فوج نے جو مذاکرات شروع نہیں کیے، عمران نے انہیں ختم کیسے کر دیا ؟

فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مذاکرات کی خواہش بار بار رد کیے جانے کے باوجود اب بانی پی ٹی آئی عمران خان نے یہ اعلان کر دیا ہے کہ وہ آئندہ اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات نہیں کریں گے، دلچسپ بات یہ ہے کہ عمران خان نے جو مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کیا ہے وہ تو کبھی شروع ہی نہیں ہوئے تھے۔ ویسے بھی فوجی ترجمان بڑی وضاحت کے ساتھ یہ بتا چکے ہیں کہ 9 مئی کو فوجی تنصیبات پر حملہ کرنے والوں کے ساتھ معافی مانگنے تک کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہو سکتے۔ عمران نے فوجی ترجمان کا یہ مطالبہ سختی سے رد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اصل میں فوج کو ان سے کی جانے والی ذیادتیوں پر معافی مانگنی چاہیے، چنانچہ دونوں فریقین کے مابین مذاکرات کا چاند طلوع ہونے سے پہلے ہی غروب ہو گیا تھا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان حقائق کی روشنی میں عمران خا۔ کی جانب سے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مذاکرات ختم کرنے کا اعلان مضحکہ خیز ہے اور وہ حسب سابق عوام کو ماموں بنانے کے لیے خود ساختہ کہانیاں گھڑ رہے ہیں۔
یاد رہے عمران نے کہا ہے کہ اب ان کی پارٹی میں سے کسی نے بھی اسٹیبلشمنٹ سے بات نہیں کرنی، یہ دھوکے باز ہے، میں نے پہلے کبھی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بات چیت کے دروازے بند نہیں کیے، لیکن آج میں یہ دروازے بند کر رہا ہوں۔ عمران خان نے یہ بیان 8 ستمبر کے جلسے کے بعد حکومت کی جانب سے تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کو گرفتار کیے جانے پر اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دیا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اپنی پارٹی کو ہدایت کر دی ہے کہ اب فوجی اسٹیبلشمنٹ سے کوئی شخص بات نہیں کرے گا، اسٹیبلشمنٹ نے ہمیں دھوکا دیا ہے، سانحہ 9 مئی کے ملزم عمران خان نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ نے ملک کی خاطر انہیں 22 اگست کا جلسہ ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی، حالانکہ جلسے کے لیے ہمارے قافلے بھی نکل چکے تھے۔ فوجی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف جنگ میں اپنی جان بھی نچھاور کر دینے کے دعوے کرنے والے کپتان کا کہنا تھا کہ انہیں 8 ستمبر کے جلسے کی تاریخ بھی فوجی اسٹیبلشمنٹ نے دی تھی جس کے لیے این او سی بھی جاری کیا گیا، لیکن 8 ستمبر کے جلسے پر بھی ہمیں دھوکا دیا گیا، جس طرح جنرل یحیی خان نے مجیب الرحمن کو دھوکہ دیا اسی طرح مجھے بھی دھوکا دیا گیا، مجیب الرحمن سے بھی ایک جانب بات چیت جاری تھی اور دوسری جانب اسکے خلاف آپریشن کا پلان بنایا جا رہا تھا، اسی طرح ہمارے ساتھ بھی واردات کی گئی۔ عمران نے کہا کہ ان کی پہلے سے تیاری تھی اسی لیے 10 ہزار لوگوں کو 24 گھنٹے میں اٹھا لیا گیا، دنیا میں کہیں بھی جلسے کا ٹائم مقرر نہیں کیا جاتا۔
آخر کار قاضی فائز عیسیٰ کا عہدے میں توسیع پر رضامندی کا اظہار
ایک صحافی نے عمران خان سے سوال کیا کہ ایک جانب تو آپ فوجی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف جنگ لڑنے کے دعوے کرتے ہیں اور دوسری طرف آپ بتا رہے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ سے آپ کے مذاکرات چل رہے تھے، اس سوال کا جواب دیتے ہوئے عمران نے کہا کہ میں نے اپنی پارٹی کو بات چیت کی اجازت دے رکھی تھی، اعظم سواتی بھی تو 22 اگست کا جلسہ ملتوی کرانے کے لیے اسٹیبلشمنٹ کا ہی پیغام لے کر آیا تھا۔ صحافی نے پوچھا آپ کی جانب سے اسٹیبلشمنٹ سے کون بات چیت کر رہا تھا، اس پر عمران نے کہا کہ ہمارے پانچ لوگ اس سے بات چیت کر رہے تھے، میں نے پہلے کبھی فوج سے بات چیت کے دروازے بند نہیں کیے، لیکن آج یہ دروازے بند کر رہا ہوں، یہ آج بھی یحییٰ خان والی پالیسی کو لے کر چل رہے ہیں۔
تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کے دروازے بند کرنے کا اعلان کرنے والے عمران ایسے دعوے کر کے کسی اور کو نہیں بلکہ خود کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ انکا کہنا یے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ تو جنرل فیض حمید کا کورٹ مارشل کرنے کے بعد عمران کو بھی 9 مئی کی سازش کے الزام میں ملٹری کورٹ لے جانے کی تیاری کر رہی ہے، ایسے میں اسے عمران خان کے ساتھ مذاکرات کی کوئی ضرورت نظر نہیں۔ ویسے بھی عمران خان نے خود کہا ہے کہ وہ اعظم سواتی جیسوں کے ذریعے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں۔ یعنی فوجی اسٹیبلشمنٹ کا کوئی نمائندہ کبھی براہ راست عمران خان سے نہیں ملا، لہذا ان کی جانب سے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مذاکرات کے دروازے بند کرنے کے اعلان کی حیثیت ایک لطیفے سے ذیادہ نہیں۔
