ایرانی میزائلز نے اسرائیلی آئرن ڈوم سسٹم کو کیسے چکمہ دیا؟

اسرائیل نے ایرانی حملوں سے بچاؤ کیلئے اپنی سرحدوں پر انتہائی جدید مانیٹرنگ اور میزائل ڈیفنس سسٹم نصب کر رکھے ہیں خاص طور پر آئرن ڈوم کو دنیا کے مؤثر ترین فضائی دفاعی نظاموں میں شمار کیا جاتا ہے، جو کسی بھی آنے والے راکٹ یا میزائل کو خودکار انداز میں فضا ہی میں تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم، حالیہ کشیدگی کے دوران ایران نے ایک ساتھ میزائلوں کی برسات کر کے اس دفاعی نظام کو شکست دے دی ہے جس کے نتیجے میں کئی میزائل دفاعی شیلڈز کو کراس کرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ جس سے اسرائیل کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑرہا ہے۔ تاہم اس پیشرفت کے بعد عالمی ماہرین تشویش میں مبتلا ہیں اور سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اتنی جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت سے لیس آئرن ڈوم جیسا دفاعی نظام ایرانی حملے کو مؤثر انداز میں روکنے میں ناکام کیوں رہا؟
خیال رہے کہ آئرن ڈوم ایک موبائل ایئر ڈیفنس سسٹم ہے جو قریبی علاقوں سے اسرائیلی آبادی کے مراکز پر فائر کیے جانے والے شارٹ رینج راکٹ، مارٹر اور ڈرون کو روک کر تباہ کر سکتا ہے۔ آئرن ڈوم نظام صرف ان راکٹوں کو نشانہ بناتا ہے جو شہری علاقوں اور بنیادی ڈھانچوں کے لیے سب سے زیادہ خطرہ سمجھے جاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق امریکی تعاون سے تیار کردہ آئرن ڈوم 2011 میں فعال کیاگیا تھا۔ اسے اسرائیلی شہروں اور قصبوں کو ہزاروں راکٹ حملوں سے بچانے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے، آئرن ڈوم 3 اہم عناصر پر مشتمل ہے، انٹرسیپٹرز کے ساتھ ایک لانچر، ایک ریڈار جو آنے والے پروجیکٹائل کا پتہ لگاتا ہے، اور ایک کنٹرول سسٹم جو خطرات کی رفتار اور اس کے اثرات کا حساب لگاتا ہے۔یہ نظام بیک وقت متعدد خطرات سے نمٹ سکتا ہے اور فی بیٹری 155 مربع کلومیٹر تک کوریج فراہم کر سکتا ہے۔ ہر بیٹری میں 3 سے 4 لانچرز ہوتے ہیں، اور ہر لانچر میں 20 انٹرسیپٹرز ہوتے ہیں۔ یہ نظام دنیا کے جدید ترین میزائل ڈیفنس سسٹمز میں سے ایک ہے، یہ نظام مہنگا بھی ہے جس کی لاگت فی انٹرسیپٹر 60 ہزار ڈالر ہے، ماہرین کے مطابق اسرائیلی ڈیفنس سسٹم آئرن ڈوم پر سالانہ کروڑوں ڈالرز خرچ کئے جاتے ہیں تاہم اس کے باوجود اسرائیلی دفاعی نظام ایرانی میزائلز کو مکمل طور پر روکنے میں ناکام نظر آتا ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق اگرچہ آئرن ڈوم ایک شاندار دفاعی نظام ہے، مگر ایک ساتھ داغے جانے والے ہزاروں میزائل کسی بھی سسٹم کو حد سے زیادہ مصروف کر سکتے ہیں۔ جس کی وجہ سے کئی راکٹس اور میزائلز کسی بھی جدید سے جدید سسٹم کو چکمہ دے کر اپنے ہدف کو ٹارگٹ کرنے میں کامیاب رہتے ہیں۔ ایران کی جانب سے کیے گئے حملے سے ظاہر ہوتا ہے کہ جدید ترین دفاعی ٹیکنالوجی بھی ہم وقت حملوں کے سامنے محدود ہو سکتی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ آئرن ڈوم ناکام ہے، بلکہ یہ نظام تکنیکی حد تک کام کر رہا ہے مگر ایرانی میزائلز کی بارش کو روکنے میں یہ سسٹم کامیاب نہیں ہو سکا ہے
مجتبی خامنہ ای کا انتخاب ٹرمپ کے لیے ایک واضح پیغام کیوں ہے؟
ماہرین کے مطابق آئرن ڈوم بنیادی طور پر شارٹ رینج راکٹوں اور راکٹ حملوں کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ تاہم، ایک ہی وقت میں بہت زیادہ میزائل داغے جانے کی صورت میں دفاعی سسٹم کی ٹارگٹ پروسیسنگ اور فائر کنٹرول یونٹس پر دباؤ بڑھ جاتا ہے، جس کے باعث کچھ میزائل اس دفاعی شیلڈ کو عبور کرنے میں کامیاب رہتے ہیں۔دفاعی ماہرین کے بقول آئرن ڈوم کی کامیابی کا انحصار نہ صرف ٹیکنالوجی پر ہے بلکہ حکمت عملی، ریسپانس ٹائم، اور اٹیک کے حجم پر بھی ہوتا ہے۔ ایران کی جانب سے اتنے بڑے حملے نے یہ واضح کر دیا کہ دفاعی نظام مکمل تحفظ کی ضمانت نہیں دے سکتا۔”
