عمران نے سیاسی مفاد کے لیے اسلام کا نام کیسے استعمال کیا؟

جنرل ضیاءالحق جیسے ملٹری ڈکٹیٹرز کی طرح عمران خان بھی پاکستان کے ان سویلین حکمرانوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنے سیاسی مفادات کے حصول کے لیے اسلام کا نام استعمال کیا اور عوام کو ماموں بنانے کے لیے ملک کو ریاست مدینہ بنانے کا اعلان کیا۔ یہ اور بات کہ وہ ایسا کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سیاست کو اسلامی ٹچ دینے کی روایت کا آغاز ملک کے پہلے وزیر اعظم نواب زادہ لیاقت علی خان کے زمانے میں قرار داد مقاصد سے ہوا۔ قرارداد مقاصد ایک ایسی بنیادی دستاویز ہے جس نے پاکستان کے ہر آئین کو بنیاد فراہم کی۔ یہ قرار داد ایک سنجیدہ حقیقت تو ہے ہی لیکن یہ ایک ایسی ٹھوس اور طاقت ور دستاویز بھی ہے جسے نہ ختم کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس میں ترمیم کی جا سکتی ہے کیونکہ یہ ریاست کی بنیاد ہے۔ پاکستان کی جدید سیاسی تاریخ میں ایسا ہی ایک مرحلہ ذوالفقار علی بھٹو کے زمانے میں آیا۔ پاکستان کا موجودہ آئین جسے 1973 کے آئین کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، اُن ہی کی دین ہے۔ بھٹو اسلامی سوشلزم کے نعرے پر اقتدار میں آئے تھے۔ حکومت سنبھالنے کے بعد سوال یہ تھا کہ وہ کیسا آئین بنائیں گے۔
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق معروف مؤرخ پروفیسر سلیم منصور خالد اس کا بڑا دلچسپ جواب دیتے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ بھٹو اقتدار میں آئے تو ان پر بڑا دباؤ تھا۔ ان کے بعض طاقت ور ساتھی چاہتے تھے کہ نیا آئین سوشلزم اور سیکولرازم کی بنیاد پر بنایا جائے لیکن انھوں نے اس سب کو نظر انداز کرتے ہوئے آئین کو ایسی بنیادیں فراہم کر دیں جن کی مدد سے قانون سازی میں قرآن و سنت سے انحراف ممکن نہ رہا۔‘
ذوالفقار علی بھٹو کی سیاست میں مذہبی معاملات کو تین حصوں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ پہلا آئین سازی میں اسلامی تعلیمات کی کلیدی حیثیت۔ اس کے بعد دوسری آئینی ترمیم۔ اس ترمیم کے ذریعے ایک عوامی تحریک کے مطالبے پر احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا گیا جبکہ تیسرے کا تعلق اس زمانے سے ہے جب انھوں نے 1977 میں اپنے خلاف چلنے والی تند و تیز عوامی تحریک کو بے اثر بنانے کے لیے شراب اور جوئے پر پابندی کے علاوہ ہفتہ وار تعطیل جمعہ کے دن کرنے کا اعلان کیا تھا۔پروفیسر سلیم منصور خالد بھٹو کے پہلے دو اقدامات کے بارے میں کہتے ہیں: ’یہ دونوں اقدامات اتنے ٹھوس اور سنجیدہ تھے جنہوں نے نہ صرف پاکستان کی نظریاتی شناخت کو اجاگر کیا بلکہ ان کی بنیاد اتنی پختہ بنا دی کہ کوئی انھیں چھیڑ تک نہیں سکتا۔‘ جہاں تک عشق رسول کا معاملہ ہے تو کالم نگار ہارون رشید نے بزرگ صحافی مصطفیٰ صادق کی زبانی مرحوم ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کا ایک واقعہ رپورٹ کیا ہے۔
مدینہ منورہ کے دورے کے موقع پر ایک بار ان کے لیے روضہ رسول کھولا گیا۔ مصطفیٰ صادق جو اس موقع پر بھٹو کے ساتھ تھے، نے بتایا کہ جب بھٹو روضہ رسول کی طرف بڑھ رہے تھے تو اُن کی رنگت زرد پڑ گئی۔ وہ کھڑے نہ رہ سکے اور عقیدت سے گھٹنوں کے بل چلتے ہوئے روضے میں داخل ہوئے۔ بھٹو دور کے بعد جنرل ضیا کے مارشل لا کا زمانہ آتا ہے۔ اس زمانے میں انھوں نے عوام میں مقبولیت کے حصول کے لیے کئی فیصلے کیے جن میں نطام صلوٰاۃ، نظام زکوٰۃ اور شرعی عدالتوں کا قیام وغیرہ شامل ہیں۔
پروفیسر سلیم منصور خالد کا خیال ہے: ’شرعی عدالتیں جنرل ضیا کے دور کی یادگار ہیں لیکن یہ کتنی مؤثر ہیں اور ان کی افادیت کیا ہے؟ یہ کوئی ایسا معمہ نہیں ہے۔ ان کے ہونے نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یہ سب سیاسی فائدے کے لیے تھا۔‘
جنرل پرویز مشرف کے مارشل لا سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کی بے نظیر بھٹو اور مسلم لیگ (ن) کے نواز شریف کو دو دو ادوار ملے۔بے نظیر بھٹو نے اقتدار میں آنے سے قبل ایک خاص وضع قطع اختیار کی۔ انھوں نے بالکل مشرقی انداز میں سر ڈھانپنا شروع کیا۔ اسی زمانے میں تسبیح بھی ان کے ہاتھ آ گئی۔
پروفیسر سلیم منصور خالد کہتے ہیں ’بے نظیر بھٹو میں رونما ہونے والی اس تبدیلی کو مشرقی انداز اختیار کرنے کی ایک شعوری کوشش قرار دیا جا سکتا ہے لیکن ان کا کوئی مخالف بھی ان پر یہ الزام عائد نہیں کر سکتا کہ وہ حکمران کی حیثیت سے وہ کسی نمائشی مذہبی سرگرمی میں ملوث رہی ہوں۔‘ مذہبی حوالے سے نواز شریف کے دونوں عہد بے نظیر بھٹو کے طرز حکمرانی سے مختلف تھے۔ ان کے پہلے دور میں شریعت بل منظور ہوا۔ اس بل کے محرک اسلامی جمہوری اتحاد کی ایک رکن جماعت جمیعت علمائے اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق تھے۔ سب سے پہلے یہ بل سینیٹ سے منظور ہوا۔ بعد میں اسے قومی اسمبلی سے بھی منظور کروایا گیا۔ قومی اسمبلی سے منظوری کے وقت ایک کمیٹی بنائی گئی تھی جس میں صرف دائیں بازو کے لوگ ہی شامل نہ تھے بلکہ بائیں بازو کے عناصر بھی شامل تھے جن میں عوامی نیشنل پارٹی سے تعلق رکھنے والے ممتاز مارکسٹ اجمل خٹک کا نام بھی آتا ہے۔ یہ شریعت بل منظور ضرور ہوا لیکن اقتصادی معاملات کو اس کے دائرے سے باہر رکھا گیا تھا۔پھر اس بل کا کیا بنا؟ پروفیسر خالد کے خیال میں یہ تاریخ کا رزق بن گیا۔
نواز شریف کے دوسرے دور حکومت میں پندرہویں آئینی ترمیم کا ایک مسودہ تیار کیا تھا جو اپنی ابتدا میں ہی اختلافات کا شکار ہو گیا۔ سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری اس بارے میں کہتے ہیں کہ ’اس ترمیم میں یہ کہا گیا تھا کہ وزیر اعظم اگر یہ سمجھیں کہ ملک کا کوئی قانون اسلام کے راستے میں حائل ہے تو اسے قومی اسمبلی کی سادہ اکثریت کے ذریعے تبدیل کیا جا سکے گا چنانچہ میں نے اس کی مخالفت کی۔‘ نواز شریف دور کی یہی مجوزہ آئینی ترمیم تھی جس کے بارے میں کہا گیا کہ یہ ’امیر المومنین‘ بننے کی کوشش ہے۔
سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری کہتے ہیں کہ ’یہ کوشش اس لیے بھی ناکام رہی کہ صرف میں نے ہی اس کی مخالفت نہیں کی بلکہ جمعیت علمائے پاکستان (نیازی) کے سربراہ مولانا عبدالستار خان نیازی نے قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے میرے مؤقف کی تائید کی۔ اس کے علاوہ نواز شریف نے راجہ ظفر الحق کی سربراہی میں ایک مصالحتی کمیٹی قائم کی تھی، اس کی رپورٹ نے بھی میرے مؤقف کی تائید کی۔ اس طرح یہ معاملہ جسے بوجوہ شریعت بل کا نام دیا گیا تھا، ابتدا میں ہی ختم ہو گیا۔‘ خورشید محمود قصوری نے اس واقعے کی تفصیل نواز شریف کے ساتھ اپنے تعلقات کے حوالے سے اپنی کتاب میں بھی بیان کی ہے۔
جنرل مشرف کے بعد شروع ہونے والے سیاسی عہد میں عمران خان وہ پہلے سیاسی رہنما ہیں جنہیں زیادہ شدت کے ساتھ مذہبی نعرہ لگانے کی وجہ سے شہرت ملی۔مذہبی نعرہ عمران خان نے اپنی سیاست کی ابتدا میں ہی اختیار کر لیا تھا۔ 1997 کے انتخابات سے قبل کراچی پریس کلب میں میٹ دی پریس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ ’میں نظریاتی طور پر ایسا پاکستان چاہتا ہوں جس کی بنیادیں ہمارے فور فادرز نے رکھی تھیں۔‘ انھیں وضاحت کے لیے کہا گیا تو انھوں کہا کہ وہ اسلامی نظریے پر یقین رکھتے ہیں۔ تحریک انصاف کے اسلامی نظریے کی کوئی زیادہ تفصیل تو اس جماعت کی کسی دستاویز میں نہیں ملتی سوائے 2018 کے انتخابی منشور کے جس کی ابتدا میں درج ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کا مقصد بطور ایک تحریک؛ انصاف پر مبنی معاشرے کا قیام ہے جس کا تصور پیغمبرِ اسلام نے میثاق مدینہ میں پیش کیا جو ’جدید اسلامی ریاست‘ کی بنیاد ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ میثاق مدینہ کو جدید پاکستانی معاشرے میں قانونی اعتبار سے عملی حیثیت کیسے دی جائے گی؟ منشور میں اس کی کوئی تفصیل نہیں ملتی۔ البتہ عمران خان اور تحریک انصاف کے بعض دیگر رہنماؤں کی تقاریر میں ریاست مدینہ کی اصطلاح کی گونج مسلسل سُنائی دیتی ہے۔ اور ریاست مدینہ کیسے وجود میں آئے گی؟ اس سوال کا جواب بھی اس جماعت کے منشور میں نہیں پایا جاتا۔
اسی طرح یہ سوال کہ عمران خان نے اپنے عہد اقتدار میں اس مقصد کے لیے کیا کیا، اس کی تفصیل بھی کہیں دستیاب نہیں سوائے اس کے کہ انھوں نے اپنے دور میں رحمت اللعالمین اتھارٹی نامی ایک ادارہ قائم کیا۔ اس ادارے کے قیام کا مقصد کیا تھا؟ اتھارٹی کے سربراہ ڈاکٹر انیس احمد نے میرے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’اس اتھارٹی کے قیام کے سلسلے میں آرڈیننس کے گزٹ نوٹیفکیشن کے مطابق ریاست مدینہ کے تصور کو حقیقت کی شکل دینا ہے جس کی بنیاد انصاف، قانون کی حکمرانی، اور عوام کی فلاح ہے جو کسی فلاحی ریاست کا طرہ امتیاز ہے۔ یہ کام قوم کی کردار سازی کے ذریعے انجام دیا جائے گا۔‘
عمران خان کے مذہبی رجحانات اور مذہبی نعرے سیاسی اعتبار سے زیر بحث رہے ہیں لیکن قیام پاکستان کے بعد ابتدائی زمانے میں قرارداد مقاصد کی منظوری یا 1973 میں آئین میں اسلامی قوانین کو تحفظ دینے جیسے ٹھوس اقدامات کی کوئی بازگشت سُنائی نہیں دیتی۔
اسمبلی سے استعفوں کا فیصلہ عمران کو کتنا بھاری پڑے گا؟
شاید یہی سبب رہا ہے کہ پی ٹی آئی کے مذہبی نعروں کو اس کی معاصر سیاسی جماعتوں نے سنجیدگی سے نہیں لیا بلکہ اس پر تنقید کی۔ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ عمران ایک مختلف مزاج کی شخصیت ہیں اور محض سیاسی مقاصد کے لیے وہ دین کے ایک حکم کو استعمال کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمٰن کے برعکس مولانا طارق جمیل عمران خان کے مذہبی چہرے کو سنجیدگی کے ساتھ دیکھتے ہیں۔ ایک انٹرویو میں نے اُن سے سوال کیا گیا کہ وہ عمران خان کی اتنی پُرجوش حمایت کیوں کرتے ہیں، تو طارق جمیل نے کہا تھا کہ ’بطور وزیر اعظم عمران خان نے مجھے بلایا اور کہا کہ مولانا میں چاہتا ہوں کہ میرے نوجوان اپنے نبی کے ساتھ جڑ جائیں اور ان کی زندگی کو اپنائیں، یہ بات اس سے پہلے مجھے کسی حکمران نے نہیں کہی۔‘ لیکن پاکستان کی سیاسی تاریخ میں مولانا طارق جمیل کی گواہی کیا تبدیلی لائے گی، یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کیونکہ طارق جمیل سیاسی مولوی قرار پانے کی وجہ سے پہلے ہی متنازعہ ہو چکے ہیں اور اپنی ساکھ کھوتے جا رہے ہیں۔
