میجر عزیز بھٹی نے جان قربان کر کے لاہور کو کیسے بچایا؟

سر زمین گجرات اپنی جغرافیائی اہمیت کے پیش نظر عسکری گیٹ وے ٹو کشمیر کی شہرت رکھتی ہے۔ جرأت و بہادری اس خطہ کے لوگوں کی صدیوں پرانی صفت ہے جو ان کی جبلت بن چکی ہے۔ یہ غازیوں اور شہیدوں کی سرزمین ہے۔ دفاع وطن کے لیے جب بھی ضرورت پڑی اس سرزمین کے بہادر جان ہتھیلی پر لے کر نکل آئے ، جرأت، بہادری اور قربانی کی ایسی لازوال داستانیں رقم کیں کہ نشان حیدر جیسے اعزازات انہی پر نچھاور ہوتے رہے ، گجرات پاک فوج کے لیے تین نشان حیدر حاصل کرنے والوں کی جائے پیدائش ہے ، میجر راجہ عزیز بھٹی شہید ، میجر محمد اکرم شہید اور میجر شبیر شریف شہید۔

12 ستمبر 1965 میجر راجہ عزیز بھٹی شہید کا یوم شہادت ہے ، انہوں نے 1965 ء کی پاک بھارت جنگ میں لاہور سیکٹر کے برکی محاذ پر عزم و شجاعت کی لازوال داستان اپنے خون سے رقم کر کے وطن عزیز کی سالمیت اور آزادی کی خاطر جام شہادت نوش کیا اور ہمیشہ کے لیے امر ہوگئے۔ کہا جاتا ہے کہ اگر برکی کے محاذ پر عزیز بھٹی موجود نہ ہوتے تو لاہور کا دفاع ممکن نہ ہوتا۔ عزیز بھٹی گجرات کے گاؤں لادیاں کے رہائشی ماسٹر عبداللہ بھٹی کے ہاں 06 اگست 1923 ء کو ہانگ کانگ میں پیدا ہوئے۔ وہیں ایام طفولیت گزارے اور ابتدئی ثانوی تعلیم حاصل کی۔ جنوری 1948 ء میں فرسٹ ریگولر پی ایم اے لانگ کورس میں داخلہ لیا اور دوران تربیت اپنی ذہانت و شجاعت کے جوہر خوب دکھائے چنانچہ 4 فروری 1950 ء کو اپنی پاسنگ آؤٹ پریڈ کے موقع پر پاکستان کے پہلے وزیراعظم نوابزادہ لیاقت علی خان کے ہاتھوں سے نارمن گولڈ میڈل اور اعزازی تلوار حاصل کی۔

بعدازاں کئی پیشہ وارانہ تربیتی کورسز کیے اور اسی سلسلے میں کینیڈا کے کنگسٹن کالج اور جرمنی سے انٹرپریٹر کا کورس کیا۔ انہوں نے 1957 سے 1959 تک جی ایس سیکنڈ آپریشنز کی حیثیت سے جہلم اور کوہاٹ میں خدمات انجام دیں۔ 1960 سے 1962 تک پنجاب رجمنٹ جبکہ 1962 سے 1964 تک انفنٹری سکول کوئٹہ سے وابستہ رہے۔ انہوں نے جنوری 1965 سے مئی 1965ء تک سیکٹر کمانڈر کے طورپر خدمات انجام دیں۔عزیز بھٹی اردو، پنجابی، انگریزی، چینی، جرمن، بنگلہ اور عربی زبانیں جانتے تھے ، مطالعے کے شوقین اور ذوق کتب بینی کے حامل وسیع المطالعہ، ذہین و سوچ بچار رکھنے والے شخص تھے۔

29 اگست 1965 کے روز جب عزیز بھٹی اپنے اہل وعیال کے ساتھ چھٹیاں گزار رہے تھے تو انہیں اچانک یونٹ واپس بلا لیا گیا اور بتایا گیا کہ جنگ سر پر منڈلا رہی ہے اور انہیں لاہور کا دفاع کرنا ہے۔ گھر سے نکلنے سے پہلے کھانے کی میز پر انکی بیوی نے افسردہ لہجے میں پوچھا کہ اگر جنگ جلد ختم ہو گئی تو کیا آپ بھی جلد آ جائیں گے، جواب میں عزیز بھٹی نے مسکرا کر جواب دیا ، تم پریشان کیوں ہوتی ہو، تمہیں معلوم تو ہے کہ ایک فوجی کی زندگی میں اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں اور آنا جانا بھی لگا رہتا ہے۔

ان کا چھوٹا بیٹا ذوالفقار معصومیت سے بولا ابا جان کیا جنگ ہونے لگی ہے؟ عزیز بھٹی نے جواب دیا ہاں۔ حالات کچھ زیادہ اچھے نہیں لگ رہے۔ جواب میں ان کا بیٹا معصومیت سے مکا ہوا میں لہراتے ہوئے بولا کہ جنگ میں کبھی دشمن کو پیٹھ نہ دکھانا۔ میجر نے اپنے بیٹے کا ماتھا چوما اور کہا پھر تم بھی وعدہ کرو کہ اگر میں شہید ہو جاؤں تو میری لاش پر رونا نہیں ہے۔ اس کے بعد وہ میدان جنگ کے لیے روانہ ہو گئے۔جب بھارتی فوج لاہور پر حملہ آور ہوئی تب میجر عزیز بھٹی لاہور سیکٹر کے علاقے برکی میں کمپنی کمانڈر تعینات تھے۔

ستمبر 1965 ء کی پاک بھارت جنگ میں بھارتی فوجی افسروں نے لاہور کے جمخانہ میں مے نوشی کا خواب دیکھا اور صبح کا ناشتہ لاہور میں کرنے کا منصوبہ بنایا تو برکی کے محاذ پر بی آر بی کینال کے پاس مرد مجاہد میجر راجہ عزیز بھٹی ان کی راہ میں تدبیر و تزویر اور بہادری اور عزم کی سیسہ پلائی ڈھال بن کر کھڑا ہو گیا۔ انہوں نے محدود فوجی نفری کے ساتھ مسلسل پانچ روز تک دشمن کو برکی کے محاذ پر روکے رکھا اور آگے نہ بڑھنے دیا۔

عزیز بھٹی کو بی آر بی نہر کے کنارے پر بہ حیثیت کمپنی کمانڈر تعینات کیا گیا مگر انہوں نے خود ہی او پی کی پوسٹ سنبھالی جہاں بھوکے پیاسے کئی دن تک مسلسل دشمنوں کا مقابلہ کرتے رہے۔ عزیز بھٹی کی بہادری کی وجہ سے دشمن فوج کو شدید جانی اور جنگی سازوسامان کا نقصان اُٹھانا پڑا۔ راجا عزیز بھٹی کے حملوں سے بھارت کے دو ٹینک بھی تباہ ہوئے اور دشمن تازہ ترین کمک اور وافر اسلحہ ہونے کے باوجود ایک قدم آگے نہ بڑھ سکا۔

12 ستمبر کی صبح طلوع ہوئی تو عزیز بھٹی نے دیکھا کہ دشمن کی فوج کے ہزاروں سپاہی برکی سے شمال کی طرف درختوں کے پیچھے چُھپے ہوئے ہیں آہستہ آہستہ بی آر بی نہر کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ چنانچہ عزیز بھٹی نے انہیں روکنے کے لیے فائرنگ شروع کر دی جس سے دشمن کی پیشقدمی رک گئی اور وہ پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گیا۔

اس دوران میجر عزیز بھٹی دوبارہ نہر کی پٹری پرچڑھ کر دشمن کی نقل وحرکت کا جائزہ لینے لگے۔ اپنے محاذ پر ڈٹے عزیز بھٹی ہر خطرے سے بے نیاز دشمن کا مقابلہ کر رہے تھے کہ دشمن کے ٹینک سے داغا گیا ایک گولہ ان کے سینے سے آر پار ہوگیا۔ انہوں نے ملک وقوم کی آبرو کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر دیا۔ مادر وطن کے لئے اپنی جان نثار کرنے پر میجر عزیز بھٹی کو پاکستان کے سب سے بڑے فوجی اعزاز نشان حیدر سے نوازا گیا جو 23 مارچ 1966ء کو ان کی اہلیہ محترمہ زرینہ اختر نے وصول کیا۔

Back to top button