علی ظفرکومیشاشفیع کے خلاف کیس جیتنے میں8سال کیوں لگے؟

لمبی قانونی جنگ، سینکڑوں پیشیوں اور صبر آزما انتظار کے بعد بالآخر گلوکار علی ظفر کو انصاف مل گیا۔ لاہور کی مقامی عدالت نے 8 سال بعد معروف گلوکارہ علی ظفر کو ہراسانی کے جھوٹے الزامات سے بری کرتے ہوئے میشا شفیع کو جھوٹا قرار دے دیا۔ لاہور کی سیشن عدالت نے علی ظفر پر جنسی ہراسانی کے جھوٹے اور بے بنیاد الزامات لگانے پر گلوکارہ میشا شفیع کو ہرجانے کی مد میں 50 لاکھ روپے ادا کرنے کا حکم دے دیا جبکہ میشا شفیع کو گلوکار علی ظفر کے خلاف دوبارہ کسی بھی پلیٹ فارم پر بے بنیاد جنسی ہراسانی کے الزامات دہرانے سے بھی روک دیا ہے۔
خیال رہے کہ گلوکارہ و اداکارہ میشا شفیع اور پاپ اسٹار علی ظفر کے درمیان قانونی جنگ اپریل 2018 میں شروع ہوئی تھی۔ جسے عالمی سطح پر جاری "می ٹو” MeToo تحریک سے جڑا ایک اہم اور ہائی پروفائل کیس قرار دیا گیا تھا۔ جس نے جنسی ہراسانی کے الزامات اور اس کے بعد ایک بڑے ہتکِ عزت کے مقدمے نے کئی سالوں تک جاری رہنے والی قانونی کارروائی کو جنم دیا۔ ابتدائی طور پر اپریل 2018 میں میشا شفیع نے ٹوئٹر پر علی ظفر پر ایک سے زیادہ مواقع پر جسمانی ہراسانی کا الزام عائد کیا۔انہوں نے خاص طور پر دسمبر 2017 میں ان کے گھر پر ہونے والے ایک جم سیشن کے واقعے کا حوالہ دیا کہ جم سیشن کے دوران علی ظفر نے انہیں جنسی طور پر ہراساں کیا۔ تاہم گلوکار علی ظفر نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی۔ اسی سال نومبر 2018 میں علی ظفر نے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ میں شکایت درج کروائی تھی جس میں یہ الزام لگایا گیا تھا کہ بہت سے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ان کے خلاف ’دھمکیوں پر مبنی اور تضحیک آمیز مواد‘ پوسٹ کر رہے ہیں۔ علی ظفر نے استدعا کی تھی کہ اس سلسلے کو فوری روکتے ہوئے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے۔ بعد ازاں علی نے میشا شفیع کے خلاف ایک ارب روپے کا ہتکِ عزت کا دعویٰ دائر کر دیا اور مؤقف اختیار کیا کہ میشا شفیع کے الزامات نے نہ صرف ان کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا بلکہ ان کے خاندان کو بھی ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔
جس کے بعد میشا شفیع نے صوبائی محتسب کے پاس شکایت درج کروائی جسے تکنیکی بنیادوں یعنی آجر اور ملازم کے تعلق کی عدم موجودگی پر مسترد کر دیا۔ بعد ازاں میشا شفیع نے اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کر دیا۔ علی ظفر اور میشا شفیع کے مابین مقدمے بازی مختلف سیشن عدالتوں اور اعلیٰ عدالتوں میں چلتی رہی۔ سنہ 2020 میں، فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کے سائبر کرائم ونگ نے علی ظفر کی شکایت پر میشا شفیع اور دیگر کے خلاف مبینہ ’بدنامی مہم‘ کے حوالے سے ایف آئی آر درج کی۔سنہ2022 میں میشا شفیع نے ایک حکمِ امتناعی کے خلاف کامیابی حاصل کی جس کے بعد علی ظفر کے خلاف ان کا اپنا ہتک عزت کا مقدمہ آگے بڑھنے کی اجازت ملی۔ اس کیس کی کل 284 پیشیاں ہوئیں 9 جج صاحبان تبدیل ہوئےاور 20 گواہان کے بیانات قلمبند کیے گئے، جن میں سے 13 گواہاں نے علی ظفر کے حق میں گواہی دی۔
طویل سماعتوں کے بعد 31مارچ کو عدالت نے مختصر فیصلہ جاری کرتے ہوئے میشا شفیع کو 50 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دے دیا ۔ عدالت کی جانب سے جاری کردہ مختصر فیصلے میں کہا گیا ہے کہ میشا شفیع کا 19 اپریل 2018 کو علی ظفر کے خلاف ٹوئٹ ہتک آمیز،غلط اور جھوٹا ثابت ہوا، جبکہ میشا شفیع کے علی ظفر پر ہراسانی کے الزامات جھوٹے نکلے، درخواست گزار عزت نفس مجروح ، شہرت کو نقصان پہنچنے اور ذہنی اذیت کا شکار ہونے پر ہرجانے کا حق دارہے، درخواست گزار کی جانب سے کئے 100 کروڑ روپے ہرجانے کو منظور نہیں کیا جاسکتا ، میشا شفیع علی ظفر کو 50 لاکھ ہرجانہ ادا کرے اور سوشل میڈیا یا کسی اور پلیٹ فارم پر دوبارہ علی ظفر پر ہراسانی کے الزامات لگانے سے باز رہے۔ ذرائع کے مطابق گلوکار علی ظفر کے لاہور کی سیشن کورٹ میں ہتک عزت کا دعویٰ جیت جانے کے بعد گلوکارہ و اداکارہ میشا شفیع نے عدالتی فیصلے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
