دوسروں کو غدار قرار دینے والے عمران خان خود غدار کیسے بنے

 

معروف لکھاری اور تجزیہ کار رؤف کلاسرا نے کہا ہے کہ آج فوجی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے غدار قرار دیے جانے والے عمران خان اپنے دورِ اقتدار میں روزانہ فوج کا دفاع کرتے ہوئے اپنے سیاسی مخالفین کو غدار قرار دیا کرتے تھے، لہٰذا یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ موصوف کو آج مکافاتِ عمل کا سامنا ہے۔

اپنے سیاسی تجزیے میں رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ آج جب عمران خان خود غداری کے الزام کا سامنا کر رہے ہیں تو اُن کی جماعت گلہ کر رہی ہے کہ جو بھی فوج کے خلاف کھڑا ہوتا ہے، اسے غدار قرار دے دیا جاتا ہے، لیکن اس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں۔ کلاسرا کے بقول حیران کن بات صرف اتنی ہے کہ عمران خان اب بھی اپنے سیاسی مخالفین کو غدار کہنے میں جھجھک محسوس نہیں کرتے۔ وہ اور انکے ساتھی آج بھی سابق آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کو میر جعفر اور میر صادق قرار دیتے ہیں حالانکہ انہوں نے عمران کو وزیراعظم بنانے کے لیے 2018 کے الیکشن میں بڑے پیمانے پر دھاندھلی کروائی تھی۔

سینیئر صحافی کا کہنا ہے کہ ہر وہ شخص جو عمران خان کے ہاتھ پر بیعت کرنے سے انکار کرتا ہے وہ ان کے نزدیک غدار ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ جس روز فوجی ترجمان کی جانب سے پریس کانفرنس میں عمران خان کو ’سکیورٹی رسک‘ قرار دیا گیا، اس سے دو روز قبل عمران اپنی ہی پارٹی کے چھ اراکین قومی اسمبلی کو نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد میں ایک کورس میں شرکت کرنے پر ’میر صادق‘ اور ’میر جعفر‘ کا لقب دے کر غدار قرار دے چکے تھے۔ کلاسرا کے بقول وہ حیران ہیں کہ ہمارا لاڈلا خان خود کو غدار قرار دیے جانے جانے پر اتنا حیران کیوں ہے، جبکہ وہ خود اپنے ناپسندیدہ افراد کے لیے ہمیشہ تین الفاظ کا استعمال کرتے ہیں یعنی میر جعفر، میر صادق اور غدار۔

سینیئر صحافی کے مطابق مکافاتِ عمل کے نتیجے میں عمران کو غدار اور سکیورٹی رسک قرار دیے جانے پر پی ٹی آئی کے رہنما آج فاطمہ جناح کی مثالیں دے رہے ہیں کہ انہیں بھی جنرل ایوب خان دور میں غدار قرار دیا گیا تھا۔ انصافیوں کا مؤقف ہے کہ غدار قرار دینا پرانا سیاسی کھیل ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو بھی سکیورٹی رسک قرار پائے تھے، بینظیر بھٹو کو بھی تب سکیورٹی رسک کہا گیا تھا۔ جب انہوں نے بھارتی وزیر اعظم راجیو گاندھی کو پاکستان بلا کر دو طرفہ تعلقات بہتر کرنے کی کوشش کی۔ یہ کوشش تب کے آرمی چیف جنرل اسلم بیگ کی قیادت میں ناکام بنا دی گئی تھی اور بے نظیر بھٹو کو گھر بھیج دیا گیا تھا۔

رؤف کلاسرا کے مطابق سابق بھارتی وزیراعظم آئی کے گجرال نے اپنی خودنوشت میں ایک واقعہ درج کیا ہے کہ راجیو گاندھی کے قتل کے بعد جب بینظیر بھٹو تعزیت کے لیے نئی دہلی گئیں تو ان کی ملاقات گجرال سے بھی ہوئی۔ گجرال نے شکوہ کیا کہ آپ نے اپنے وزیر خارجہ یعقوب خان کو یہ کہہ کر بھارت بھیجا تھا کہ ضرورت پڑی تو ایٹم بم استعمال کیا جا سکتا ہے۔ بینظیر بھٹو حیران رہ گئیں اور کہنے لگیں کہ کوئی فاترالعقل شخص ہی اپنے وزیر خارجہ کے ذریعے بھارت کو ایٹمی دھمکی بھیجے گا۔ ان کے بقول، بعد میں پتا چلا کہ یہ ہدایات جنرل اسلم بیگ نے یعقوب خان کو دی تھیں، جو کہ بینظیر بھٹو کے نام سے بھارتی وزیر خارجہ تک پہنچائی گئیں۔

سینیئر صحافی کے مطابق نواز شریف کا بھی کچھ ایسا ہی حال ہوا۔ جب بھارتی وزیراعظم واجپائی لاہور آئے تو چند ماہ بعد جنرل پرویز مشرف نے کارگل کا محاذ کھول دیا۔ بعدازاں نواز شریف نے مشرف کو برطرف کیا تو مشرف نے انہیں گرفتار کر کے دہشت گردی کے الزام میں چودہ سال قید کی سزا دلوا دی، الزام یہ تھا کہ وہ ان کا طیارہ اغوا کر رہے تھے۔ بعد میں سہیل وڑائچ نے ایک کتاب لکھی جس کا عنوان تھا: ’’غدار کون؟‘‘۔ آج عمران کے حامی بھی یہی شکوہ کر رہے ہیں کہ ان کے لیڈر کو غدار‘کہا جا رہا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ غدار قرار دینے کا کھیل وہ سیاسی قوتیں خود بھی کھیلتی رہی ہیں جو آج اس کا شکار ہیں۔ نواز شریف بھی ماضی میں بینظیر بھٹو کے خلاف یہی نعرہ لگاتے رہے کہ بھٹو خاندان ملک کے لیے سکیورٹی رسک ہے۔ پھر اسی نواز شریف کو عمران خان نے غدار کہا۔ تب عمران خان فوجی ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے پولنگ ایجنٹ تھے، جب نواز شریف کو غدار قرار دے کر 14 برس قید کی سزا سنائی گئی۔ آنے والے برسوں میں جنرل پاشا اور جنرل ظہیر الاسلام کی مدد کے بدلے عمران خان نواز شریف کے خلاف مودی کا یار اور غدار کے نعرے لگواتے رہے۔ یہ الگ بات ہے کہ وزیراعظم بننے کے بعد وہ خود یہ شکوہ کرتے رہے کہ وہ مودی کو فون کرتے ہیں مگر وہ ان کا فون نہیں اٹھاتا۔ یہ ساری داستان پاکستانی تاریخ میں غداری کے بازیچے کا خلاصہ ہے جسے ہر دور میں ہر فریق نے اپنی ضرورت کے تحت استعمال کیا اور جس کا شکار آج عمران خان جیسے وہ لوگ خود بھی بھی بن رہے ہیں جو کل تک دوسروں کے لیے یہی فتوے جاری کرتے تھے۔

Back to top button