انڈیا اور پاکستان ایک ہی پیج پر کیسے اکٹھے ہو گئے؟

بھارت اور پاکستان کے باسیوں کے لیے حیران کن خبر یہ ہے کہ دونوں ممالک بالآخر اپنے تمام تر اختلافات کے بالائے طاق رکھ کر ایک ہی صفحے پر اکٹھے ہو گئے ہیں۔ دونوں ہمسایہ ممالک نے ایک ہی جیسی پالیسی اپناتے ہوئے روس اور یوکرین کے تنازع میں اقوامِ متحدہ میں روس کے خلاف قرارداد پیش ہونے والی قرارداد کا حصہ نہ بننے کا فیصلہ کیا جس کا مطلب یہ ہوا کہ بھارت اور پاکستان دونوں روس کو جارحہ نہیں سمجھتے۔
تاہم اسکے باوجود اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے یوکرین پر روسی حملے کے خلاف قرارداد 141 ووٹوں سے منظور کر لی ہے۔ قرارداد کی مخالفت میں تو پانچ ووٹ آئے مگر 35 ممالک نے سرے سے اس ووٹنگ میں حصہ ہی نہیں لیا جن میں انڈیا اور پاکستان بھی شامل ہیں۔ انڈیا اور پاکستان کی جانب سے یوکرین کے تنازعے پر اب تک بہت پھونک پھونک کر قدم رکھے جا رہے ہیں اور اقوامِ متحدہ کے اجلاس میں ہونے والی ووٹنگ بھی اسکی عکاسی کرتی ہے۔ اس قرارداد کے حق میں جنرل اسمبلی کے 141 رکن ممالک نے ووٹ کیا ہے، جبکہ اس کی مخالفت میں پانچ ووٹ آئے اور بقیہ 35 ممالک نے ووٹنگ میں حصہ ہی نہیں لیا جن میں ہمسایہ ممالک بھارت اور پاکستان بھی شامل ہیں۔
خیال رہے کہ ماضی میں پاکستان کو امریکی اتحادی سمجھا جاتا تھا جبکہ بھارت کو روس کا اتحادی گردانا جاتا تھا۔ سابق امریکی صدر صدر ٹرمپ کے دور میں بھی معاملہ ایسے ہی چلتا رہا لیکن پھر نئے امریکی صدر بائیڈن کے اقتدار میں آنے کے بعد امریکہ اور پاکستان کے تعلقات کشیدہ ہونا شروع یو گے۔ اس معاملے میں مزید خرابی تب آئی جب پاکستان کی شدید خواہش کے باوجود امریکی صدر بائیڈن وزیر اعظم عمران خان کو ایک روایتی فون کال کرنے پر بھی تیار نہ ہوئے۔ چنانچہ مجبور ہوکر کپتان روس کے در پر جا پہنچے۔ نتیجہ یہ ہے کہ یوکرین کے مسئلے پر اس وقت پاکستان اور بھارت دونوں کو روس کا اتحادی سمجھا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل انڈیا نے سلامتی کونسل میں روس کے خلاف مذمتی قرارداد پر ہونے والی رائے شماری میں بھی حصہ نہیں لیا تھا۔ چنانچہ اب انڈیا اور پاکستان بھی یوکرین کے معاملے پر ایک ہی صف میں کھڑے نظر آ رہے ہیں۔ پاکستان میں قائم غیر ملکی مشنز میں سے 19 نے جنرل اسمبلی کے اجلاس کی شروعات سے قبل ہی ایک خط کے ذریعے پاکستان پر اقوامِ متحدہ میں یوکرین کی حمایت کرنے پر زور ڈالا تھا۔ مگر اسی روز اعلیٰ ترین سرکاری حلقوں سے مصدقہ اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ پاکستان اس ووٹنگ کا حصہ نہیں بنے گا۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان اصولی مؤقف اختیار کرتے ہوئے کسی کی حمایت کرنا چاہتا ہے اور نہ ہہ مخالفت۔ ان کا کہنا تھا کہ روس اور یوکرین کو اپنے معاملات افہام و تفہیم سے خود حل کرنے چاہییں۔
پاکستان کے اس فیصلے کو کئی لوگ اس کیے خوش آئند سمجھ رہے ہیں کہ ماضی کے برعکس وہ کسی ’سیاسی دھڑے‘ کا حصہ نہیں بن رہا۔ لیکن پاکستان کی طرف سے ایسا کرنا ایک حیران کن عمل بھی ہے کیونکہ اس سے پہلے اس نے خطے میں سیاسی دھڑوں کا ساتھ دیا جبکہ ان کا ساتھ دینے کا براہِ راست اثر پاکستان کی معیشت اور ملک میں شورش کی شکل میں سامنے آیا۔ نتیجتاً پاکستان کو ایک وقت میں بین الاقوامی طور پر تنہا کیے جانے کا خطرہ بھی رہا۔ تاہم کئی تجزیہ کار حکومت کی امریکہ مخالف اور پرو روس پالیسی کو غیر دانشمندانہ بھی قرار دیتے ہیں کیونکہ ان کے خیال میں اس پالیسی سے پاکستان کو بہت کم فائدہ اور بہت زیادہ نقصان ہونے کا خدشہ ہے۔
How did India and Pakistan come together on the same page? video
