ایران نے خلیجی ریاستوں کو امریکی اڈے بنانے پر کیسے مجبور کیا؟

ایران کی جانب سے خلیجی ریاستوں میں امریکی فوجی اڈے ختم کرنے کا مطالبہ تو کیا جا رہا ہے لیکن ان سچ یہ ہے کہ ان اڈوں کے قیام کی بنیادی وجہ خود ایران کی جارحانہ پالیسیاں ہیں، جنہوں نے خلیجی ممالک کو شدید عدم تحفظ کا شکار کیا اور انہیں اپنی سلامتی کے لیے امریکا جیسی عالمی طاقت کے ساتھ دفاعی معاہدے کرنے پر مجبور کیا۔
معروف لکھاری اور تجزیہ کار عامر خاکوانی نے اپنے حالیہ سیاسی تجزیے میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران مشرقِ وسطیٰ میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے پراکسی جنگوں کا سہارا نہ لیتا تو آج عالم عرب میں شاید ایک بھی امریکی فوجی اڈہ موجود نہ ہوتا۔ ان کے مطابق ایران کی پراکسیز نے خطے کے تقریباً ہر ملک کو کسی نہ کسی شکل میں متاثر کیا۔ خاکوانی کے مطابق شام میں ایران کی براہِ راست عسکری مداخلت اور بشار الاسد کی غیر مشروط حمایت، عراق میں پرو ایران ملیشیاؤں کی سرپرستی، لبنان میں حزب اللہ کو مضبوط بنانا اور یمن میں حوثی باغیوں کو متحرک کرنا، یہ تمام اقدامات ایک منظم علاقائی پالیسی کا حصہ تھے۔ اسکے علاوہ بحرین میں شیعہ آبادی کو متحرک کرنے کی کوششیں اور سعودی عرب میں عدم استحکام کے منصوبے بھی اسی سلسلے کی کڑیاں سمجھے جاتے ہیں۔
ان کے مطابق خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں کے قیام کی اجازت دینا کوئی شوقیہ فیصلہ نہیں تھا بلکہ ایران کی پالیسیوں کے ردعمل میں ایک مجبوری تھی۔ ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی پراکسی حکمتِ عملی نے خطے میں عدم تحفظ کو بڑھایا، جس کے نتیجے میں عرب ممالک کو امریکا کے ساتھ دفاعی شراکت داری کرنی پڑی۔ انہوں نے اس صورتحال کو برصغیر سے جوڑتے ہوئے کہا کہ جیسے بھارت کے ساتھ کشیدگی نے پاکستان کو ایٹمی اور میزائل پروگرام اپنانے پر مجبور کیا، ویسے ہی ایران کی پالیسیوں نے عرب ممالک کو بیرونی طاقت کا سہارا لینے پر مجبور کیا۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی بیلسٹک میزائل پروگرام بھی خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں کے قیام کی ایک بڑی وجہ بنا۔ ان کا کہنا ہے کہ ایرانی میزائل پروگرام خلیجی ممالک کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکا ہے۔ ان میزائلوں کی رینج پورے خلیجی خطے تک پھیلی ہوئی ہے جہاں تیل کے بڑے ذخائر، صنعتی مراکز اور گنجان آباد شہر واقع ہیں۔ یمن سے حوثیوں کی جانب سے سعودی تنصیبات پر حملے اس بات کا عملی ثبوت ہیں کہ پراکسی جنگیں کس طرح براہِ راست سلامتی کے خطرات میں تبدیل ہو سکتی ہیں۔
ایران اور اس کے حامی حلقے خلیجی ممالک پر حملوں کا جواز ان ممالک میں موجود امریکی اڈوں کو قرار دیتے ہیں، تاہم عامر خاکوانی اس مؤقف کو تکنیکی اور منطقی طور پر کمزور قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق خلیجی ممالک اس جنگ میں براہِ راست فریق نہیں۔ انہوں نے پوری کوشش کی کہ اپنی سرزمین کو کسی بھی جارحیت کے لیے استعمال ہونے سے روکا جائے لیکن پھر بھی امریکی حملوں کے جواب میں یہی خلیجی ریاستیں ایرانی حملوں کا نشانہ بنی۔ ان حملوں کے باوجود عرب ممالک کا محدود ردعمل ان کے تحمل اور احتیاط کی عکاسی کرتا ہے۔
عامر خاکوانی کا کہنا ہے کہ ایران کے لیے غلطیوں سے سیکھ کر آگے بڑھنا ہی واحد راستہ ہے۔ ایران کو چاہیے کہ وہ خلیجی ممالک کو دشمن کے بجائے ممکنہ شراکت دار سمجھے، کیونکہ موجودہ بحران میں اس کے اصل مخالف امریکا اور اسرائیل ہیں۔ اگر ایران نے خلیجی ممالک کو نشانہ بنانا بند نہ کیا تو پورا خطہ ایک ایسی جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے جس سے نکلنا کسی کے لیے بھی ممکن نہیں ہوگا۔
امریکی حکمتِ عملی پر بات کرتے ہوئے عامر خاکوانی کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف امریکی کارروائی کے تین بنیادی اہداف رہے: ایران میں رجیم چینج، اس کے جوہری پروگرام کا خاتمہ، اور اس کی میزائل صلاحیت کو محدود کرنا۔ تاہم ان کے مطابق ایران میں نظام کی تبدیلی نہ ماضی میں ممکن ہو سکی اور نہ ہی موجودہ حالات میں اس کا کوئی واضح امکان ہے۔ اگرچہ ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیت کو جزوی نقصان پہنچا ہے، مگر یہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی اور اس کے تقریباً 50 فیصد میزائل اب بھی محفوظ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو پتھر کے دور میں واپس بھیجنے کی دھمکی اپنی نوعیت کے اعتبار سے انتہائی سنگین ہے، اور یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ امریکا اس حد تک جانے کے لیے کتنا تیار ہے۔ ممکنہ طور پر ایران کے انفراسٹرکچر، پاور اسٹیشنز، آئل ریفائنریز اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، جبکہ خارگ جزیرے پر حملہ ایک انتہائی خطرناک منظرنامہ ہو سکتا ہے۔ ایران کے ممکنہ ردعمل بارے خاکوانی نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی بندش ایک اہم عنصر ہے، تاہم ایران اسے مستقل طور پر بند نہیں رکھ سکتا۔ دوسری جانب اسرائیل کے خلاف جوابی حملے بھی ایک آپشن ہیں، مگر اسرائیل کے جدید دفاعی نظام ایرانی میزائلوں کی بڑی تعداد کو فضا میں ہی تباہ کر دیتے ہیں، اگرچہ کچھ میزائل اپنے اہداف تک پہنچنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔
جنگ کے دوران پاک ایران راہداری نظام ختم، نئی پابندیاں نافذ
خاکوانی کے مطابق سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ یہ جنگ پورے خطے میں پھیل سکتی ہے۔ ایران اگر سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت، قطر یا عمان کو نشانہ بناتا ہے تو یہ صورتحال انتہائی تباہ کن ہو سکتی ہے۔ ایسی صورت میں تیل کی تنصیبات، پاور پلانٹس اور دیگر اہم انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے، جو نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی بڑا دھچکہ ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی قیادت اس وقت بھرپور سفارتی کوششوں میں مصروف ہے تاکہ جنگ کو روکا جا سکے یا کم از کم اسے خطے تک پھیلنے سے بچایا جا سکے۔ پاکستان بظاہر غیر جانبدار رہنا چاہتا ہے، تاہم اگر سعودی عرب پر بڑے پیمانے پر حملے ہوتے ہیں تو پاکستان کے لیے غیر جانبداری برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گا۔
