مریم نواز کے جہاز نے حکومت کی ساکھ صفر کیسے کر دی؟

 

 

 

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے اپنا فضائی سفر مزید آرام دہ بنانے کے لیے 11 ارب روپے مالیت کا ایگزیکٹو جہاز خریدنے کا فیصلہ مسلسل عوامی تنقید کی زد میں ہے۔ پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن کی جانب سے اس معاملے پر ہنگامہ آرائی کے باوجود حکومت پنجاب اس حوالے سے کوئی تسلی بخش جواب دینے میں کامیاب نہیں ہو پائی۔

 

معروف انگریزی روزنامہ ڈان میں شائع ہونے والے تجزیے میں سینئر صحافی اور تجزیہ کار عارفہ نور نے مریم نواز کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے عوامی احساسات اور جذبات کے منافی قرار دیا ہے۔ انکے مطابق ایک ایسے وقت میں جب ملک مہنگائی، بے روزگاری، غذائی قلت اور مالی دباؤ کا شکار ہے، اپنی ذاتی عیاشی کے لیے عوام کے پیسوں سے 11 ارب روپے کا لگژری جہاز خریدنے کا فیصلہ سیاسی اور اخلاقی طور پر ناقابل دفاع ہے۔

 

عارفہ نور کہتی ہیں کہ پنجاب نہ صرف آبادی کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے بلکہ وفاقی سیاست کا مرکز بھی سمجھا جاتا ہے۔ اسلام آباد کی سیاست کی اصل جنگ اکثر پنجاب میں لڑی جاتی ہے اور عموماً جو جماعت مرکز میں کامیاب ہوتی ہے وہی تختِ لاہور بھی سنبھالتی ہے۔ اس وقت مسلم لیگ (ن) نے مرکز کے ساتھ پنجاب میں بھی اقتدار سنبھال رکھا ہے، جبکہ 2018 میں تحریک انصاف دونوں محاذوں پر حکمران تھی۔ عارفہ نور کے مطابق جب پنجاب میں بزدار کی حکومت تھی تو نون لیگ عوام کے ٹیکسوں کے پیسوں سے تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے کی جانے والی عیاشی پر تنقید کرتی تھی لیکن اب خود اقتدار میں آنے کے بعد مریم حکومت بھی اسی روش پر گامزن ہے۔

 

سینیئر صحافی کے مطابق بسنت کی بحالی جیسے فیصلوں نے مریم حکومت کے لیے عوام میں نرم گوشہ پیدا کیا اور اس کے لیے ایک مثبت فضا بنائی، لیکن طیارہ خریدنے کی خبر سامنے آتے ہی یہ تاثر یکسر بدل گیا ہے۔ یہ خبر ابتدائی طور پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک اکاؤنٹ کے ذریعے سامنے آئی جس کے بعد سوشل میڈیا اور مین سٹریم میڈیا دونوں ہر ہی پنجاب حکومت تنقید کی زد میں آ گئی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ محض ایک جہاز کی خریداری تک محدود نہیں۔ اطلاعات کے مطابق یہ ایک کارپوریٹ طرز کا چھوٹا جیٹ ہے، جو عام طور پر کاروباری ادارے یا ریاستی شخصیات تیز رفتار اور نجی سفر کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اس نوعیت کے جیٹ جہاز عموماً 10 سے 12 مسافروں کی گنجائش رکھتے ہیں، یہ جہاز مختصر رن ویز سے اڑان بھر سکتے ہیں اور لگژری نشستوں اور جدید کمیونیکیشن سسٹمز سے لیس ہوتے ہیں۔ عالمی مارکیٹ میں ایسے طیاروں کی قیمت ماڈل اور کنفیگریشن کے لحاظ سے کروڑوں ڈالرز تک ہوتی ہے، جس میں نہ صرف خریداری کی لاگت بلکہ سالانہ آپریٹنگ اخراجات، مینٹیننس، پائلٹس کی تنخواہیں، انشورنس اور ہینگر چارجز بھی شامل ہوتے ہیں۔

 

ایوی ایشن ماہرین کے مطابق ایک ایگزیکٹو جیٹ کی سالانہ دیکھ بھال اور آپریشنل اخراجات بھی اربوں روپے تک جا سکتے ہیں، جو صوبائی خزانے پر اضافی بوجھ ڈال سکتے ہیں۔ تنقید کرنے والوں کا مؤقف ہے کہ اگر یہ طیارہ واقعی وزیر اعلیٰ یا صوبائی انتظامیہ کے استعمال کے لیے خریدا گیا ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا موجودہ سرکاری فضائی بیڑا یا کمرشل پروازیں ناکافی تھیں؟ مزید یہ کہ کیا اس فیصلے کے لیے باضابطہ کابینہ منظوری، شفاف ٹینڈرنگ اور پبلک پروکیورمنٹ رولز کی مکمل پیروی کی گئی؟ اب تک اس حوالے سے مکمل تفصیلات عوام کے سامنے نہیں آئیں، جس سے شکوک و شبہات میں اضافہ ہوا ہے۔ کچھ حکومتی حلقوں کی جانب سے یہ وضاحت سامنے آئی کہ طیارہ دراصل صوبے کی مجوزہ پنجاب ایئرلائن کے لیے حاصل کیا گیا ہے، تاہم ناقدین کے مطابق اگر ایسا ہے تو پھر اس ایئرلائن کا باضابطہ بزنس پلان، ریگولیٹری منظوری، روٹ سٹرکچر اور مالی ماڈل بھی منظر عام پر آنا چاہیے۔ بصورت دیگر یہ وضاحت جھوٹی محسوس ہوتی ہے مریم نواز اس جہاز کا استعمال شروع کر دیا ہے۔

 

ایوی ایشن ماہرین یاد دلاتے ہیں کہ پاکستان میں سرکاری ایئرلائن کے تجربات پہلے ہی مالی خساروں سے جڑے رہے ہیں، جس کے باعث پنجاب ایئرلائن کو بھی سخت جانچ کی ضرورت ہوگی۔ دن یاد دلاتے ہیں کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کو بھی اسی لیے بیچا گیا ہے کیونکہ وہ خسارے میں جا رہی تھی۔

 

عارفہ نور کے مطابق مریم نواز کے سفر کے لیے دو سرکاری جہاز موجود ہونے کے باوجود مہنگا ترین تیسرا جہاز خریدنے کا فیصلہ ناقابل دفاع ہے اور اس لیے اب تک حکومت کے ترجمان اس معاملے سے جڑے سوالات کا جواب دینے میں ناکام رہے ہیں۔ عموماً حکومت تنقید کا فوری جواب دیتی ہے اور سوشل میڈیا پر بھی بھرپور دفاع کیا جاتا ہے، مگر اس بار ابتدائی وضاحت کے بعد خاموشی اختیار کی گئی، جس سے مزید قیاس آرائیوں کو تقویت ملی۔

عمران کی سیاسی لانچنگ کی کہانی، جنرل شجاع پاشا کی زبانی

عارفہ نور کے مطابق پاکستان کی سیاسی تاریخ میں بعض اوقات اس نوعیت کے بظاہر انتظامی فیصلے بڑے سیاسی اشاروں میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ وہ واضح کرتی ہیں کہ یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ موجودہ سیاسی سیٹ اپ کسی بڑے خطرے سے دوچار ہے، تاہم ان کے بقول سیاسی فضا میں تبدیلی کی ہلکی سی بو محسوس ہو رہی ہے۔ ان کے نزدیک یہ معاملہ صرف ایک جہاز کی خریداری کا نہیں بلکہ عوامی نمائندگی، سادگی کے بیانیے اور معاشی حقیقتوں کے حوالے سے بھی پرکھا جا رہا ہے۔ جب وزیر اعلی کی جانب سے عوام کو کفایت شعاری اپنانے کا مشورہ دیا جائے اور خود ان کے ٹیکسوں کے پیسوں سے اربوں روپے کا جہاز خرید لیا جائے تو حاکم وقت کا سیاسی بیانیہ کمزور پڑ جاتا ہے۔

 

Back to top button