عمران خان نے پاکستانی تاریخ کا سب سے بڑا مالی ڈاکہ کیسے مارا ؟

معروف لکھاری اور تجزیہ کار عمار مسعود نے کہا ہے کہ عمران خان اور ان کے وکلا نے 190 ملین پاؤنڈز کیس میں بہت سارے لوگوں کو بے وقوف بنایا اور کئی لوگوں کو عمرانی میڈیا اور سوشل میڈیا نے گمراہ کیا۔ اس حوالے سے مسلسل جھوٹ بولا گیا اور عوام کو کنفیوژ کرتے ہوئے اسے سیاسی انتقام کا نتیجہ قرار دینے کی کوشش کی گئی، لیکن اس کیس میں عمران خان اور بشر بی بی کے خلاف شواہد اتنے ٹھوس تھے کہ ان دونوں کا بچنا ممکن نہیں تھا۔
عمار مسعود عمران کے خلاف 190 ملین پاؤنڈز کیس کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ملک ریاض کو کراچی میں بحریہ ٹاؤن کی زمیں کی ایک کیس میں سپریم کورٹ نے 460 ارب روپے جرمانہ جمع کروانے کا حکم دیا تھا۔ اسی دوران برطانیہ میں ملک ریاض کے ایک اورنکیس میں 190 ملین پاؤنڈز ضبط ہو گے۔ برطانیہ نے وہ رقم حکومت پاکستان کو لوٹانے کا فیصلہ کیا۔ عمران خان نے کابینہ سے سربمہر لفافوں پر دستخط کروائے اور وہی رقم ملک ریاض کو عطا ہو گئی۔ اس وفا شعاری کے سلسلے میں عمران خان اور ان کی اہلیہ کو سوہاوہ کے پاس 458 کنال زمین کی رشوت پیش کی گئی اور اس کے علاوہ 285 ملین فوراً بطور چندہ بھی دے دیے گئے۔ رشوت کی اس کارروائی کو القادر یونیورسٹی کا نام دیا گیا جس کے بینیفشری صرف عمران خان اور بشریٰ بی بی ہیں۔
عمار مسعود کہتے ہیں کہ اب ہم ان لوگوں پر توجہ دیتے ہیں جن کو اس سلسلے میں بے وقوف بنایا گیا۔ یہ فہرست سن کر آپ بھی دنگ رہ جائیں گے اور تب آپ کو احساس ہوگا کہ عمران خان اور گینگ اصل میں سنگین مجرموں کا گینگ ہے۔ جنہوں نے اپنی حفاطت کے لیے چند سوشل میڈیا ایکٹوسٹس اور چند میڈیا اینکرز پال رکھے ہیں۔
سب سے پہلے اس سلسلے میں حکومت برطانیہ کو بے وقوف بنایا گیا۔ برطانوی حکومت کی نیشنل کرائم ایجنسی نے پاکستان سے لوٹی رقم حکومت پاکستان کو لوٹانے کا فیصلہ کیا۔ یہ ان کی نیکی تھی۔ انہیں کیا پتا تھا کہ یہاں کیسے کیسے ٹھگ بیٹھے ہیں۔ شہزاد اکبر ان دنوں جنرل فیض حمید اور عمران خان کی تکون کا اہم جزو تھے۔ سوچیں انہوں نے مل کر کیا کیا جرائم کیے ہوں گے۔ بدنام زمانہ شہزاد اکبر نے پوری حکومت برطانیہ کو دھوکا دیا اور حکومت پاکستان کا غلط اکاؤنٹ نمبر دیا۔ اس لیے رقم پاکستان کے پاس آنے کے بجائے اس اکاؤنٹ میں چلی گئی جہاں ملک ریاض کے واجبات کے لیے رقم جمع کی جارہی تھی۔ غلطی شہزاد اکبر سے یہ ہوئی کہ انہوں نے برطانوی حکومت کو اکاؤنٹ نمبر نومبر 2019 میں دیا جبکہ کابینہ سے فیصلہ دسمبر میں کروایا گیا۔ اس سے یہ پتا چلتا ہے کہ جرم کے لیے کتنی عمیق منصوبہ بندی کی گئی۔ برطانیہ میں کوئی یہ سوچ بھی نہیں سکتا ہوگا کہ کوئی اہم حکومتی عہدیدار انہیں غلط اکاؤنٹ نمبر بھی دے سکتا ہے۔
عمار مسعود کے بقول اس کیس میں دوسرے نمبر پر ریاست پاکستان کو بے وقوف بنایا گیا۔ 190 ملین پاؤنڈز پاکستان سے لوٹے گئے تھے۔ یہ غریبوں کو پلاٹوں کے جھانسے دے دے کر جمع کی ہوئی غیرقانونی رقم تھی جو بنا کسی حساب کتاب کے برطانیہ میں پڑی ہوئی تھی۔ جب برطانیہ نے اس رقم کو واپس کرنے کا فیصلہ کیا تو اس رقم پر کسی ٹھیکیدار کا نہیں بلکہ ریاست پاکستان کا حق تھا۔ مگر نہایت چالبازی سے اس حق کو لوٹ لیا گیا۔ عمران خان نے تیسرے نمبر پر اپنی کابینہ کو بے وقوف بنایا۔ وہ سارے لوگ جو سارا دن عمران خان کا چینلوں پر دفاع کرتے تھے، ان کے لیے جھوٹا بیانیہ گھڑتے تھے ان کو دھوکے میں رکھا گیا۔ سربمہر لفافے میں ان کو ایک دستاویز دی گئی اور ان سے کہا گیا کہ کوئی سوال پوچھے بغیر اس پر دستخط کردیں۔ وجہ یہ بتائی گئی کہ یہ قومی سلامتی کا معاملہ ہے۔ لفافہ نہ کوئی قومی راز تھا نہ سرکاری دستاویز۔ اس لفافے میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی حرص چھپی تھی۔ اس طمع کی خاطر انہوں نے اپنی کابینہ کو بھی دھوکے میں رکھا۔
عمار مسعود کے بقول چوتھے نمبر پر اس کیس میں عمران خان نے اپنے سپورٹرز کو بے وقوف بنایا۔ وہ سارے لوگ جو یقین کرتے تھے کہ عمران خان ملک کی قسمت بدل سکتا ہے، کرپشن ختم کرسکتا ہے، انقلاب لاسکتا ہے، نعوذ باللہ ریاست مدینہ جیسی ریاست بنا سکتا ہے، ان سب کے سپنوں پرعمران خان نے کیچڑ پھینک دیا۔ ان کے خوابوں کو ملیامیٹ کر دیا۔ وہ معصوم لوگ جو ٹک ٹاک پر یقین رکھتے تھے، فیس بک کے سٹیٹس کو سچ سمجھتے تھے، ٹوئیٹر کے ٹرینڈ کو حرف آخر سمجھتے تھے وہ سارے لوگ اس ملک کی بہتری چاہتے تھے مگر عمران نے ان کو اتنا بڑا دھوکا دیا کہ کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ عمران خان نے اپنے لالچ کی خاطر ایک پوری نسل کو بے وقوف بنایا۔ عمران نے اپنی رشوت کو ٹھکانے لگانے کا نام القادر یونیورسٹی رکھا کہ وہاں روحانیت کی تعلیم دی جائے گی۔ عمران خان نے سب سے بڑا بے وقوف اپنے ہر اس سپورٹر کو بنایا جو اسلام سے محبت کرتا ہے، جو روحانیت پر یقین رکھتا ہے، جو دین اسلام سے عشق کرتا ہے، جو دینی مدرسوں سے عقیدت رکھتا ہے، جو شریعت کا قانون چاہتا ہے، جو اسلامی نظام کا نفاذ چاہتا ہے۔ عمران خان نے اپنے اس سپورٹر کو مذہبی ٹچ القادر یونیورسٹی کی صورت میں لگایا۔ ان کے مذہبی جذبات کی آڑ میں ریاست پاکستان پر ڈاکا مارا۔ دوسروں کو چور ڈاکو کہتے کہتے عمران خان نے اس ملک کا سب سے بڑا ڈاکا مارا اور اس کے لیے مذہب کا نام بے دریغ استعمال کیا۔
عمران خان کو 190 ملین پاؤنڈز کیس میں کن الزامات کا سامنا تھا ؟
عمار مسعود کہتے ہیں کہ عمران خان برطانوی حکومت کے بھی مجرم ہیں، ریاست پاکستان کے بھی، اپنی کابینہ کے بھی مجرم ہیں اور اپنے سپورٹرز کے حوالے سے بھی وہ خطا کار ہیں۔ یہ خطائیں شاید معاف ہوجائیں مگر لوگوں کے مذہبی جذبات کا اپنی لوٹ مار کے لیے استعمال کرنے کا گناہ شاید کبھی معاف نہ ہوسکے اور اس کی سزا اس دنیا کی کوئی عدالت نہ دے سکے۔
