ٹرمپ کی مخالفت کے باوجود ممدانی نیویارک کا مئیر کیسے بنا؟

معروف بھارتی فلم ساز میرا نائر اور کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر محمود ممدانی کے بیٹے ظہران ممدانی نے امریکی صدر ٹرمپ کی بھرپور مخالفت کے باوجود نیویارک سٹی کے میئر کا الیکشن جیت کر ایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔ ایک مسلمان باپ اور ہندو ماں کے بطن سے پیدا ہونے والے ظہران ممدانی کا مقابلہ نیویارک کے سابق گورنر اینڈریو کومو سے تھا۔ ممدانی یکم جنوری 2026 کو اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔
ظہران ممدانی کی جیت کو ورکنگ کلاس کی کامیابی اور ایلیٹ کلاس کی شکست سے تعبیر کیا جا رہا ہے جو امریکی معیشت پر قابض ہے۔ ظہران کی کامیابی کو مسلمانوں کی جیت اور یہودیوں کی شکست بھی سمجھا جا رہا ہے چونکہ شہر کی امیر ترین یہودی لابی نے غزہ کے فلسطینیوں کی حمایت کرنے پر ڈٹ کر ان کی مخالفت کی تھی۔ظہران نے اپنی ایک تقریر میں یہ اعلان کیا تھا کہ اگر عالمی عدالت انصاف کو مطلوب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نیویارک آئے تو وہ بطور مئیر انہیں گرفتار کرادیں گے۔ اس سے پہلے صدر ٹرمپ نے یہ اعلان کیا تھا کہ اگر ظہران ممدانی نیویارک کے میئر بن گئے تو وہ شہر کی فیڈرل فنڈنگ بند کر دیں گے۔
الیکشن جیتنے کے بعد ممدانی نے اپنی پہلی تقریر کے دوران واضح انداز میں اعلان کیا کہ وہ ایک مسلمان ہونے کے علاوہ ایک سوشل ڈیموکریٹ بھی ہیں اور انہیں اس حوالے سے کوئی شرمندگی نہیں۔ انہوں نے اپنی جیت کو ورکنگ کلاس کی جیت قرار دیتے ہوئے نیویارک شہر کے ٹیکسی ڈرائیورز کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ نیویارک کے الیکشن نے ثابت کر دیا کہ امید ابھی زندہ ہے، اور اب نیو یارک میں اسلامو فوبیا کی گنجائش نہیں رہی ہے۔ نیویارک کے پہلے مسلم میئر نے کہا کہ انکی جیت نے ثابت کر دیا کہ امید اب بھی زندہ ہے، انکا کہنا تھا کہ خوف کی شکست اور امید کی جیت ہوئی ہے، اور نیو یارک شہر میں مورثی سیاست کا خاتمہ کر دیا گیا یے۔
یاد رہے کہ ظہران ممدانی نے اپنی الیکشن مہم کے دوران جو وعدے کیے تھے ان میں سستی رہائش اور مفت ٹرانسپورٹ کی فراہمی کے علاوہ مڈل کلاس کے مسائل حل کرنے کی یقین دہانی بھی کروائی گئی تھی۔ انہوں نے اپنی الیکشن مہم میں یہ اعلان بھی کیا تھا کہ وہ مئیر بننے کے بعد نیویارک میں گھروں اور دفاتر کے کرائے منجمد کر دیں گے، شہر میں ٹرانسپورٹ مفت ہو گی اور چائلڈ کیئر کا دائرہ بڑھایا جائے گا۔ اپنی جیت کو ٹرمپ کی شکست قرار دینے والے ظہران ممدانی 1991 میں یوگنڈا کے دارالحکومت کمپالا میں پیدا ہوئے تھے، اور ان کے والدین کا تعلق بھارت سے ہے۔ ظہران کی اہلیہ رما دواجی شامی آرٹسٹ ہیں۔
ظہران ممدانی کے والد کا تعلق گجرات سے ہے، جو یوگنڈا کی ایک یونیورسٹی میں پروفیسر تھے۔ ظہران کے نام کے ساتھ ممدانی ان کے والد کی نسبت ہے۔ سات برس کی عمر میں ظہران اپنے والدین کیساتھ امریکہ پہنچ کر سیٹل ہو گئے تھے۔ لیکن اپنی جڑوں سے ان کا تعلق قائم رہا اور آج بھی برقرار ہے۔ انہیں نہ صرف گجراتی اور پنجابی زبانیں بولنا آتی ہیں بلکہ وہ بہت اچھی اردو اور ہندی بھی بول لیتے ہیں، ان کی الیکشن مہم کے دوران سوشل میڈیا پر ڈھیروں ایسے کلپس وائرل ہوئے جن میں ممدانی اچھی اردو اور ہندی بولتے نظر آئے۔ ان کی اہلیہ رما دعا جی شامی عرب ہیں۔ رما دعا جی نے فائن آرٹس کی تعلیم حاصل کی ہے، وہ پینٹر اور اینی میشن آرٹسٹ ہیں اور اہم امریکی جرائد کے لیے کام کر چکی ہیں۔
ممدانی کی شخصیت کا حیران کن اور دلچسپ پہلو ان کا صدر ٹرمپ، وزیراعظم نیتن یاہو اور نریندر مودی کا ناقد ہونا ہے۔ انکے جرأت مندانہ سیاسی موقف اور سوشلسٹ ٹائپ سیاسی ایجنڈے نے نیویارک کے نوجوانوں کو ان کا گرویدہ کر دیا ہے۔ ظہران ممدانی بہت کھل کر پرو فلسطین سیاست کرتے ہیں، انہوں نے غزہ میں ہونے والے مظالم پر بھی آواز اٹھائی، لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو اور نریندرا مودی کو ظالم اور مجرم قرار دیتے ہیں۔ اپنی حالیہ الیکشن مہم کے دوران ممدانی نے ان تینوں کو خوب رگڑا دیا جس نے انکی مقبولیت میں اضافہ بھی کیا۔ ممدانی کی الیکشن مہم کی تپش وائٹ ہاؤس کے مکین ٹرمپ نے بھی محسوس کی اور نیویارک کے باسیوں کو یہ دھمکی دے ڈالی کہ اگر انہوں نے ممدانی کو مئیر بننے کے لیے ووٹ دیے تو وہ شہر کی فیڈرل فنڈنگ بند کر دیں گے۔
آپریشن بحال، PIA کا احتجاجی انجینئرز کو فارغ کرنے کا فیصلہ
سیاسی مبصرین کے مطابق ظہران ممدانی کے الیکشن جیتنے کی ایک اور بڑی وجہ یہ ہے کہ نیویارک میں ڈیموکریٹس کا ووٹ بینک خاصا بڑا ہے۔ روایتی طور پر پچھلے 15 برسوں سے یہاں کے گورنر اور سینیٹرز کے علاوہ ہاؤس کی زیادہ تر سیٹیں بھی ڈیموکریٹ پارٹی ہی جیتتی چلی آئی ہے۔ نیویارک کے سابق گورنر اور موجودہ گورنر بھی ڈیموکریٹ ہیں، نیویارک شہر کے دونوں سینیٹرز بھی ڈیموکریٹ ہیں جبکہ دو تہائی سے زیادہ نیو یارک کے کانگریس مین بھی ڈیموکریٹس ہیں۔
