جیکو جے فائیو نے ٹویوٹا، ہنڈا اور ہیول کے چھکے کیسے چھڑائے؟

نشاط موٹرز کی متعارف کردہ چینی ہائبرڈ ایس یو وی جیکو جے فائیو نے پاکستانی آٹو مارکیٹ میں ہلچل مچا دی ہے کیونکہ پاکستان میں اس سیگمنٹ کی دیگر گاڑیاں کروڑوں میں بکتی ہیں، وہیں جے فائیو کے کمفرٹ اور پریمیم دونوں ورژنز نہ صرف سب سے سستے ہیں بلکہ فیچرز میں بھی دیگر مقابل گاڑیوں کو ٹکر دیتے دکھائی دیتے ہیں۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ نشاط موٹرز کی کم قیمت، زیادہ فیچرز کی حکمت عملی مارکیٹ میں موجود ہونڈا، ٹویوٹا اور ہیول جیسی بڑی کمپنیوں کو ٹف ٹائم دے گی، یا یہ صرف وقتی ہلچل تک محدود رہے گی؟
خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے نشاط موٹرز نے جے فائیو کے دو ورژنز متعارف کروائے ہیں۔ کمفرٹ ورژن کی قیمت 66 لاکھ 99 ہزار روپے رکھی گئی ہے جبکہ پریمیم ورژن 76 لاکھ 99 ہزار روپے میں دستیاب ہے۔ پاکستانی مارکیٹ میں اس قیمت پر جیکو جے فائیو ہائبرڈ الیکٹرک ایس یو وی کے لیے سب سے سستا آپشن ہے، جس نے صارفین اور ماہرین دونوں کو حیران کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق جے فائیو ایک بی سیگمنٹ ایس یو وی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک درمیانے سائز کی ایس یو وی ہے تاہم، پاک ویلز کے سنیل منج کے مطابق جیکو جے فائیو کو زیادہ تر بی سیگمنٹ ایس یو وی سے تھوڑا بڑا ڈیزائن کیا گیا ہے۔ جس سے یہ اپنے حریفوں کے مقابلے میں زیادہ کشش رکھتی ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان میں اس سیگمنٹ کی دیگر گاڑیاں جیسے ہیول، ٹویوٹا کرولا کراس اور ہونڈا ایچ آر وی، جے فائیو کے مقابلے میں کافی مہنگی ہیں۔ ہیول جولین جے فائیو سے 25 لاکھ روپے مہنگی ہے، جبکہ کرولا کراس اور ایچ آر وی کی قیمتیں بالترتیب 85 لاکھ اور 89 لاکھ روپے ہیں۔ جے فائیو کی یہ قیمت نہ صرف ایس یو وی کیٹیگری میں بلکہ سیڈان خریداروں کے لیے بھی کشش پیدا کرتی ہے۔ پاک ویلز کے سنیل منج کے مطابق، یہ قیمت ایسے صارفین کو بھی ایس یو وی خریدار بنانے کا سبب بن سکتی ہے جو پہلے سیڈان خریدتے تھے۔
ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ نشاط موٹرز نے اتنی سستی ہائبرڈ الیکٹرک ایس یو وی کیسے متعارف کروائی؟ نشاط موٹرز کے سی ای او حسن منشا کے مطابق، جے فائیو کو اس قیمت پر لانچ کرنے کا فیصلہ سادہ تھا: "ہم نے صرف وہ قیمت دیکھی جو چینی مینوفیکچرر ہمیں دے رہا تھا، اور اس میں اسمبلی کی لاگت شامل کی اور گاڑی کی قیمت کا اعلان کر دیا تاہم یہ ابتدائی قیمت ہے اور مستقبل میں اس پر نظرثانی بھی کی جا سکتی ہے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ جے فائیو کی لانچ کے بعد مارکیٹ میں زبردست رد عمل دیکھنے کو مل رہا ہے۔ کچھ ڈیلرشپس کی بکنگ بند ہو گئی ہے، اور ڈیلیوری جولائی یا اگست تک متوقع ہے۔ حسن منشا کے مطابق، یہ حکمت عملی صارفین کو بہتر فیول اکانومی اور زیادہ فیچرز فراہم کرنے کی وجہ سے کامیاب ہو سکتی ہے۔ پاکستانی مارکیٹ میں بی وائی ڈی، چنگان اور دیگر چینی برانڈز پہلے ہی مقبول ہو چکے ہیں، اور جے فائیو کی لانچ اس مقبولیت کو مزید بڑھا سکتی ہے۔
نشاط موٹرز کی حکمت عملی صرف قیمت پر مبنی نہیں ہے بلکہ اس قیمت میں تمام جدید فیچرز بھی پیش کیے جا رہے ہیں۔ پاکستانی آٹو مارکیٹ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ حریف کمپنیوں، خاص طور پر ہیول کو، اب جے فائیو کے مقابلے میں قیمت میں کمی اور مارکیٹنگ کی حکمت عملی اپنانے کا چیلنج درپیش ہے۔ 2024 میں کِیا نے اپنی چھوٹی اے سیگمنٹ کراس اوور ایس یو وی سٹونک کی قیمت میں نمایاں کمی کی، جس کی وجہ سے ہونڈا، ٹویوٹا اور سوزوکی کو بھی اپنی گاڑیوں میں ڈسکاؤنٹ دینا پڑا تھا اب جے فائیو کی وجہ سے دیگر بڑی کمنیوں کو ایک بار پھر اسی چیلنج کا سامنا ہے،اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا نشاط موٹرز اگلے سال سپلائی، قیمت اور سروس کے معیار کو برقرار رکھ سکتی ہے یا حریف کمپنیاں مارکیٹ شیئر واپس لینے میں کامیاب ہو جائیں گی، تاہم جے فائیو کی لانچ نے یہ واضح کر دیا ہے کہ پاکستانی ایس یو وی مارکیٹ پہلے جیسی نہیں رہی۔ کم قیمت اور زیادہ فیچرز کے امتزاج نے صارفین کی توقعات کو بڑھا دیا ہے، اور مارکیٹ میں مقابلے کا معیار بدل دیا ہے۔ اب نشاط موٹرز کے لیے بھی یہ ایک چیلنج بن گیا ہے کہ وہ کم قیمت پر فیچرز اور سروس کے معیار کو برقرار رکھتے ہوئے اپنی مقبولیت اور مارکیٹ شیئر کو کیسے محفوظ بنائیں گے۔
پنجاب اسمبلی میں ہنگامہ آرائی کرنے والے عمرانڈوز کو معافی کیسے ملی؟
واضح رہے کہ جے فائیو پہلی گاڑی نہیں ہے جسے جیکو نے متعارف کروایا ہے۔ اس سے پہلے نشاط نے جیکو جے سیون اور جے سکس متعارف کروائی تھیں جو بڑے سائز کی ایس یو ویز ہیں اور ایک مختلف سیگمنٹ میں مقابلہ کرتی ہیں۔تاہم جے فائیو کے لانچ کے معاملے میں بڑا فرق یہ ہے کہ یہ اپنی حریف گاڑیوں سے نمایاں طور پر کم قیمت پر فروخت ہو رہی ہے۔ جس نے پوری مارکیٹ کو ہلا کر رکھ دیا ہے
