بھارتی جواریوں نے پاکستانی بائیکاٹ کو کمائی کا ذریعہ کیسے بنایا؟

 

 

 

پاکستان کی جانب سے انڈیا کے ساتھ ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میچ نہ کھیلنے کے فیصلے کو بھارتی بکیوں نے کمائی کا ذریعہ بنالیا۔ بھارتی جواریوں نے ڈارک ویب پر “سسپنس بیٹنگ” کے نام پر پاکستانی حکومت کے فیصلے، مذاکرات کی کامیابی اور بائیکاٹ پر قائم رہنے یا پیچھے ہٹنے جیسے سوالات پر بٹ کوائن کے ذریعے کروڑوں ڈالرز کی شرطیں لگانا شروع کر دیں۔ ناقدین کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ جب کسی میچ، ٹیم یا کھلاڑی کی بجائے حکومتی فیصلوں پر جوا کھیلا جا رہا ہے۔

 

خیال رہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاک بھارت مقابلہ ہمیشہ سٹے کی دنیا کا سب سے بڑا ایونٹ سمجھا جاتا ہے۔ دونوں روایتی حریفوں کے مابین میچ بکیوں کے لیے کسی تہوار سے کم نہیں ہوتا۔ سٹے کی عالمی مارکیٹ سے جڑے ذرائع کے مطابق پاک بھارت میچ پر اربوں نہیں بلکہ کھربوں روپے کے جوئے کی تیاریاں مکمل کی جا چکی تھیں،دبئی اور ممبئی میں سٹے کی عالمی مارکیٹ سے وابستہ افراد کاماننا تھا کہ اس مرتبہ ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ جوئے کی توقع تھی، جس کی بنیادی وجہ مئی میں ہونے والی مختصر جنگ کے بعد دونوں ممالک کے عوام اور جواریوں میں بڑھا ہوا جوش تھا۔ تاہم پاکستان کے اچانک بائیکاٹ کے اعلان نے بکیوں کی امیدوں پر پانی پھیر دیا تھا۔ تاہم اب جواریوں نے پاکستان کے میچ کے بائیکاٹ کے فیصلے پر جوا لگانا شروع کر دیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق آئی سی سی ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ سے قبل پیدا ہونے والی پاک بھارت کشیدگی نے ڈارک ویب پر سٹے بازی کے ایک بالکل نئے رجحان کو جنم دیا ہے، جسے “سسپنس بیٹنگ” کا نام دیا گیا ہے۔ اس رجحان میں روایتی ہار جیت یا اسکور کے بجائے سیاسی اور سفارتی نتائج پر شرطیں لگائی جا رہی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بائیکاٹ کے ابتدائی دنوں میں ہی بٹ کوائن کے ذریعے تقریباً 15 ملین ڈالر اس شرط پر لگائے جا چکے ہیں کہ آیا پاکستان اپنے فیصلے پر قائم رہے گا یا آخری لمحات میں پسپائی اختیار کرے گا۔ اس وقت 1/5 کا ریٹ اس امکان پر چل رہا ہے کہ آیا پس پردہ مذاکرات کامیاب ہوں گے یا نہیں، جسے جواری ہائی رسک، ہائی ریوارڈ سودا تصور کر رہے ہیں۔

 

یہاں تک کہ سٹے بازی کا دائرہ صرف پاک بھارت میچ تک محدود نہیں رہا۔ جواری اس بات پر بھی بھاری رقوم لگا رہے ہیں کہ آیا آئی سی سی پاکستان سے میزبانی کے حقوق واپس لے گا یا کیا اس فیصلے کی وجہ سے پاکستان کی آئی سی سی کی رکنیت معطل کی جا سکتی ہے یا نہیں۔ ڈارک ویب پر موجود خفیہ پلیٹ فارمز پر “پولیٹیکل کرکٹ انڈیکس” متعارف کرایا گیا ہے، جو دونوں ممالک کے سرکاری بیانات، سفارتی سرگرمیوں اور میڈیا لیکس کے مطابق ہر گھنٹے بعد تبدیل ہوتا ہے۔ ان پلیٹ فارمز پر معلومات کی خرید و فروخت کا ایک متوازی نیٹ ورک بھی سرگرم ہو چکا ہے، جہاں بند کمروں میں ہونے والے فیصلوں سے قبل ہی سٹے کے ریٹس کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جواری اس امکان پر بھی شرطیں لگا رہے ہیں کہ اگر دونوں ٹیمیں فائنل میں پہنچتی ہیں تو آیا بائیکاٹ کا مؤقف برقرار رہے گا یا تجارتی اور سیاسی دباؤ غالب آ جائے گا۔

پاکستانی بائیکاٹ: سری لنکن بورڈ کو 100 ملین ڈالرز کا نقصان

ماہرین کے مطابق یہ رجحان روایتی میچ فکسنگ سے کہیں زیادہ خطرناک ہے، کیونکہ اس کا محور کھیل نہیں بلکہ دو ریاستوں کے بگڑتے تعلقات ہیں۔ ڈارک ویب ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ جیسے جیسے بائیکاٹ سے متعلق خبریں گرم ہو رہی ہیں، ویسے ویسے شرط لگانے والوں کی تعداد اور رقم میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ پہلا ایونٹ ہے جہاں روایتی سٹے بازی کی جگہ ڈی سینٹرلائزڈ بیٹنگ نے لے لی ہے۔ جہاں بٹ کوائن اور اسٹیبل کوائنز کے ذریعے کروڑوں ڈالرز کی ٹرانزیکشنز ہو رہی ہیں۔ ماہرین کا تخمینہ ہے کہ اس ورلڈ کپ کے دوران کرپٹو کرنسی کے ذریعے 35 سے 50 ارب ڈالرز تک کا جوا کھیلا جا سکتا ہے، جس کا بڑا حصہ پاک بھارت سفارتی کشیدگی، بائیکاٹ اور غیر یقینی سیاسی فیصلوں سے جڑا ہوگا۔ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر اس رجحان کو بروقت نہ روکا گیا تو مستقبل میں کرکٹ محض کھیل نہیں رہے گی بلکہ براہِ راست جوئے کے بازار کا ایندھن بن جائے گی۔

Back to top button