مریم نواز کے 11 ارب کے جہاز نے عوام کا اعتماد کیسے پاش پاش کیا؟

معروف صحافی روف کلاسرا نے وزیراعلیٰ مریم نواز کی جانب سے اپنے آرام دہ ہوائی سفر کے لیے 11 ارب روپے مالیت کا لگژری وی وی آئی پی جہاز خریدنے کے فیصلے کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے عوامی اعتماد کا قتل عام قرار دے دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا جب صوبہ پنجاب کو شدید مالی دباؤ، مہنگائی اور بنیادی سہولیات کے مسائل کا سامنا ہے، اور عوام پہلے ہی حکومتی اخراجات پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ کلاسرا کے بقول معاملہ صرف 11 ارب روپے کا نہیں بلکہ اس اعتماد کا ہے جس پر سیاست کی بنیاد کھڑی ہوتی ہے، اور ایک بار یہ اعتماد متزلزل ہو جائے تو اسے بحال کرنا آسان نہیں ہوتا۔
سینیئر صحافی اپنے سیاسی تجزیے میں بتاتے ہیں کہ سادگی اور کفایت شعاری کے درس دینے والی وزیر اعلیٰ پنجاب کے لیے 11 ارب روپے کی لاگت سے ایک نیا وی وی آئی پی طیارہ خریدا گیا ہے حالانکہ سرکاری ریکارڈ کے مطابق پنجاب حکومت کے پاس پہلے ہی ہوائی سفر کے لیے دو طیارے موجود ہیں۔ اس خریداری کو ابتدا میں عوام سے خفیہ رکھا گیا، تاہم سوشل میڈیا پر خبر سامنے آنے کے بعد شدید ردعمل شروع ہوگیا۔ تنقید بڑھنے پر وزیراعلیٰ کی جانب سے وضاحت دی گئی کہ یہ طیارہ دراصل پنجاب ایئر لائنز کے لیے خریدا گیا ہے، تاہم یہ وضاحت سفید جھوٹ ہے کیونکہ اس جہاز میں صرف 18 سیٹیں ہیں جب کہ کمرشل ایئر لائنز کے طیاروں میں عموماً سینکڑوں مسافروں کی گنجائش ہوتی ہے۔ اس نکتے کو بنیاد بنا کر مریم نواز کی سیاسی مخالفین ان کا رگڑا نکال رہے ہیں اور یہ سوال کر رہے ہیں کہ اگر انہوں نے عوام کے ٹیکسوں کے پیسوں سے 11 ارب روپے کا جہاز خرید ہی لیا تھا تو جھوٹ بول کر معاملہ مزید خراب کیوں کیا۔
روف کلاسرا کہتے ہیں کہ اصل مسئلہ صرف ایک جہاز کی خریداری نہیں بلکہ وہ تاثر ہے جو اس فیصلے سے عوام کے ذہنوں میں پیدا ہو رہا ہے۔ ان کے بقول اگر کسی حکومت نے بہتر کارکردگی دکھائی ہے تو اس کا انعام سرکاری وسائل سے لگژری سہولت حاصل کرنا نہیں بلکہ اگلے انتخابات میں عوام کی تائید کی صورت میں ملتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاست میں اصل انعام ووٹ ہوتا ہے، جہاز نہیں۔ کلاسرا نے نشاندہی کی کہ مریم نواز کو حالیہ مہینوں میں بعض انتظامی اقدامات، خصوصاً تجاوزات کے خلاف کارروائیوں اور صفائی مہمات پر غیر متوقع طور پر مخالفین کی جانب سے بھی سراہا گیا۔ ان کے مطابق یہ وہ مرحلہ ہوتا ہے جب ایک سیاستدان کو مزید محتاط ہونا چاہیے کیونکہ مخالفین کسی بھی کمزوری کے انتظار میں ہوتے ہیں تاکہ پوری کارکردگی کو متنازع بنایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ 11 ارب روپے کے جہاز کو ’’کارکردگی کے انعام‘‘ کے طور پر پیش کرنا خود حکومتی بیانیے کے لیے سخت نقصان دہ ہے۔
روف کلاسرا نے سوال اٹھایا کہ اگر طیارہ واقعی صوبائی ایئر لائن کے لیے خریدا جا رہا تھا تو اسے ابتدا ہی سے شفاف انداز میں کیوں پیش نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق سوشل میڈیا پر خبر آنے کے بعد وضاحت دینا اور 18 نشستوں والے طیارے کو ایئر لائن منصوبے کا حصہ قرار دینا شکوک کو مزید بڑھاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شفافیت کا فقدان ہی بداعتمادی کو جنم دیتا ہے اور جب عوام کو لگے کہ کوئی فیصلہ چھپایا جا رہا ہے تو ردعمل زیادہ شدید ہو جاتا ہے۔ کلاسرا نے اس معاملے کا تقابل سابق وزیراعظم عمران خان کے توشہ خانہ تنازع سے کرتے ہوئے لکھا کہ کس طرح ایک گھڑی نے ایک مقبول سیاسی بیانیے کو نقصان پہنچایا۔ ان کے مطابق عوام اکثر بڑے مالیاتی سکینڈلز کے مقابلے میں ایسی علامتی اور اخلاقی نوعیت کی باتوں پر زیادہ ردعمل دیتے ہیں کیونکہ وہ اسے کردار اور دعووں کے تضاد کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب ایک رہنما احتساب اور سادگی کی بات کرے اور پھر اس کے برعکس عمل سامنے آئے تو عوامی اعتماد کو شدید دھچکا لگتا ہے۔
علیمہ خان ہی عمران خان کی رہائی میں بڑی رکاوٹ کیوں بن گئیں؟
کلاسرا کے مطابق سیاستدان کے لیے سب سے قیمتی سرمایہ عوام کا اعتماد ہوتا ہے اور معمولی فائدہ اس اعتماد کے مقابلے میں کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ انہوں نے لکھا کہ اگر کوئی رہنما کفایت شعاری اور احتساب کا درس دیتا ہے تو اسے خود بھی انہی اصولوں پر سختی سے کاربند ہونا چاہیے۔
انکا کہنا تھا کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں بعض معاملات محض مالی فیصلے نہیں رہتے بلکہ علامتی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جس طرح بعض سابق رہنماؤں کے تحائف یا ذاتی مراعات کے معاملات طویل عرصے تک سیاسی مباحث کا حصہ رہے، اسی طرح یہ جہاز بھی ایک مستقل حوالہ بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاست میں دانشمندی یہی ہے کہ مخالفین کو ایسا موقع نہ دیا جائے جو برسوں تک بیانیے کا حصہ بن جائے۔
انہوں نے زور دیا کہ اگر حکومت اس فیصلے میں خود کو درست سمجھتی ہے تو اسے طیارے کی خریداری کی مکمل تفصیلات، ضرورت، مالی جواز اور مجوزہ استعمال سے متعلق شفاف معلومات عوام کے سامنے رکھنی چاہئیں تاکہ قیاس آرائیوں کا خاتمہ ہو سکے۔ ان کے بقول معاملہ صرف 11 ارب روپے کا نہیں بلکہ اس اعتماد کا ہے جس پر سیاست کی بنیاد کھڑی ہوتی ہے، اور ایک بار یہ اعتماد متزلزل ہو جائے تو اسے بحال کرنا آسان نہیں ہوتا۔
