انڈیانے پہلگام حملے میں پاکستان کو کلین چٹ کیسے دی؟

بھارتی تحقیقاتی ادارے نے رواں برس پاکستان اور بھارت کے درمیان فوجی کشیدگی کا باعث بننے والے پہلگام حملے کے آٹھ ماہ بعد بالآخر چارج شیٹ جمع کرا دی ہے، نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کی جانب سے جمع کی گئی چارج شیٹ میں پاکستان کو کلین چٹ دیتے ہوئے عسکریت پسند تنظیموں جیشِ محمد اور دی ریزسٹنس فرنٹ (ٹی آر ایف ) کو حملے کا مرکزی منصوبہ ساز جبکہ کالعدم لشکر طیبہ کو سہولتکار قرار دے دیا ہے، تاہم بھارتی ایجنسی کی جانب سے جاری کی گئی چارج شیٹ کے وقت اور مواد پر کئی سنجیدہ سوالات جنم لے رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق قابلِ غور امر یہ ہے کہ اتنے طویل عرصے بعد پیش کی جانے والی اس چارج شیٹ میں ایسے شواہد یا شفاف تفصیلات کا فقدان ہے جو بین الاقوامی سطح پر اس مؤقف کو مضبوط بنا سکیں کہ اس کارروائی میں پاکستان کا ہاتھ تھا۔ ناقدین کے مطابق حملے کے فوری بعد اس واقعے کو بنیاد بنا کر خطے میں فوجی کشیدگی میں اضافہ کیا گیا، جبکہ تحقیقات کی تکمیل اور قانونی کارروائی کا عمل غیر معمولی تاخیر کا شکار رہا۔ جس سے اس تاثر کو تقویت ملتی ہے کہ مودی سرکار کی جانب سے پہلگام واقعہ سکیورٹی کی بجائے محض سیاسی اور سفارتی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا تھا تاہم اس میں بھی بھارت کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔

مبصرین کے مطابق پہلگام حملہ نہ صرف انسانی جانوں کے ضیاع کا باعث بنا بلکہ اس واقعے کو بنیاد بنا کر بھارت اور پاکستان کے درمیان شدید فوجی کشیدگی بھی دیکھنے میں آئی۔ دونوں ممالک ایک بار پھر جنگ کے دہانے تک جا پہنچے، فضائی و زمینی سطح پر تناؤ بڑھا اور پورا خطہ عدم استحکام کی لپیٹ میں آ گیا۔ تاہم آٹھ ماہ بعد اب بھارت نے خود سامنے آنے والی چارج شیٹ میں ریاستِ پاکستان کے بجائے جیشِ محمد اور لشکرِ طیبہ جیسی عسکریت پسند تنظیموں کو اس کارروائی کا منصوبہ ساز قرار دے دیا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ پہلگام واقعے کا براہِ راست الزام پاکستان پر عائد کرنے کی بھارتی کوششیں ٹھوس بنیادوں سے محروم تھیں۔

واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں رواں برس 22 اپریل کو سیاحتی مقام پر ہونے والے حملے میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ پہلگام میں سیاحوں پر حملے کے بعد انڈیا اور پاکستان کے درمیان ایک مختصر جنگ بھی ہوئی تھی جو تقریباً تین روز جاری رہی تھی۔انڈیا نے اس حملے کو ‘آپریشن سندور’ اور پاکستان نے اپنے ردِعمل کو ‘آپریشن بنیان المرصوص’ کے نام دیے تھے۔پاکستان نے پہلگام واقعہ میں ملوث ہونے کے انڈین حکام کے الزامات کی تردید کی تھی اور 26 افراد کی ہلاکت کے اس واقعے کی غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم اب بھارتی تحقیقاتی ادارے نیشنل انویسٹیگیشن ایجنسی نے پہلگام حملے کے چھ ملزمان کے خلاف چارج شیٹ ایک خصوصی عدالت میں فائل کر دی ہے۔ این آئی اے کی جانب سے جاری کی گئی چارج شیٹ میں مبینہ طور پر پاکستان میں مقیم ساجد جاٹھ کے علاوہ فیصل جاٹھ عرف سلیمان شاہ، حبیب طاہر عرف جبران اور حمزہ افغانی کے نام درج ہیں۔فیصل، حبیب اور حمزہ کے بارے میں انڈین سکیورٹی فورسز کا دعویٰ ہے کہ انھیں رواں برس جولائی میں سرینگر کے ہاروان جنگلات میں ‘آپریشن مہا دیو’ کے دوران مار دیا گیا تھا۔

اس مقدمے میں بشیر احمد جوٹھار اور پرویز احمد جوٹھار نامی دو کشمیریوں کے نام بھی ہیں، جنھیں رواں برس جون میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے پہلگام میں سیاحوں پر حملہ کرنے والوں کی مدد کی تھی۔

خیال رہے کہ گذشتہ تین دہائیوں کے دوران یہ پہلا موقع تھا جب مقبوضہ کشمیر میں کسی مسلح حملے میں اتنی بڑی تعداد میں انڈین سیاحوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ پولیس ذرائع کے مطابق اس حملے کی ذمہ داری ‘دا ریزِسٹنس فرنٹ’ یعنی ٹی آر ایف’ نامی گروہ نے قبول کی تھی۔ اس گروہ کو انڈین سکیورٹی ادارے کالعدم لشکرطیبہ کا ‘شیڈو گروپ’ قرار دیتے ہیں۔این آئی اے کی تازہ چارج شیٹ میں عسکریت پسند گروپ ‘جیش محمد’ اور ‘ٹی آر ایف’ کو اس حملے کا کلیدی منصوبہ ساز قرار دیا گیا ہے، جبکہ اس میں کالعدم لشکر طیبہ کا بھی نام موجود ہے۔

مبصرین کے مطابق بھارتی تحقیقاتی ادارے کی چارج شیٹ میں ریاست پاکستان کی بجائے عسکریت پسندوں کو پہلگام واقعہ کا ذمہ دار ٹھہرانا اس بات کا غماز ہے کہ مودی سرکار کی جانب سے پاکستان پر اس حوالے عائد کئے گئے الزامات بے بنیاد تھے۔ ناقدین کے مطابق قابلِ غور امر یہ بھی ہے کہ اگر یہ تحقیقات اتنی واضح اور ٹھوس شواہد پر مبنی تھیں تو پھر چارج شیٹ جمع کروانے میں آٹھ ماہ کی غیر معمولی تاخیر کیوں ہوئی؟ حملے کے فوراً بعد جس تیزی سے اس واقعے کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کیا گیا اور پاکستان پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کی گئی، اس کے مقابلے میں قانونی اور تحقیقاتی عمل سست روی کا شکار کیوں رہا؟ یہ تضاد اس تاثر کو تقویت دیتا ہے کہ واقعے کو سکیورٹی مسئلے سے زیادہ سیاسی اور سفارتی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔

شہباز شریف نے روسی صدر پیوٹن کو کیسے کلین بولڈ کیا

ناقدین کے مطابق پہلگام حملے کے بعد بھارت کی جانب سے فوری ردعمل، فوجی اقدامات اور سخت بیانات نے خطے میں بدامنی کو ہوا دی جبکہ ٹھوس شواہد کی عدم موجودگی کی وجہ سے اب بھارت خود اس بات کا اعلان کرنے پر مجبور ہے کہ اس کارروائی میں پاکستان کی بجائے عسکریت پسند تنظیمیں ملوث تھیں۔ مبصرین کے مطابق ایسی چارج شیٹس جو بین الاقوامی معیار کے شواہد، آزادانہ تصدیق اور شفافیت سے عاری ہوں، نہ صرف انصاف کے تقاضوں کو مجروح کرتی ہیں بلکہ خطے میں عدم اعتماد کو بھی بڑھاتی ہیں۔ ویسے بھی جنوبی ایشیا جیسے حساس خطے میں جہاں معمولی واقعات بھی بڑے تصادم کا سبب بن سکتے ہیں، وہاں بھارت کو بے بنیاد الزامات اور شرپسند بیانیوں کی بجائے شفاف تحقیقات، مکالمے اور سفارتی تدبر کا مظاہرہ کرنا چاہیے تاکہ خطے میں امن کی راہ کو ہموار کیا جا سکے

Back to top button