کیا مریم اورنگزیب نے اپنا چہرہ سرجری سے بدلا ہے؟

 

 

 

جنید صفدر کی شادی پر دلہا، دلہن اور مریم نواز کی ڈریسنگ اور انداز کے ساتھ ساتھ مریم اورنگزیب کے ’گلو اپ‘ اور بدلاؤ کے خوب چرچے رہے۔ شادی کی تقریبات میں مریم اورنگزیب پہلے کے مقابلے میں خاصی دبلی پتلی نظر آئیں، جس پر سوشل میڈیا صارفین حیرت کا اظہار کرتے دکھائی دئیے، مریم اورنگزیب میں رونما ہونے والی ظاہری تبدیلی کو دیکھتے ہوئے متعدد سوشل میڈیا صارفین سینئر صوبائی وزیر کے دبلا پتلا نظر آنے کے لیے انجیکشن کے استعمال یا کسی سرجیکل ٹریٹمنٹ کروانے کے دعوے کرتے نظر آئے۔

شادی کی مختلف تقریبات میں سامنے آنے والی مریم اورنگزیب کی تصاویر پر مختلف آرا اور سوالات سامنے آئے۔ سرجیکل ٹریٹمنٹ کے دعوؤں کے ساتھ کئی سوشل میڈیا صارفین کا یہ بھی کہنا تھا کہ چہرے میں اتنی بڑی تبدیلی صرف سرجری سے ممکن نہیں مریم اورنگزیب نے یقینا وزن کم کرنے اور زندگی میں بدلاؤ لانے میں کافی محنت کی ہے۔ تاہم جب اس حوالے سے مریم اورنگزیب کی والدہ طاہرہ اورنگزیب سے استفسار کیا گیا کہ آیا مریم اورنگزیب کی ظاہری تبدیلی کسی خاص تیاری، علاج یا سرجری کا نتیجہ ہے یا اس کے پیچھے کوئی اور وجہ کارفرما ہے۔ اس پر مریم اورنگزیب کی والدہ نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی بیٹی نے نہ کوئی سرجری کروائی ہے اور نہ ہی کسی قسم کا طبی علاج کرایا گیا ہے۔ ان کے مطابق مریم اورنگزیب نے گزشتہ دو سے تین ماہ کے دوران سخت ڈائٹ اختیار کی، وہ زیادہ تر صرف چائے اور کافی پر گزارا کر رہی ہیں۔اسی وجہ سے مریم اورنگزیب نہ صرف پتلی ہوئی ہیں بلکہ ان کے وزن میں نمایاں کمی آئی ہے۔ وزن کم ہونے کی وجہ سے چہرے میں قدرتی تبدیلی محسوس ہوئی اور وہ پہلے سے بہت مختلف نظر آ رہی ہیں۔تاہم ڈائٹ کے علاوہ انھوں نے کسی قسم کی کوئی سرجری نہیں کروائی۔انہوں نے مزید کہا کہ وزن کم کرنا ایک ذاتی فیصلہ تھا اور اس کا مقصد کسی تقریب یا تصاویر کے لیے خصوصی تیاری نہیں تھا۔ وزن میں کمی کے باعث چہرہ نسبتاً چھوٹا دکھائی دینے لگا، جسے بعض افراد نے غیر ضروری قیاس آرائیوں سے جوڑ دیا ہے۔

 

دوسری جانب جنید صفدر کی شادی کی تقریبات میں مریم اورنگزیب اور عظمیٰ بخاری کی تصاویر سامنے آنے کے بعد  سوشل میڈیا پر حالیہ دنوں ایک نوٹیفیکیشن گردش کرتا نظر آ رہا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پنجاب حکومت نے سینئر وزیر پنجاب مریم اورنگزیب اور وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ زاہد بخاری کے ذاتی میک اَپ اور پریزنٹیشن کے اخراجات کے لیے 4 کروڑ روپے کی خصوصی گرانٹ منظور کی ہے۔

 

یہ مبینہ نوٹیفیکیشن وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شدید تنقید کی زد میں آ گیا اور ناقدین نے حکومتی جماعت پر الزامات کی بوچھاڑ کر دی، ناقدین کا کہنا تھا کہ عوام دو وقت کی روٹی کو ترس رہے ہیں اور حکمران طبقہ عوام کے ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی رقم کو ذاتی نمود و نمائش اور غیر ضروری اخراجات پر خرچ کر رہا ہے۔اشرافیہ کا یہ طرزِ عمل عوامی مسائل سے لاتعلقی اور طبقاتی فرق کو مزید گہرا کرنے کے مترادف ہے۔ تاہم دوسری جانب اس معاملے پر ردِعمل دیتے ہوئے وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ زاہد بخاری نے اس نوٹیفیکیشن کو جعلی اور من گھڑت قرار دیا اور واضح کیا کہ اس کا حکومتِ پنجاب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

جنید کی شادی پر سوشل میڈیا دو دھڑوں میں کیوں بٹ گیا؟

حکومتی وضاحت سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے اس جعلی نوٹیفیکیشن کی شدید مذمت کی اور کہا کہ اس قسم کی فیک نیوز معاشرے میں انتشار، بے چینی اور بداعتمادی کو جنم دیتی ہیں۔ صارفین کا کہنا تھا کہ جھوٹے اور گمراہ کن پروپیگنڈے کے ذریعے اخلاقی اور قانونی حدود کو پامال کیا جا رہا ہے۔ کئی صارفین نے اس بات پر زور دیا کہ جب تک جعلی خبریں پھیلانے والوں کے خلاف مؤثر اور مثال قائم کرنے والی کارروائی نہیں کی جائے گی، اس رجحان کا خاتمہ ممکن نہیں۔ ان کا مطالبہ تھا کہ ایسے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کے جھوٹے اور من گھڑت نوٹیفیکیشنز کی حوصلہ شکنی ہو سکے۔

Back to top button