عمران خان کی بھٹو بننے کی کوشش کیسے ناکام ہوئی؟

معروف صحافی اور اینکر پرسن سلیم صافی نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے جلسے میں لہرائے جانے والے مبینہ دھمکی آمیز خط میں نہ تو کسی مغربی ملک کی طرف سے عمران کو کوئی دھمکی دی گئی اور نہ ہی ان کی حکومت گرانے کی سازش کا کوئی ثبوت موجود ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ

عمران خان کی یہ حرکت صرف ایک ڈرامہ ہے جسکے ذریعے انہوں نے بھٹو بننے کی ناکام کوشش ہے۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں سلیم صافی کہتے ہیں کہ ہم جیسے لوگوں نے بھی عمران خان کی پوری تقریر سننے کی اذیت برداشت کی لیکن اس پہاڑ سے بھی بالآخر ایک چوہا ہی نکل سکا۔ انکے بقول خان صاحب دعویٰ کرتے رہے کہ خط میں ان کی حکومت کے خلاف سازش کا ثبوت ہے لیکن اس کے مندرجات نہیں بتاتے۔

وہ کاغذ لہرا لہرا کر یہ تاثر دے رہے تھے کہ ان کے خلاف عالمی سازش ہورہی ہے لیکن یہ نہیں بتا سکے کہ کس طرح کی سازش ہے اور کس نے تیار کی یے۔ انہوں نے بھٹو کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے بھٹو دِکھنے کی بھی کوشش کی لیکن بھٹو کی طرح یہ بتانے کی ہمت نہ کر سکے کہ سازش کرنے والا کون ہے اور اس کی ناراضی کی وجہ کیا ہے ؟ چنانچہ اب اس کاغذ کے بارے میں مختلف چہ میگوئیاں ہورہی ہیں۔

کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ یہ یورپین یونین کے سفیروں کا خط ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ کسی مغربی ملک میں پاکستانی سفیر کا اس ملک کے پاکستان کے بارے میں جذبات کی سمری پر مشتمل دستاویز ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ امریکہ اور پاکستان کے نیشنل سیکورٹی ایڈوائزرز کے مابین میٹنگ کے منٹس ہیں، کچھ لوگ بتاتے ہیں کہ یہ ان کے دورہ روس سے قبل پاکستانی اور امریکی دفتر خارجہ کے درمیان ہونے والی بات چیت کے منٹس ہیں،

لیکن جہاں تک میری تحقیق کا تعلق ہے یہ ایسی کوئی دستاویز نہیں جس میں کسی مغربی ملک کی طرف سے عمران کو دھمکی ہو یا پھر ان کی حکومت گرانے کی سازش ہو۔ بقول سلیم صافی، انکے اس دعوے کی کچھ بنیادیں ہیں۔ صافی کہتے ہیں کہ پہلی بنیاد تو یہ ہے کہ اگر کسی ملک نے کسی حکومت وقت کے خلاف سازش کرنی ہو یا حکمران کو دھمکی دینی ہو تو وہ کبھی دستاویزی شکل میں نہیں دیتا۔

دوسری بات یہ کہ امریکہ اور مغربی ممالک پاکستان کے سیاسی اسٹرکچر کو بخوبی جانتے ہیں، انہیں معلوم ہے کہ عمران خان نے زبان چلانے کے سوا ان کے مفادات کے خلاف کوئی کام نہیں کیا۔ اس لیے انکے پاس کوئی جواز نہیں کہ وہ عمران کی حکومت گرانے پر وقت ضائع کریں۔ تیسرا پوائنٹ یہ ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات مدوجزر کا شکار رہے ہیں۔

قطر معاہدے میں پاکستان کے کردار سے امریکی بہت مطمئن تھے لیکن پھر جب منصوبے کے خلاف طالبان قبل ازوقت کابل پر قابض ہوگئے اور جہازوں سے افغانوں کے گرنے کے مناظر امریکیوں اور یورپینز نے دیکھے تو وہ ماضی میں طالبان سے متعلق پاکستانی ریاست کی پالیسی کی وجہ سے اس پر بہت غصہ تھے.

لیکن وہ عمران کی حکومت پر نہیں بلکہ پاکستانی ریاست پر غصہ تھے کیونکہ امریکی اور یورپی ممالک جانتے ہیں کہ افغان پالیسی کی تشکیل اور اس پر عمل درآمد میں عمران خان کا اتنا ہی کردار ہے جتنا پرویز خٹک کا دفاعی معاملات میں۔ بقول صافی، انہوں نے دھمکی دینی ہوتی تو آرمی چیف یا پھر ڈی جی آئی ایس آئی کو دیتے۔ اور انہوں نے اگر کوئی سازش کرنی ہے تو پاکستانی فوج کے خلاف کریں گے۔

چوتھی بات یہ کی ٹرمپ کے ساتھ ملاقات اور اس پر پاکستان میں جشن منانا کسی اعلیٰ امریکی عہدیدار کے ساتھ عمران کا آخری رابطہ تھا۔ جب سے بائیڈن صدر بنے ہیں، کسی اعلیٰ امریکی عہدیدار نے بھی عمران سے کوئی بات نہیں کی۔ اس دوران امریکیوں نے جب بھی رابطہ کیا تو آرمی چیف یا ڈی جی آئی ایس آئی سے کیا۔ سویلین سطح پر جو ایک اعلیٰ سطحی رابطہ ہوا ہے وہ نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر معید یوسف سے ہوا جس کے بعد وہ ایک انٹرویو میں کہہ چکے ہیں کہ نہ تو کسی دھمکی اور ناراضی کی بات ہوئی اور نہ ہی فوجی اڈوں پر کوئی بات ہوئی۔

پانچویں بات یہ کہ جہاں تک یورپین سفیروں کے خط کا تعلق ہے تو یہ ایک سفارتی معمول ہے۔ ہر ملک کے سفیر متعلقہ ممالک کو اپنے ملک کے مطالبات پر مبنی خطوط لکھتے رہتے ہیں اور وہ ملک اپنی پالیسی کے مطابق یا تو جواب دیتے ہیں یا پھر خاموشی اختیار کرلیتے ہیں۔

مثلاً امریکہ میں ہمارا سفیر مختلف مواقع پر خطوط لکھ کر امریکیوں سے کشمیر پر حمایت کا مطالبہ کرتا رہتا ہے لیکن امریکی اس کا برا مناتے ہیں اور نہ ان کے مطالبے کو تسلیم کرتے ہیں۔ یوں سفارتکاری میں اس طرح کے میمورنڈم بھیجنا ایک معمول ہے۔

سلیم صافی کا کہنا ہے کہ جو ممالک دھمکی دیتے ہیں وہ قطعاً تحریری شکل میں نہیں دیتے بلکہ اپنے عہدیداروں کی متعلقہ ملک کے مختاروں کے ساتھ براہ راست ملاقاتوں میں پیغام دیتے ہیں یا پھر اس ملک میں اپنے سفارتخانے کے ذریعے ناراضی پہنچاتے ہیں اور اس حوالے سے عملی اقدامات کرتے ہیں۔

مثلاً اس وقت ہم جانتے ہیں کہ امریکہ کا اصل ہدف چین ہے تو کیا چین کو امریکہ نے کوئی خط لکھ کر دھمکی دی ہے؟ نہیں بلکہ چین کے ساتھ مکالمہ جاری رکھ کر امریکہ نے جی سیون اور نیٹو کے اجلاس میں بی آر آئی کے جواب میںاپنا پروجیکٹ شروع کرنے کے ذریعے دھمکی دی۔

صافی کا کہنا ہے کہ عمران خان نا تو یہ دھمکی آمیز خط پارلیمنٹ میں دکھانا چاہتے ہیں اور نہ ہی عوام کو حالانکہ پاکستان کی سلامتی کے خلاف کسی سازش کو ڈسکس کرنے کا اولین اور بنیادی فورم نیشنل سیکورٹی کمیٹی ہے۔ انکا کہنا ہے کہ میری معلومات کے مطابق اس کمیٹی میں آج تک عمران خان کو ہٹانے کے لیے کسی عالمی سازش کا کوئی موضوع زیر بحث نہیں آیا۔

لہذا اگر عمران خان کے پاس کوئی جینوئن ثبوت ہے تو جلسے میں قوم کے سامنے لہرانے کی بجائے وہ اسے نیشنل سیکورٹی کمیٹی میں کیوں نہیں لاتے؟ نیشنل سیکورٹی کمیٹی کے دیگر ذمہ دار اراکین تو اس معاملے پر خاموش ہیں لیکن عمران کی خوشامد میں تمام حدود عبور کرنے والے وزیر داخلہ شیخ رشید بھی کہتے ہیں کہ ان کے نوٹس میں ایسا کوئی خط یا دستاویز نہیں ہے۔

عمران خان اگر ایک ذمہ دار وزیراعظم ہوتے تو بھٹو بننے کے شوق میں اس طرح کی دستاویز کو جلسے میں نہ لہراتے اور اب جب لہرا دی ہے تو پھر ہمت کرکے بتادیں کہ یہ کس ملک کی سازش ہے اور کس طرح کی سازش ہے۔

اگر وہ ثبوت دکھادیں کہ ان کی حکومت یا پاکستان کے خلاف مغربی طاقت عدم اعتماد کی سازش کررہی ہے تو سب سے پہلے میں ان کے ساتھ کھڑا ہوں گا اور اپوزیشن سے بھی کھل کر یہ مطالبہ کروں گا کہ وہ عدم اعتماد سے دستبردار ہوجائے۔

سلیم صافی کہتے ہیں کہ میں عمران خان کی بات کو میں اس لیے بھی ڈرامہ سمجھتا ہوں کہ وہ مسلسل ایبسلوٹلی ناٹ کا absolute جھوٹ بول رہے ہیں۔ اب اگر ان کی اس طرح کی غلط بیانیوں کا ریکارڈ نہ ہوتا تو پھر بھی ہم ان کو شک کی گنجائش دے کر ان کی بات پر یقین کر سکتے تھے۔

دھمکی آمیز خط ،حکومت کا پارلیمنٹ کا ان کیمرہ اجلاس بلانے کا فیصلہ

سب سے بڑی بات یہ ہے کہ عمران نے امریکہ یا اس کے اتحادیوں کے مفادات کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا بلکہ چین کے ساتھ معاملات خراب کرکے اور سی پیک کابرا حشر کرکے وہ بالواسطہ امریکیوں کی بڑی خدمت کررہے ہیں۔ معیشت کو آئی ایم ایف کے ذریعے گروی رکھنے اور امریکہ کی ڈکٹیٹڈ قانون سازی کرنے سے انہوں نے امریکہ کی بڑی خدمت کی۔

پاکستانی اداروں کو متنازعہ بنایا جو امریکہ کی خواہش ہے۔ ان حالات میں کوئی کیسے یقین کرے کہ امریکہ ایسی حکومت کے خلاف سازش کرے گا جو بالواسطہ اس کا کام آسان کررہی ہے۔

How did Imran Khan’s attempt to become Bhutto fail? | video in Urdu

Back to top button