ماضی کے اتحادی ایران اور اسرائیل، ایک دوسرے کے دشمن کیسے بنے؟

مشرق وسطیٰ میں ایران اسرائیل کشیدگی اپنے عروج پر ہے دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے پر میزائل حملے جاری ہیں تاہم بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ ایران اور اسرائیل ازلی دشمن نہیں ایک وقت تھا کہ دونوں ممالک کو ایک بڑے شراکت دار کے طور پر خطے میں پہچانا جاتا تھا۔ تیل کی فروخت سے دفاعی تعاون تک دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ بغل گیر تھے، اسرائیلی تعاون سے نہ صرف ایران میں میزائل ٹیکنالوجی کی بنیاد رکھی گئی بلکہ ایران اسرائیلی اسلحے کا بھی بہت بڑا خریدار تھا جبکہ ایران فوجیوں کی تربیت بھی اسرائیل کرتا تھا جبکہ مشترکہ تہذیبی وراثت کے اظہار کے لیے دونوں ممالک ایک دوسرے کے ہاں ثقافتی طائفے بھی بھیجتے تھے۔
مبصرین کے مطابق ایران کے ساتھ یہودیوں کی اچھی بری دونوں یادیں وابستہ ہیں جو صدیوں پر محیط ہیں۔ ایران ترکی کے بعد دوسرا اسلامی ملک تھا، جہاں اسرائیل کا باقاعدہ سفارت خانہ موجود تھا کیونکہ شاہ ایران سمجھتے تھے کہ امریکہ کی خوشنودی اسرائیل کے ساتھ دوستی سے مشروط ہے۔اسرائیل کے قیام کے بعد جن تین اسلامی ممالک نے سب سے پہلے اسرائیل کو تسلیم کیا، ان میں ترکی پہلے، ایران دوسرے اور مصر تیسرے نمبر پر تھا۔
اس حوالے سے مبصرین کا مزید کہنا ہے کہ ایران اقوامِ متحدہ کی1947 میں بننے والی اس 11 رکنی خصوصی کمیٹی کا بھی رکن تھا، جس نے برطانیہ کے انخلا کے بعد فلسطین کے مسئلے کو دیکھنا تھا۔ ایران، یوگو سلاویہ اور انڈیا سمیت تین ممالک نے اقوامِ متحدہ کے اس منصوبے کے خلاف ووٹ دیا تھا، جنہوں نے فلسطین کی تقسیم کے منصوبے کی مخالفت کی تھی اور اس کے متبادل منصوبہ پیش کیا تھا کہ فلسطین کو یہودی اورعرب حصوں پر مشتمل ایک فیڈریشن بنا دیا جائے۔ اسی طرح جب 1948 میں پہلی عرب اسرائیل جنگ چھڑی تو اس وقت ترکی کے بعد شاہ ایران رضا شاہ پہلوی نے اسرائیل کو تسلیم کر لیا۔1951 میں جب مصدق ایران کے وزیراعظم بنے تو انہوں نے تیل کی صنعت کو قومی تحویل میں لے لیا، جس پر برطانیہ کی اجارہ داری تھی اس کے ساتھ ہی انہوں نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات بھی محدود کر دیے کیونکہ وہ اسرائیل کو خطے میں مغربی مفادات کے نمائندے کے طور پر دیکھتے تھے۔
مبصرین کے مطابق 1953 میں امریکہ اور برطانیہ کی حمایت یافتہ ایک بغاوت کے نتیجے میں مصدق حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا تو شاہ کی حکومت بحال کر دی گئی۔اسرائیل نے 1970 میں تہران میں اپنا سفارت خانہ کھول لیا اور اس کے جواب میں تہران نے بھی اپنا سفیر اسرائیل بھیج دیا جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو فروغ ملا۔ ایران اسرائیل کو سب سے زیادہ تیل فراہم کرنے والا ملک بن گیا۔ دونوں ممالک کے درمیان پہلے اسرائیل اور پھر یورپ تک تیل کی پائپ لائن بچھانے کا معاہدہ ہو گیا۔ مبصرین کے بقول 1956 کی سویز جنگ کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات مزید بڑھے کیونکہ مصر کے جمال عبد الناصر فلسطین کی آزادی اور ’پین عرب ازم‘ کے حامی تھے۔دوسری جانب عراق مخالف کردوں کی مدد میں بھی ایران اور اسرائیل کی انٹیلی جنس ایجنسیاں شامل تھیں۔ بعد میں ترکی بھی اس میں شامل ہو گیا۔
سینئر صحافی سجاد اظہر کی انڈیپینڈنٹ اردو کیلئے ایک تحریر کے مطابق امریکہ میں کینیڈی حکومت شاہ ایران سے خوش نہیں تھی، اس لیے بھی شاہ ایران اسرائیل کی حمایت چاہتے تھے، جو کینیڈی کے ساتھ شاہ کے تعلقات بہتر بنا سکتا تھا۔1973 میں عرب ممالک نے اسرائیل کو امریکی اسلحے کی فراہمی پر احتجاج کے لیے تیل کو بطور ہتھیار استعمال کیا اور امریکہ و اسرائیل سمیت کئی ممالک کو تیل کی سپلائی بند کر دی۔ایسے موقعے پر شاہ ایران ہی تھے جنہوں نے اسرائیل کو تیل کی کمی نہیں ہونے دی، ورنہ اسرائیل کے لیے مصر اور شام سے جنگ جیتنا تو درکنار لڑنا ہی مشکل ہو جاتا۔
مبصرین کے مطابق اس عسکری تعاون کے بعد 1977 میں دونوں ممالک نے ’پراجیکٹ فلاور‘ کے نام سے ایک عسکری منصوبہ بنایا، جس کا مقصد جدید میزائل سازی تھا۔یہ معاہدہ دراصل ان چھ معاہدوں میں سے ایک تھا جو دونوں ممالک نے ’تیل کے بدلے اسلحہ‘ کی بنیاد پر کیے، جن کی مجموعی مالیت 1.2 ارب ڈالر تھی۔
کیا پاکستان اور افغانستان میں بڑی جنگ چھڑنے والی ہے؟
حیرت کی بات ہے کہ جب ایران میں 1979 میں اسلامی انقلاب آیا تو بھی دونوں ممالک میں تعلقات منقطع نہیں ہوئے کیونکہ اسلامی انقلاب کے فوراً بعد ہی عراق نے ایران پر حملہ کر دیا تھا اور ایران کو اسلحے کی شدید کمی کا سامنا تھا۔ شاہ ایران کے حامیوں کی بڑی تعداد نے فوج کو خیرآباد کہہ دیا تھا۔ ایسے میں امریکہ، روس اور عرب ممالک کی مدد سے ایران اپنے دفاع میں کامیاب ہوا۔ بظاہر ایران کی نئی قیادت اسرائیل کے خلاف تھی مگر عراق کے خلاف اسرائیل کی ضرورت کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت جاری رہی، حالانکہ انقلاب کے روحِ رواں امام خمینی امریکہ کو ’بڑا شیطان‘ اور اسرائیل کو ’چھوٹا شیطان‘ کہتے تھے۔مگر اسی اسرائیل سے ایران نے 1983 میں کروڑوں ڈالر کا اسلحہ خریدا۔ بات صرف یہیں پر نہیں رکی بلکہ اسلامی جمہوریہ ایران کے فوجی کمانڈروں کی تربیت بھی اسرائیل کی فوج نے کی۔اسرائیلی وزیراعظم شمعون پیریز سمجھتے تھے کہ امام خمینی کا دور عارضی ہو گا، اس لیے اسرائیل کو ایران کی مدد جاری رکھنی چاہیے، لیکن ایران عراق جنگ کے خاتمے کے بعد ایران کی جانب سے عرب ممالک کی شیعہ آبادی پر توجہ مرکوز کی گئی۔تہران میں اسرائیل کا سفارت خانہ پی ایل او کو دے دیا گیا اور مشرق وسطیٰ میں شیعہ عسکری تنظیموں کو کھڑا کیا گیا، جس کے بعد ایران اور اسرائیل جو کبھی مشرقِ وسطیٰ میں قریبی اتحادی سمجھے جاتے تھے، ایک دوسرے کے دشمن بن گئے۔
