ایران پر حملہ کر کے اسرائیل گہری دلدل میں کیسے پھنس گیا؟

اسرائیل نے امریکہ کو ایران پر حملہ کرنے کے لیے قائل کرتے ہوئے جو بھی چورن بیچا تھا اور دلائل پیش کیے تھے، وہ بظاہر غلط ثابت ہو رہے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو رواں برس ہونے والے انتخابات میں ساکھ کے سنگین بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جبکہ امریکی صدر ٹرمپ کو بھی مڈٹرم انتخابات میں سیاسی نقصان کا خدشہ لاحق ہے۔
برطانوی میڈیا کی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق، مشرق وسطیٰ میں جاری عسکری پالیسی نے اسرائیل کو ایک پیچیدہ اور طویل دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ ایران کے ساتھ جنگ نہ تو اسرائیل کے کسی اہم علاقائی تنازع کو حل کر سکی ہے اور نہ ہی وہ نتائج دے سکی ہے جن کا بارہا دعویٰ کیا گیا تھا۔ اگرچہ واشنگٹن کی جانب سے اب کشیدگی کم کرنے اور ممکنہ طور پر جنگ بندی کی باتیں سامنے آ رہی ہیں، اسرائیل بدستور متعدد محاذوں پر الجھا ہوا ہے۔
اسرائیلی افواج اس وقت غزہ اور شام میں اپنی موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہیں، جبکہ جنوبی لبنان میں بھی ایک وسیع بفر زون قائم کرنے کی تیاری جاری ہے تاکہ حزب اللہ کے اثر کو محدود کیا جا سکے۔
اس حکمت عملی نے نہ صرف تنازع کو مزید پھیلایا ہے بلکہ اسرائیلی فوج کو ایک ایسے مسلسل تصادم میں پھنسا دیا ہے جس کا کوئی واضح اختتام نظر نہیں آتا۔ اس دوران بین الاقوامی میڈیا میں یہ کہا جا رہا ہے کہ اسرائیلی فوج کئی محاذوں پر مسلسل جنگیں لڑنے کے باعث اب تھک کر چور ہو چکی ہے اور اس کے حوصلے پست ہو رہے ہیں۔ یاد رہے کہ گزشتہ ڈھائی برسوں کے دوران، نیتن یاہو حکومت نے ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف مسلسل محاذ آرائی جاری رکھی ہے اور ہر نئی کارروائی کے ساتھ فوری اور فیصلہ کن فتح کے دعوے کیے۔ صرف نو ماہ قبل، ایران کے خلاف جنگی کارروائی کے بعد، اسرائیلی قیادت نے اسے ایک تاریخی کامیابی قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کی جوہری اور بیلسٹک صلاحیتوں کو ختم کر دیا گیا ہے۔ تاہم زمینی حقیقت اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔
برطانوی میڈیا کی ایک مفصل رپورٹ کے مطابق، ایران اب بھی نہ صرف اپنی حکومت برقرار رکھے ہوئے ہے بلکہ اسرائیل پر میزائل حملے کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے اور اس کے پاس افزودہ یورینیم کے ذخائر موجود ہیں، جو مزید افزودگی کے بعد تقریباً ایک درجن ایٹمی ہتھیار بنانے کے قابل ہو سکتے ہیں۔ اسرائیلی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال ایک دائمی جنگ کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، حزب اللہ، حماس اور ایران کو تباہ کرنے کے دعوے پورے نہیں ہو رہے، جبکہ اسرائیل کے اندر کوئی مضبوط سیاسی آواز سفارتی حل، علاقائی تعاون یا فلسطینی مسئلے کے حل جیسے متبادل راستے بھی پیش نہیں کر رہی۔
زیر زمین ایرانی میزائل سٹیز نے امریکہ کو کیسے دھول چٹائی؟
تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ امریکہ ایران کیساتھ مذاکرات کا راستہ اختیار کر سکتا ہے، لیکن اسرائیل کے پاس واحد راستہ فوجی کارروائی کا ہی ہے۔ ان کے بقول ایران اسرائیل کے وجود کو تسلیم نہیں کرتا، اس لیے دونوں کے درمیان کوئی روایتی سفارت کاری ممکن نہیں۔ اسرائیل ڈیموکریسی انسٹی ٹیوٹ کے ایک سروے کے مطابق، جنگ کے آغاز میں یہودی اسرائیلیوں میں اس کی حمایت 90 فیصد سے زائد تھی، تاہم اب اس میں تقریباً 30 فیصد کمی آ چکی ہے، جو عوامی سطح پر بڑھتی ہوئی تھکن اور بے چینی کو ظاہر کرتی ہے۔ ادھر حماس کے ساتھ غزہ میں جاری تعطل بدستور برقرار ہے، جہاں تعمیر نو اور استحکام کے عمل میں رکاوٹ اس بات پر اختلاف ہے کہ حماس کو کب اور کیسے غیر مسلح کیا جائے اور اسرائیلی افواج کب واپس جائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مغربی کنارے میں بڑھتا ہوا تشدد اور لبنان میں کشیدگی نے اسرائیل کو بیک وقت کئی محاذوں پر مصروف کر رکھا ہے۔
اس مسلسل جنگی کیفیت کے اسرائیلی معاشرے پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ لازمی فوجی سروس کے باعث تقریباً ہر خاندان اس تنازع سے متاثر ہو رہا ہے، جبکہ لاکھوں ریزرو فوجیوں کو بار بار طلب کیا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، کچھ فوجی 2023 کے حملوں کے بعد پانچ یا اس سے زائد بار ڈیوٹی دے چکے ہیں، جبکہ بعض کی جانب سے مزید سروس سے انکار کی غیر مصدقہ خبریں بھی سامنے آئی ہیں۔ اسرائیل کے دفاعی اخراجات 45 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں، اور اگرچہ عوام میں طویل جنگ کے لیے حمایت کم ہو رہی ہے، لیکن اسرائیلی پالیسی سازوں کے نزدیک ان تنازعات کا حل نکالے بغیر پیچھے ہٹنا ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وسائل، افرادی قوت اور عسکری سازوسامان پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، ایران کے خلاف جنگ کو اسرائیل کے لیے ایک فیصلہ کن موقع کے طور پر پیش کیا گیا تھا، مگر ماضی کی طرح اس بار بھی یہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ صرف فوجی طاقت کسی دیرپا حل کی ضمانت نہیں دے سکتی۔ ایسے میں جہاں امریکہ کے لیے سفارتی راستے اب بھی کھلے ہیں، اسرائیل کے لیے یہ تنازع ایک گہری اور پیچیدہ دلدل بنتا جا رہا ہے۔
