عمران نے پٹرول اور بجلی پر عوام کو کیسے ماموں بنایا؟

ایک ماہ میں دو مرتبہ بجلی اور پٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے بعد اب وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ان دونوں اشیاء کی قیمتوں میں 4 ماہ کے لیے کمی کے اعلان کو عوام کے ساتھ ایک بھونڈا مذاق قرار دیا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ وزیراعظم نے 28 مارچ کی رات بجلی کی قیمت میں 5 روپے فی یونٹ کمی کا اعلان تب کیا جب ایک روز پہلے نیپرا بجلی کی قیمت میں 6 روپے فی یونٹ اضافہ کر چکا تھا۔
یعنی حقیقت یہ ہے کہ وزیراعظم کی جانب سے بجلی صارفین کو 5 روپے فی یونٹ ریلیف کے باوجود ان کے لیے بجلی ایک روپیہ مہنگی کر دی گئی ہے۔ اسی طرح دو ہفتے پہلے حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 12 روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا تھا اور اب 10 روپے فی لیٹر کمی کر دی یے جس کا مطلب یہ ہوا کہ اس معاملے میں بھی عوام کو ماموں بنایا گیا۔
یاد رہے کہ وزیر اعظم نے قوم سے خطاب میں پٹرول، ڈیزل کی قیمت 10 روپے اور بجلی کے نرخوں میں پانچ روپے فی یونٹ کمی کا اعلان تو کیا ہی، مگر ساتھ ہی یہ نوید بھی سُنا دی کہ یہ اعلان آئندہ بجٹ تک نافذ العمل رہے گا۔ سیاسی تجزیہ کار اس اعلان کو وزیر اعظم کے خلاف اپوزیشن کی جانب سے ممکنہ تحریک عدم اعتماد کے جواب کے طور پر دیکھتے ہیں۔
سینیئر صحافی حامد میر کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کا ریلیف پیکج نام نہاد ہی سہی لیکن اس کا کریڈٹ انکو نہیں بلکہ حزب اختلاف کی جماعتوں کو جاتا ہے۔انھوں نے کہا کہ بلاول بھٹو نے لانگ مارچ کا آغاز کیا اور مہنگائی کی بات کی جس کا مطلب ہے حکومت دباؤ کا شکار ہے۔ حامد میر نے کہا کہ اگرچہ اس وقت حکومت کی مالی حالت ریلیف دینے کی متحمل نہیں تاہم بڑھتے ہوئے سیاسی دباؤ کی وجہ سے وہ مجبور ہوئی۔ انھوں نے اس بات پر تعجب کا اظہار کیا کہ یہ کیسا ریلیف ہے کہ حکومت نے دو ہفتے پہلے تیل کی قیمتوں میں 12 روپے کا اضافہ کیا تھا اور اب 10 روپے کم کر رہی ہے۔
وزیر اعظم کے اعلان کی وجہ سیاسی مشکلات ہوں یا پھر عوام کی امیدیں، یہ سوال بہرصورت اپنی جگہ موجود ہے کہ اعلان کردہ ریلیف پیکج کے لیے پیسہ کہاں سے آئے گا؟ پٹرول کی قیمتوں میں کمی کا خسارہ کہاں سے پورا ہو گا جس کا کچھ حصہ خود حکومت کو ادا کرنا ہو گا؟
وزیراعظم شہباز شریف کی گرفتاری کے لیے بے چینی کا شکار
واضح رہے کہ پاکستان کو رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں ہی 1371 ارب روپے کے مالی خسارے کا سامنا کرنا پڑا جسے پورا کرنے کے لیے اندرونی اور بیرونی قرضوں پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔ دوسری جانب وزیر اعظم کی جانب سے بجلی کی قیمت میں پانچ روپے فی یونٹ کمی بھی اس وقت کی گئی ہے جب بجلی کے شعبے کا گردشی قرضہ 2476 ارب روپے تک جا پہنچا ہے اور حکومت کو گردشی قرضے میں مزید اضافے کو روکنے اور اس کے خاتمے کے لیے بجلی کے نرخ بڑھانا پڑے۔
عالمی منڈی کا جائزہ لیں تو اس وقت روس اور یوکرین کی جنگ نے ایک غیر یقینی کی صورتحال پیدا کر رکھی ہے۔ دونوں ہی ملک دنیا میں توانائی کی سپلائی چین کا اہم حصہ ہیں اور اسی وجہ سے یوکرین میں روسی افواج کے داخلے کے ساتھ ہی عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں 105 ڈالر فی بیرل کی سطح تک چلی گئی تھیں۔ اس رجحان میں گذشتہ ایک دو روز میں تھوڑی سی کمی ہوئی تاہم ابھی بھی یہ قیمتیں سو ڈالر فی بیرل کی سطح پر موجود ہیں۔
وزیر اعظم کی جانب سے یہ اعلان تب کیا گیا ہے جب ملک کا مالی خسارہ گذشتہ مالی سال میں 1371 ارب تک جا پہنچا ہے جو ملکی آمدن اور اخراجات کا خسارہ ہوتا ہے۔ اسی طرح ملک کے جاری کھاتوں کا خسارہ بھی رواں برس جنوری میں تاریخ کی بلند ترین سطح تک پہنچ گیا جو رواں مالی سال کے اختتام تک 20 ارب ڈالر تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔ اس کی بڑی وجہ پاکستان کا بڑھتا ہوا درآمدی بل ہے جو تیل کی زیادہ قیمتوں کی وجہ سے اپنی بلند ترین سطح کی جانب گامزن ہے۔ پاکستان میں حکومت نے خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے سیلز ٹیکس کی شرح پہلے ہی صفر کر رکھی ہے اور پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی بھی بجٹ کے اہداف کے مقابلے میں کم رہی ہے تاکہ قیمتوں میں بہت زیادہ اضافہ نہ ہو۔
پی ڈی ایل کے تحت ٹیکس کی وصولی آئی ایم ایف شرائط کا حصہ ہے جس کے تحت حکومت نے فروری کے مہینے کے شروع میں ایک ارب ڈالر کی قسط وصول کی تھی تاکہ ملک کے گرتے ہوئے زرمبادلہ کے ذخائر کو مدد فراہم کی جا سکے۔ پاکستان میں تیل کے شعبے کے تخمینوں کے مطابق موجودہ عالمی قیمتوں کے پیش نظر پٹرول کی قیمت میں ساڑھے نو روپے سے زیادہ اور ڈیزل کی قیمت میں ساڑھے آٹھ روپے سے زیادہ اضافہ ہونا تھا۔ تاہم وزیر اعظم نے اس کے برعکس دونوں کی قیمتوں میں دس روپے کمی کا اعلان کر دیا۔ جس کا مطلب ہے کہ حکومت کو پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کم رکھنے کے لیے اپنی جیب سے پیسے خرچ کرنے پڑیں گے۔
یعنی اسے سبسڈی کی صورت میں رقم ادا کرنی پڑے گی جو مالی خسارے میں اضافہ کرتی ہے اور حکومت کو اسے پورا کرنے کے لیے بیرونی اور اندرونی قرضہ لینا پڑتا ہے۔ لہذا سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کپتان حکومت سبسڈی کے لیے رقم کہاں سے حاصل کرے گی جب کہ اسے اس وقت سات سے آٹھ فیصد بجٹ خسارے کا سامنا ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ سبسڈی دینا مسئلے کا حل نہیں۔ ہمیں اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ معیشت کو مستحکم بنیادوں پر استوار کیا جا سکے جس کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی درکار ہے۔
