عمران کی فوج مخالف بیانیہ بڑھانے کی کوششیں الٹی کیسے پڑگئی؟

عمران خان کی جانب سے جیل ملاقاتوں کے ذریعے اپنا فوج مخالف بیانیہ آگے بڑھانے کی کوششیں الٹی پڑ گئی ہیں۔ اپنی بہن عظمیٰ خان کے ساتھ ایک ماہ پہلے آخری جیل ملاقات کے بعد عمران کے ٹویٹر اکاؤنٹ سے جنرل عاصم منیر کے خلاف کی گئی ٹوئیٹ کے بعد سے ان کی ملاقاتوں پر مکمل پابندی عائد ہے اور اب عمران کے پاس جیل سے باہر اپنا پیغام پہنچانے کا کوئی طریقہ باقی نہیں رہا۔
باخبر ذرائع کے مطابق پچھلی مرتبہ جب دو مہینے کے وقفے کے بعد عمران کو اپنی بہن عظمی خان سے ملاقات کی اجازت دی گئی تھی تو ان سے یہ کمٹمنٹ حاصل کی گئی تھی کہ وہ ملاقات کے دوران کوئی ریاست یا فوج مخالف بیان نہیں دیں گے، تاہم اس کمٹمنٹ کی خلاف ورزی کی گئی اور فوجی قیادت بشمول جنرل عاصم منیر کےخلاف عمران خان کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ان کی ہدایت پر ایک چارج شیٹ جاری کر دی گئی جس کے بعد سے موصوف کی ملاقاتوں پر مکمل پابندی عائد ہے۔
مبصرین کے مطابق بانی پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے عسکری قیادت پر مسلسل الزامات اور اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیے میں مزید شدت کے بعد جیل میں ملاقاتوں پر عائد پابندیاں ہٹنے کے امکانات معدوم ہیں۔ ناقدین کے مطابق عمران خان نے بڑھتی زبان درازیوں پر قابو نہ پایا تو آںے والے دنوں میں بانی پی ٹی آئی پر جیل سختیوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ مبصرین کے بقول اڈیالہ جیل میں قید عمران خان کی جیل ملاقاتوں پر پابندی لگنے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہر ملاقات میں عمران خان فوجی قیادت کے خلاف سخت غیر ذمہ دارانہ گفتگو کرتے ہیں۔ بانی پی ٹی آئی ان ملاقاتوں کو اپنا فوج مخالف بیانیہ آگے بڑھانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اس لئے نہ صرف پی ٹی آئی قیادت بلکہ عمران خان کی بہنوں اور اہلِ خانہ میں سے بھی کسی ایک فرد کو بھی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے تاکہ جیل کے سلاخوں کے پیچھے قید عمران خان کی انتشار پسندی کو روکا جا سکے۔ اسی لئے گزشتہ کچھ ہفتوں کے دوران علیمہ خان، عمران خان کی دیگر بہنیں اور خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کئی مرتبہ جیل پہنچے لیکن انہیں عمران خان تک رسائی نہیں دی جا رہی۔ تاہم ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی جیل ملاقاتوں پر پابندی کیوں لگائی گئی؟ کیا مستقبل قریب میں اس پابندی کے خاتمے کا کوئی امکان موجود ہے؟
مبصرین کے مطابق جیل میں موجود بانی پی ٹی آئی عمران خان کے اسٹیبلشمنٹ مخالف طرز سیاست کے ساتھ ساتھ اڈیالہ جیل کے باہر پی ٹی آئی کی بڑھتی ہوئی پرتشدد سرگرمیاں، دہشت گرد تنظیموں سے وابستہ عناصر کے جلسوں میں شمولیت، اور اسلام آباد پر مسلح یلغار کے دوران جیل پر حملے اور عمران خان کو بزور طاقت چھڑانے کی دھمکیوں نے سیکیورٹی اداروں کے لیے صورتحال کو بے حد مشکل بنا دیا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کیلئے جیل کے باہر امن و امان برقرار رکھنا ایک چیلنج بن چکا ہے۔ جس کی وجہ سے اب عمران خان کی ملاقات پر غیر اعلانیہ پابندی لگادی گئی ہے تاکہ شرپسند عناصر کو پٹا ڈالا جا سکے۔ دوسری جانب سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل عبدالغفور انجم کے مطابق عمران خان سے ملاقات کے حوالے سے عدالتوں نے ایس او پیز وضع کر رکھے ہیں۔ پی ٹی آئی اراکین ہمیشہ اُن قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہیں جس کی وجہ سے ملاقات کے حوالے سے پابندی عائد ہے۔ جیل سپرنٹنڈنٹ نے بتایا کہ جیل رول 265 کے تحت یہ واضح ہے کہ ملاقات کے دوران سیاسی گفتگو نہیں ہو سکتی ہم نے بارہا اِن کو تنبیہہ کی لیکن یہ لوگ باز نہیں آتے۔عمران خان کی بہنیں اور دیگر ملاقات کے دوران نہ صرف سیاسی گفتگو کرتے ہیں بلکہ باہر آ کر اس کی تشہیر بھی کرتے ہیں اِسی لیے اب اِن کو مُلاقات کی اِجازت نہیں مل رہی ہے۔
خیال رہے کہ جیل مینوئل کے مطابق خونی رشتے دار قیدی سے ملاقات کر سکتے ہیں، تاہم ملاقات کے لیے قیدی کا کنڈکٹ غیر سیاسی ہونا لازم ہے۔ اگر کسی قیدی کا کنڈکٹ سیاسی ہو یا اُس سے مُلاقات کے بعد باہر آ کر سیاسی بیانیہ بنانے کی کوشش کی جائے تو جیل سپرنٹنڈنٹ اپنے اختیارات کے تحت ملاقاتوں پر پابندی لگا سکتا ہے۔
مبصرین کے مطابق عمران خان سے ملاقات کی راہ میں تین بڑی رکاوٹیں حائل ہیں۔ پہلی رکاوٹ یہ ہے کہ پی ٹی آئی نے 2023 میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک بیانِ حلفی جمع کرایا تھا جس میں یہ یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ ملاقات کے دوران کسی قسم کی سیاسی گفتگو نہیں کی جائے گی۔ تاہم، مبصرین کے مطابق ملاقاتوں کے بعد نہ صرف یہ کہ اندرونی طور پر سیاسی گفتگو کی جاتی رہی بلکہ ملاقات کے فوراً بعد میڈیا سے بھی سیاسی بیانات دیے گئے، جس کے نتیجے میں ملاقاتوں پر پابندیاں عائد ہونا شروع ہو گئیں۔ 2024 کے آغاز میں پی ٹی آئی کی جانب سے ان پابندیوں کی خلاف ورزی دوبارہ سامنے آئی، جس کے باعث صورتحال یہ ہو گئی کہ کبھی ملاقات کی اجازت ملتی اور کبھی نہیں۔
وزیر اعلی آفریدی کا مذاکرات کی بجائے تحریک چلانے کا اعلان
سہیل آفریدی کی عمران خان سے ملاقات کی راہ میں ایک اور بڑی قانونی رکاوٹ سپریم کورٹ کا فروری 2018 کا فیصلہ ہے۔ اس فیصلے سے قبل اڈیالہ جیل میں قید پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں نواز شریف نے سینیٹ انتخابات کے لیے پارٹی امیدواروں کو ٹکٹ جاری کیے تھے، جس پر اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں بینچ نے فیصلہ دیا تھا کہ کوئی نااہل شخص نہ تو کسی سیاسی جماعت کا سربراہ بن سکتا ہے، نہ سیاسی ہدایات جاری کر سکتا ہے اور نہ ہی انتظامی نگرانی کا اختیار رکھتا ہے۔مبصرین کے مطابق سہیل آفریدی کا یہ مؤقف کہ وہ سیاسی اور حکومتی ہدایات کے حصول کے لیے عمران خان سے ملاقات کے خواہاں ہیں، سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے منافی ہے، جسے بعد ازاں کسی بھی سیاسی جماعت نے چیلنج نہیں کیا۔ اسی وجہ سے سہیل آفریدی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں۔
