عمران خان کی فوج کے خلاف نفرت کھل کر باہر کیسے آئی؟

 

 

 

عمران خان کی جانب سے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد میں منعقدہ نیشنل سکیورٹی ورکشاپ میں تحریک انصاف کے رہنماؤں کی شرکت کو شرمناک قرار دینا دراصل اس نفرت اور تلخی کا اظہار ہے جو وہ فوج کے لیے اپنے دل میں پال رہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ماضی میں بھی پی ٹی آئی کے رہنما اسی یونیورسٹی کے پروگراموں میں شریک ہوتے رہے ہیں اور بانی پی ٹی آئی نے کبھی اعتراض نہیں کیا۔

 

یاد رہے کہ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں 29 نومبر کو نیشنل سکیورٹی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا جس میں اراکینِ پارلیمنٹ، سول اور ملٹری افسران، تعلیمی اداروں اور سول سوسائٹی سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔ ورکشاپ میں پی ٹی آئی کے جن رہنماؤں نے شرکت کی ان میں قومی اسمبلی کے رکن سید شاہ احد علی، سینیٹر مشعل یوسفزئی اور خیبر پختونخوا اسمبلی کے سپیکر بابر سلیم سواتی شامل تھے۔ ورکشاپ کے اختتام کے بعد پارٹی کے اندر سے غیر معمولی ردِعمل سامنے آیا اور سوشل میڈیا پر ان رہنماؤں کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد ہر ایک نے وضاحت جاری کی۔

 

سینیٹر مشعل یوسفزئی نے ایکس پر اپنے وضاحتی بیان میں کہا کہ وہ عمران خان کی “ورکر اور سپاہی” ہیں اور پارٹی ڈسپلن کی پابند ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ نہ تو انہوں نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں کوئی بریفنگ اٹینڈ کی اور نہ ہی کسی فوجی افسر سے کوئی ملاقات کی۔ لیکن انہوں نے کہا کہ وہ ایک اکیڈیمک ورکشاپ میں ضرور شریک ہوئی تھیں جس میں پی ٹی آئی کے نوے فیصد پارلیمنٹیرینز ماضی میں شرکت کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسے پروگرامز میں شرکت پر پارٹی قیادت نے کوئی پابندی لگائی ہوتی تو یہ صورت حال پیدا نہ ہوتی۔ انہوں نے شکوہ بھی کیا کہ ان کی عمران خان تک براہِ راست رسائی نہیں ورنہ وہ اپنا مؤقف اُن تک پہنچا سکتیں۔

 

ادھر قومی اسمبلی کے رکن سید شاہ احد علی نے بھی ایسا ہی مؤقف اختیار کرتے ہوئے وضاحت دی کہ ان کی این ڈی یو کی ورکشاپ میں شرکت کسی سیاسی مقصد کے تحت نہیں تھی بلکہ انہیں پارلیمانی لسٹ کے تحت نامزد کیا گیا تھا۔ خیبر پختونخوا اسمبلی کے سپیکر بابر سلیم سواتی نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ این ڈی یو کی ورکشاپس میں قومی سلامتی اور پالیسی سازی سے متعلق مباحثے ہوتے ہیں، جن میں ہر ادارے کے سربراہ شریک ہوتے ہیں اور ان کا مقصد ملک کو درپیش چیلنجز کا جائزہ لینا ہوتا ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے ساتھ ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ این ڈی یو میں کسی ورک شاپ میں شریک ہونا کوئی جرم نہیں، یہ ملک سب کا ہے اور اس کے ادارے بھی سب کے ہیں، اس لیے ان اداروں کی سرگرمیوں میں شرکت پر اس طرح کی تنقید بے بنیاد ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی خیبر پختونخوا اسمبلی کے ارکان ان پروگراموں میں شرکت کرتے رہے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔

 

یاد رہے کہ عمران خان کا ردِعمل غیر معمولی طور پر شدید تھا۔ انہوں نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر لکھا کہ این ڈی یو ورکشاپ میں پی ٹی آئی رہنماؤں کی شرکت “شرمناک” ہے، اور یہ کہ وہ خود جیل میں ہر طرح کی سختیاں برداشت کر رہے ہیں جبکہ پارٹی کے بعض لوگ “ہم پر ظلم ڈھانے والوں سے سماجی تعلقات بڑھانے کی کوشش” کر رہے ہیں، جس سے انہیں شدید دکھ پہنچا ہے۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ “وکٹ کے دونوں جانب کھیلنے والوں کی میری پارٹی میں کوئی جگہ نہیں” اور ان افراد کو “میر صادق” اور “میر جعفر” قرار دیتے ہوئے انہیں غداری کا مرتکب قرار دے دیا۔

 

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان کے اس سخت ردِعمل کی بنیادی وجہ سیاسی نہیں بلکہ وہ تلخی ہے جو گزشتہ دو برسوں کے بحران، گرفتاریوں، عدالتی مقدمات اور اسٹیبلشمنٹ سے کشیدہ تعلقات کے نتیجے میں اُن کے ذہن میں بیٹھ چکی ہے۔ ان کے مطابق جس لہجے میں عمران خان نے پارٹی رہنماؤں کو مخاطب کیا، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی ایسی سرگرمی کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں جس میں عسکری اداروں کی موجودگی یا سرپرستی شامل ہو۔

عمران خان کے تین بڑے ناقابل معافی جرائم کون سے ہیں؟

دوسری جانب نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اور اس کی ورکشاپس کے حوالے سے پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ یہ پروگرام ملک میں قومی سطح پر مکالمے کو فروغ دینے، ادارہ جاتی صلاحیت بڑھانے اور قومی حکمتِ عملی وضع کرنے کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم ہیں۔ ان ورکشاپس کا مقصد قومی سلامتی کے چیلنجز کا مشترکہ حل تلاش کرنا ہے، اور اسی لیے اس میں ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد کو مدعو کیا جاتا ہے۔ اس کانفرنس میں صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے بھی شرکت کی اور کہا کہ پاکستان کو درپیش سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے باخبر قیادت، قومی یکجہتی اور مضبوط پالیسی سازی ناگزیر ہے۔

 

یاد رہے کہ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی 1960 کی دہائی میں قائم کیا گیا ایک اعلیٰ تعلیمی ادارہ ہے جو نیشنل سکیورٹی اور سٹریٹیجک اسٹڈیز کے شعبے میں تحقیق اور تربیت فراہم کرتا ہے۔ یہ جوائنٹ اسٹاف ہیڈکوارٹرز کی سرپرستی میں کام کرتا ہے اور اس کے موجودہ صدر لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار ہیں، جو اس سے قبل ڈی جی آئی ایس پی آر رہ چکے ہیں۔

Back to top button