کپتان حکومت نے PIA کا روز ویلٹ ہوٹل کیسے دیوالیہ کیا؟

نیویارک میں واقع پی آئی اے کے ملکیتی انتہائی قیمتی ہوٹل روز ویلٹ کی مالی حالت دگرگوں ہونے کے بعد اس کا مکمل طور پر دیوالیہ نکل گیا ہے اور اب اسے تالے ڈال دیئے گئے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ تاریخی ہوٹل نیویارک کے کمرشل علاقے مین ہیٹن میں واقع ہے اور پاکستانی روپوں میں اسکی مالیت اربوں میں بنتی ہے۔
گزشتہ برس نیشنل بینک کے قرض سے مصنوعی آکسیجن پر چلنے والے اس قیمتی ہوٹل کی انتظامیہ نے وزارت خزانہ کو آگاہ کیا تھا کہ کرونا کے باعث کاروباری سرگرمیان نہ ہونے کی وجہ سے روز ویلٹ ہوٹل اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے حاصل کی گئی قرض اور سود کی رقوم واپس کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے لہٰذا اسکا قرض دو سال کے لئے ری شیڈول کیا جائے۔ خیال رہے کہ روز ویلٹ ہوٹل پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کی کمپنی پی آئی اے انوسٹمنٹ انٹرنیشنل کی ملکیت ہے۔ یہ ہوٹل کافی عرصے سے خسارے میں ہونے کی وجہ سے خبروں میں تھا۔ اس کی نجکاری کے حوالے سے بھی خبریں گردش کرتی لیکن حکومت اس کے بارے میں ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کر پائی۔
اردو نیوز کی رپورٹ کے مطابق وزارت ہوا بازی کی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کو منظوری کے لیے بھیجی گئی سمری میں کہا گیا ہے کہ نیو یارک میں کاروباری مراکز بند ہونے کی وجہ سے روز ویلٹ ہوٹل کو اپنے اخراجات پورے کرنے، قرضوں کی ادائیگی اور ملازمین کی تنخواہوں میں مشکلات کا سامنا تھا۔ اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے ایوی ایشن ڈویژن کی درخواست پر وزارت خزانہ نے نیشنل بینک آف پاکستان سے 14 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کے قرض کا انتظام کیا تھا۔ پی آئی اے کے مطابق اگر اس وقت رقم کا انتظام نہ ہوتا تو قرضوں کی عدم ادائیگی کی وجہ سے ہوٹل کو دیوالیہ قرار دے کر قبضہ کیا جا سکتا تھا تاہم نیشنل بینک کی جانب سے رقم کی فراہمی کی وجہ سے ہوٹل دیوالیہ ہونے سے بچ گیا تھا۔ پی آئی اے انوسٹمنٹ لمیٹڈ نے قرض کی 3 کروڑ 55 لاکھ ڈالرز کی رقم چار اقساط میں واپس کرنا تھی۔ پہلی قسط 31 دسمبر 2021 کو واجب الادا تھی۔ تاہم روز ویلٹ ہوٹل کی انتطامیہ نے آگاہ کیا ہے کہ خسارے میں چلنے والے ہوٹل کو بند کر دیا گیا ہے اس لیے یہ قرض اور سود کی رقم ادا کرنے سے قاصر ہے۔ وزارت خزانہ نے بھی روز ویلٹ ہوٹل کی جانب سے بیان کی گئی وجوہات سے اتفاق کیا ہے اور ایوی ایشن ڈویژن کی قرض اور سود کی رقم ری شیڈول کرنے کی تجویز سے بھی اتفاق کیا گیا ہے۔
اب وزارت خزانہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کو تجویز دی ہے کہ قرض اور سود کی رقم کو دو سال کے لیے ری شیڈول کرنے کی منظوری دی جائے۔
نواز کو نکالنے اور عمران کو لانے کے لئے ملک داؤ پر لگا دیا گیا
یاد رہے کہ امریکی شہر نیویارک میں مین ہیٹن کے اہم مقام پر واقع 19 منزلہ روز ویلٹ ہوٹل 1978 میں اس کے اپنے منافع سے شراکت داری کی بنیادی پر حاصل کیا گیا تھا۔ 1999 میں پی آئی اے نے اپنے وسائل اور حکومت سے کسی قسم کی امداد کے بغیر 36.5 ملین ڈالرز کے عوض اس ہوٹل کے 100 فیصد حصص حاصل کر لیے تھے۔ لیکن 9 اکتوبر 2021 کو ہوٹل روز ویلٹ کو مستقل طور پر بند کرنے کا اعلان کر دیا گیا تھا۔روز ویلٹ ہوٹل نے اپنی ویب سائٹ پر اعلان کیا تھا کہ وہ 31 اکتوبر سے مہمانوں کے لیے اپنے دورازے مستقل طور پر بند کردے گا۔ اعلان میں کہا گیا کہ موجودہ معاشی اثرات کی وجہ سے روز ویلٹ ہوٹل 100 برس تک مہمانوں کو خوش آمدید کرنے کے بعد نہایت افسوس کے ساتھ اپنے دروازے بند کر رہا ہے۔ یہ بھی کہا گیا تھا کہ اس ہوٹل کی نجکاری سمیت متعدد آپشنز بھی زیر غور ہیں۔ پی آئی اے کے مطابق نجکاری کا معاملہ نجکاری کمیشن کا فنانشل ایڈوائزری معاملات دیکھ رہا ہے اور وہی اس کے مستقبل کا فیصلہ کرے گا۔ لیکن تازہ ترین صورت حال یہ ہے کہ روزویلٹ ہوٹل اب دیوالیہ ہونے کے قریب ہے اور اس کے آپریشنز بند کر کے عمارت کو تالے لگا دیے گئے ہیں۔
