عمران خان نے اپوزیشن اتحاد کی پیٹھ میں چھرا کیسے گھونپا؟

 

 

 

عمران خان کے موجودہ حکومت سے کسی بھی قسم کے مذاکرات نہ کرنے کے اصولی مؤقف کے برعکس ان کے اپنے بنائے گئے اپوزیشن اتحاد نے محمود اچکزئی کی قیادت میں حکومت سے مذاکرات پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ دوسری جانب عمران خان نے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کو حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کرنے کی ہدایت دے دی ہے،اس صورتِ حال سے واضح ہوتا ہے کہ عمران خان فی الحال بات چیت کے لیے تیار نہیں ہیں۔

 

خیال رہے کہ تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان نے دو روزہ قومی مشاورتی کانفرنس کے اعلامیے میں ملک میں نئے، شفاف اور منصفانہ انتخابات کا مطالبہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اپوزیشن مذاکرات کے لیے ہر وقت تیار ہے۔ تاہم ایک طرف اپوزیشن اتحاد حکومت سے مذاکرات پر آمادگی ظاہر کرچکا ہے، تو دوسری جانب اسی اتحاد کے محرک اور بانی پی ٹی آئی عمران خان نے عسکری قیادت پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا کو ہدایت دی ہے کہ وہ مختلف طبقاتِ فکر کے عوام کو ساتھ لے کر سڑکوں پر نکلیں۔ ایسی صورتِ حال میں یہ سوال شدت اختیار کر جاتا ہے کہ جب اپوزیشن جماعتیں مذاکرات کی بات کر رہی ہیں تو عمران خان کی احتجاجی کال کا اصل مقصد کیا ہے؟ کیا عمران خان بیک وقت مذاکرات اور احتجاج کی دوغلی حکمتِ عملی کے ذریعے کسی خاص سیاسی فائدے کے حصول کی کوشش کر رہے ہیں، یا یہ حکمتِ عملی اپوزیشن کے اندر مزید ابہام اور انتشار کو جنم دے گی؟

 

سینیئر تجزیہ کار انصار عباسی کے مطابق عمران خان اور پی ٹی آئی جس نوعیت کا بیانیہ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بنا رہے ہیں، اس تناظر میں عمران خان کی رہائی کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ ان کے بقول عمران خان اپنی جارحانہ اور مزاحمتی سیاست سے پیچھے نہ ہٹے تو نہ صرف آئندہ سال بلکہ آنے والے کئی برسوں تک بھی عمران خان کے جیل سے باہر آنے کی کوئی امید دکھائی نہیں دیتی۔ انصار عباسی کا مزید کہنا تھا کہ اگرچہ تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان نے مذاکرات کے لیے ہر وقت تیار رہنے کا اعلان کیا ہے، لیکن عمران خان کی جانب سے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کو سٹریٹ موومنٹ شروع کرنے کی ہدایات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ عمران خان فی الحال بات چیت کے لیے آمادہ نہیں ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی مذاکرات جبکہ عمران خان احتجاج آگے بڑھانے کی بات کر رہے ہیں لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا پی ٹی آئی محمود خان اچکزئی کی بات مانے گی یا عمران خان کی احتجاجی حکمتِ عملی پر عمل کرے گی۔ انصار عباسی کے مطابق مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ خود عمران خان اور ان کے بیانات ہیں۔ انصار عباسی کے بقول اسٹیبلشمنٹ اور پی ٹی آئی کے مابین مذاکرات کا ماحول بن سکتا ہے، مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ عمران خان اور پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا فوج مخالف مہم اور اعلیٰ عسکری قیادت کے خلاف ذاتی تنقید سے پیچھے ہٹ جائے اور عمران کان اپنے کئے پر معافی مانگ لیں۔ تاہم جب تک عمران خان کی جانب سے فوج مخالف مہم کی واضح مذمت کرتے ہوئے معافی نہیں مانگی جاتی، معاملات آگے نہیں بڑھ سکتے۔

نیا پاکستان بنانے کے چکر میں عمران نے پرانا پاکستان کیسے برباد کیا

سینیئر تجزیہ کار احمد ولید کے بقول تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کی کانفرنس کے ذریعے اپوزیشن نے تو مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کر دی ہے، تاہم حکومت اس وقت مذاکرات کے موڈ میں نظر نہیں آ رہی۔ ان کے مطابق ماضی میں صورتحال اس کے برعکس ہوتی تھی، جب حکومت مذاکرات کی پیشکش کرتی تھی اور اپوزیشن انکار کر دیتی تھی، احمد ولید کے مطابق اپوزیشن جماعتیں تو حکوت سے مذاکرات کے حق میں ہیں تاہم عمران خان اب بھی صرف اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کرنے کے خواہاں ہیں تاہم حقیقت یہ ہے کہ اس نوعیت کے مذاکرات فی الحال کسی صورت ممکن نظر نہیں آ رہے۔ ایک سوال کے جواب میں احمد ولید کا کہنا تھا کہ عمران خان کی رہائی کے امکانات اس وقت انتہائی معدوم ہیں کیونکہ حالیہ دنوں میں عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ سے آنے والے بیانات کے بعد حکومت کبھی بھی پی ٹی آئی سے مذاکراتی عمل آگے نہیں بڑھائے گی، ویسے بھی جس طرح 9 مئی کے مقدمات کے فیصلے سنائے جا رہے ہیں اور عمران خان و بشریٰ بی بی کو توشہ خانہ ٹو کیس میں سزائیں دی گئی ہیں، اس سے یہی تاثر ملتا ہے کہ آنے والے دنوں میں عمران خان یا پی ٹی آئی کے ساتھ کسی قسم کی نرمی کا کوئی امکان نہیں۔

اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سینیئر تجزیہ کار ماجد نظامی کا کہنا ہے کہ اگرچہ تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان مذاکرات اور شفاف انتخابات کی بات کر رہی ہے، لیکن 9 مئی اور دیگر مقدمات میں آنے والے فیصلوں اور حکومت کے جارحانہ مؤقف کو دیکھتے ہوئے اپوزیشن کے لیے کسی بھی ریلیف کا امکان نظر نہیں آتا۔ انہوں نے کہا کہ محمود خان اچکزئی، فواد چوہدری، علامہ ناصر عباس اور دیگر رہنما تناؤ کم کرنے اور مذاکرات کو آگے بڑھانے کی کوشش تو کر رہے ہیں، تاہم حکومت اور اسٹیبلشمنٹ اس وقت تحریکِ انصاف کے لیے کسی نرمی کے موڈ میں دکھائی نہیں دیتے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی سٹریٹ پاور ختم ہو چکی ہے۔ اس وقت حکومت کی پارلیمنٹ کے اندر اور باہر گرفت مضبوط ہو چکی ہے، اسی لیے ریاستی ادارے اور حکومت عمران خان کو کسی بھی قسم کا ریلیف دینے میں سنجیدہ نظر نہیں آ رہے۔

Back to top button