مریم نواز نے پنجاب میں یوتھیوں کو قابو کیسے کیا؟

مریم نواز کے وزیر اعلی بننے سے قبل صوبے میں گورننس کے مسائل کے علاوہ ان کےلیے سب سے بڑا چیلنج پی ٹی آئی کے بدتمیز اراکین اسمبلی کو قرار دیا جا رہا تھا اور سوال اٹھایا جا رہا تھا کہ مریم نواز بطور خاتون وزیر اعلی یوتھیوں کی بدتمیزیوں اور بدتہذیبیوں کا کیسے جواب دیں گی؟ تاہم برسر اقتدار آنے کے بعد نہ صرف مریم نواز پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن کو قابو کرنے میں کامیاب رہی ہیں بلکہ انہوں نے پی ٹی آئی کے عمرانڈو اراکین کو ان کے ذاتی اور جماعتی مسائل میں اتنا الجھا رکھا ہے کہ وہ پنجاب اسمبلی کے اندر اور باہر اپوزیشن کا کردار ادا کرنے سے قاصر ہو چکے ہیں اور وہ حکومتی پالیسیوں اور اقدامات کو ہدف تنقید بنانے کی بجائے ذاتی ریلیف کیلئے کوشاں دکھائی دیتے ہیں۔
ایک طرف اسمبلی میں مشکلات سے دوچار تحریک انصاف سے وابستہ اپوزیشن سیاسی طور پر بھنور میں پھنسی ہوئی ہے۔ تو دوسری طرف پنجاب میں تحریک انصاف کے اندر دھڑوں کی سیاست نے صورت حال کو مزید پیچیدہ اور کمزور کر دیا ہے، پارٹی رہنماؤں کے باہمی اختلافات نے پی ٹی آئی کو پنجاب کی سیاست سے مکمل طور پر مائنس کر دیا ہے اب کوئی احتجاج ہو یا دھرنا پی ٹی آئی کی صفوں میں مکمل خاموشی سنائی دیتی ہے۔
مبصرین کے مطابق پاکستان تحریک انصاف 2011 کے بعد پاکستان کی تیسری بڑی سیاسی جماعت بن کر ابھری، جس کے بعد بہت سے سینیئر سیاست دان پی ٹی آئی کی بڑھتی مقبولیت دیکھ کر عمران خان سے جا ملے۔ پھر 2013 سے 2018 تک تحریک انصاف نے وفاق اور پنجاب میں بہترین اپویشن کا کردار ادا کیا۔ اسی عرصے میں اسمبلیوں کے اندر اور باہر عوامی ایشوز پر شدید احتجاج کیا جاتا تھا، قانون سازی کے معاملات پر بھی حکومت کو ٹف ٹائم ملتا تھا۔ پھر 2018 میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ پاکستان تحریک انصاف پر مہربان ہو گئی اور اسے وفاق، پنجاب اور خیبرپختونخوا کی حکومتوں سے نواز دیا گیا لیکن ساڑھے 3 سال بعد عدم اعتماد کے ذریعے عمران خان کی حکومت کو گھر بھجوا دیا گیا۔ پھر کچھ عرصے بعد کرپشن الزامات پر پارٹی کے بانی و سابق وزیراعظم عمران خان کو گرفتار کر لیا گیا، جس کے ردعمل میں 9 مئی کا واقعہ ہوگیا، جس کے بعد پی ٹی آئی زیر عتاب آ گئی۔ ناقدین کے مطابق عمران خان کی تحریک انصاف نے پے درپے تحریکوں، جلسوں اور احتجاجی مارچ کر کے اپنی مقبولیت کو خود بے اثر کردیا ہے۔ مسلسل مزاحمتی سیاست کی وجہ سے اب عوام پی ٹی آئی کی کالز پر سڑکوں پر نکلنے سے انکاری ہیں۔
البتہ سیاسی تجزیہ وجاہت مسعود سمجھتے ہیں کہ ’گذشتہ چند مہینوں میں پاکستان تحریک انصاف کے اندر گروہ بندیوں نے جگہ بنائی ہے اس سے اپوزیشن اپنے اصل کام سے غیرمتعلق ہو چکی ہے۔ اور آپس کی لڑائی اور قیادت کے بحران کی وجہ سے پنجاب اسمبلی میں بڑے سخت قوانین پاس ہوئے ہیں لیکن اپوزیشن کچھ نہیں کر سکی، ان کا مزید کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی سیاست پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی نے اسمبلی کے اندر اپوزیشن کرنے کی بجائے سڑکوں پر تماشا لگانے کو اپنا ہدف بنا لیا ہے۔ پی ٹی آئی پنجاب اسمبلی کے اندر حکومتی پالیسیوں کیخلاف آواز بلند کرنے کی بجائے اسمبلی کے باہر نعرے بازی کو ترجیح دیتی ہے۔ حالانکہ پی ٹی آئی کی قیادت کو یہ سمجھنا چاہیے کہ قانون سازی اسمبلی کے اندر ہوتی ہے باہر خالی نعرے مارنے سے نہ انھیں کوئی فائدہ ہو گا اور نہ ہی عوام کو کئی ریلیف ملے گا‘
بعض دیگر مبصرین کے مطابق پی ٹی آئی پنجاب میں اپوزیشن کا کردار ادا کرنے میں یکسر ناکام ہے کیونکہ پی ٹی آئی پنجاب کے اکثریتی رہنما یا تو پابند سلاسل ہیں یا گرفتاریوں سے بچنے کیلئے چھپتے پھر رہے ہیں جبکہ پرویز الٰہی جیسے رہنما جو جیلوں سے باہر ہیں انھوں نے بھی معنی خیز خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ جبکہ دوسری جانب حکومتی کارروائیوں سے ایسا لگتا ہے کہ جیسے پی ٹی آئی پر غیر اعلانیہ پابندی عائد ہے، اڈیالہ جیل کے باہر تو پی ٹی آئی کے کارکنان جاتے ہیں لیکن پنجاب میں بڑے لیول پر کوئی احتجاج نہیں ہو رہا۔‘گزشتہ کچھ عرصے سے پنجاب میں صرف علامتی احتجاج ہی ہوئے ہیں جبکہ پی ٹی آئی اس وقت اسمبلی کے اندر بھی کوئی مؤثر کردار ادا نہیں کررہی۔
عمران کی فوج پر دباؤ ڈالنے کی کوشش ناکام، لمبی قید کاٹیں گے
تاہم سینیئر تجزیہ کار سلمان غنی کے بقول پی ٹی آئی نے اپنی سیاسی سرگرمیوں کا مرکز خیبرپختونخوا کو بنایا ہوا ہے، اس وقت لیڈر شپ خیبرپختونکوا کے پاس ہی ہے، جنہوں نے پی ٹی آئی کو پنجاب میں پس پشت ڈالا ہوا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت پی ٹی آئی قیادت عمران خان سے ملاقات اور رہائی کے معاملات تک محدود ہو چکی ہے، یہ لوگ قومی مسائل پر بات ہی نہیں کرتے، جس کی وجہ سے پنجاب میں پی ٹی آئی کا سیاسی کردار سکڑتا ہوا نظر آ رہا ہے۔سلمان غنی کے بقول اگر پی ٹی آئی نے مزاحمت کی پالیسی ہی اپنائے رکھی اور عوامی ایشوز پر پنجاب میں کوئی متحرک کردار ادا نہ کیا تو آنے والے دنوں میں تحریک انصاف کی مقبولیت بالکل صفر ہو جائے گی۔
