو بنگلہ دیش میں بھارتی اثر و رسوخ کو شدید دھچکا لگے گا۔ عمار مسعود کے مطابق، بھارتی حکومت جانتی ہے کہ اگر یہ نوجوان قیادت اقتدار میں آ گئی تو یہ خطے میں بھارتی بالادستی کے لیے فیصلہ کن دھچکا ثابت ہوگا۔ اسی خوف کے تحت عثمان ہادی کو راستے سے ہٹا دیا گیا۔ عثمان ہادی کے قتل کے بعد دیگر بھارت مخالف طلبہ رہنماؤں کو بھی دھمکیاں موصول ہو رہی ہیں، جس سے یہ خدشہ مزید تقویت پکڑتا ہے کہ ایک منظم مہم کے تحت سیاسی فضا میں خوف پھیلایا جا رہا ہے۔

 

عمار مسعود کے مطابق شیخ حسینہ واجد کے طویل دورِ اقتدار میں بنگلہ دیش میں پاکستان مخالف بیانیے کو ریاستی سرپرستی حاصل رہی، جبکہ بھارت سے غیر معمولی قربت نے ملک کی خودمختاری پر سوالات اٹھائے۔ نصاب، میڈیا اور ریاستی پالیسی میں بھارت نواز اور پاکستان مخالف مواد کو فروغ دیا گیا۔ تاہم گزشتہ برسوں میں ایک نئی اپوزیشن ابھری جو کسی سیاسی جماعت کے بجائے نوجوان طلبہ پر مشتمل تھی۔ یہ نوجوان بھارت کے زیرِ اثر رہنے کے بجائے ایک خودمختار بنگلہ دیش کے حامی تھے۔ وزیراعظم حسینہ کے دور اقتدار میں ان احتجاجوں کے دوران سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں سینکڑوں طلبہ جاں بحق ہوئے، جس کے بعد حسینہ واجد ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئیں۔

 

عثمان ہادی کے قتل کو کئی حلقے بنگلہ دیش کی بدلتی سیاسی سمت کو روکنے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔ عمار کہتے ہیں کہ حسینہ واجد کے بعد بنگلہ دیش میں دو واضح رجحانات سامنے آئے ہیں۔ پہلا بھارت کی سیاسی اور خفیہ مداخلت کے خلاف ردعمل ہے جبکہ دوسرا، پاکستان کے ساتھ تعلقات کی بہتری کی خواہش ہے۔ عمار مسعود کہتے ہیں کہ 54 برس قبل بنگلہ دیش کے قیام کے وقت جو خواب دکھایا گیا تھا، اس کی تلخ حقیقت آج عثمان ہادی کے قتل کی صورت میں سامنے آ چکی ہے۔ ہادی کا قتل نہ صرف بنگلہ دیش کی انتخابی سیاست بلکہ پورے خطے کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر اس قتل کی شفاف تحقیقات نہ ہوئیں اور سیاسی تشدد کا سلسلہ نہ رکا تو آنے والے انتخابات متنازع ہو سکتے ہیں۔ بنگلہ دیش آج ایک ایسے مرحلے پر کھڑا ہے جہاں اس کی نئی نسل ماضی کے بیانیوں سے ہٹ کر مستقبل کا تعین کرنا چاہتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آیا یہ آواز دبائی جائے گی یا عثمان ہادی کا خون ایک نئی سیاسی بیداری کو جنم دے گا۔

Back to top button