مولانا فضل الرحمٰن آئینی ترمیم کی حمایت پر کیسے راضی ہوئے؟

26ویں آئینی ترمیم کے نکات پر سیاسی جماعتوں کے اتفاق سے لے کر منظوری تک تقریباً دو ماہ کے عرصے میں سیاستدانوں کی ملاقاتیں، تجاویز، اختلافات، پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل، مسودے، روٹھنا منانا یہ سب کچھ شہہ سرخیوں میں زیر بحث رہا۔ تاہم اب ترمیم کی منظوری کے بعد یہ بحث جاری ہے کہ اس تمام تر عمل سے حکومت اور اپوزیشن جماعتیں سیاسی طور پر کیا حاصل کر پائی۔

مولانا فضل الرحمٰن اور بلاول بھٹو کے درمیان دن میں کئی بار ملاقات کے مناظر ہوں، حکومتی وزرا کے ’نمبر گیم‘ پوری ہونے کے دعوے اور ’اتفاق رائے‘ پر بیان بازی ہو یا پی ٹی آئی کا پارلیمانی کمیٹی میں شرکت کے باوجود سفارشات پیش نہ کرنے کی بحث۔۔۔اس آئینی ترمیم کے لیے ہونے والی بیٹھکوں میں پارلیمان کی سب ہی جماعتیں پیش پیش دکھائی دیں۔ مگر یہاں یہ سوال بھی اہم ہے کہ اس تمام تر ہلچل کے دوران سیاسی طور پر کس کے ہاتھ کیا آیا ؟ حکومت کو کتنا سمجھوتہ کرنا پڑا اور اپوزیشن میں رہتے ہوئے کون سب کا منظور نظر رہا؟

پارلیمانی امور اور پاکستانی سیاست پر نظر رکھنے والے بیشتر تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ 26ویں آئینی ترمیم کے مسودے کی تیاری سے منظوری تک کے تمام عرصے میں جو شخصیت سیاسی طور پر سب سے نمایاں اور اہم دکھائی دی وہ بلاشبہ جمیعت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی تھی۔

مولانا فضل الرحمٰن نے آئینی ترمیم کے مسودے کی تیاری کے دوران موقع کا فائدہ کیسے اٹھایا؟ اس سوال کے جواب میں صحافی اور اینکر عاصمہ شیرازی نے کہا کہ ’انھوں نے ذہانت اور ہوشیاری کے ساتھ اپنے کارڈز کھیلے اور اس پورے عرصے میں انھوں نے پی ٹی آئی کو سیاسی طور پر پورا موقع دیا کہ وہ اپنا کردار ادا کرے۔‘

عاصمہ شیرازی نے جمیعت علما اسلام کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ’بھلے وہ اپوزیشن ہو پیپلز پارٹی ہو یا حکومت، اس ایک ماہ کے دوران سب کی توجہ کا مرکز مولانا فضل الرحمٰن ہی رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمٰن کا کردار قومی اسمبلی میں اپنی آٹھ نشستوں کے ساتھ قائد حزب اختلاف کا رہا جب کہ 90 نشستوں والی جماعت ایک طرح سے بے اختیار نظر آئی۔‘

دوسری جانب صحافی اور اینکر پرسن سید طلعت حسین مولانا فضل الرحمٰن کے مرکز نگاہ ہونے پر تو متفق دکھائی دیتے ہیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ ’آخر میں تو مولانا فضل الرحمٰن کے پاس بھی ماننے کے سوا کوئی آپشن نہیں تھا۔‘

طلعت حسین کا کہنا ہے کہ ’مولانا فضل الرحمٰن میڈیا کی توجہ کا مرکز بنے رہے اور لوگ ان کے پاس آتے بھی رہے لیکن آخر میں ان کو اندازہ ہو گیا تھا کہ اگر ان کے لوگ نہیں بھی ووٹ نہیں کریں گے تب بھی حکومت ترمیم منظور کروا لے گی۔ تو ان کے پاس پھر آخر میں کوئی آپشن نہیں رہا تھا۔‘

طلعت حسین کے مطابق ’حکومت کی جانب سے انھیں عندیہ دے دیا گیا تھا کہ اگر مزید تعطل ڈالا گیا تو ترمیم ان کے بغیر بھی منظور کروا لی جائے گی جس کے بعد انھوں نے اپنا وزن بہت زیادہ نہیں ڈالا۔‘

فہد حسین کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن جو کافی عرصے سے پاکستان کے سیاسی منظر نامے میں گویا کنارے پر دکھائی دے رہے تھے انھوں نے اس سارے عمل میں خود کو ’ری اینوینٹ‘ کیا ہے اور ثابت کیا کہ قومی اسمبلی میں آٹھ نشتوں کے ساتھ وہ کس طرح پاکستان کے جمہوری نظام میں تمام توجہ کا مرکز اور محور بن گئے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ آئینی ترمیم کی منظوری کے دوران مولانا نے دو چیزیں حاصل کیں جن میں سے ایک واضح نظر آ رہی ہے اور دوسری ابھی اوجھل ہے۔ سب سے پہلے انھوں نے اپنے سیاسی وزن کو استعمال کر کے آئینی ترمیم کا مسودہ اپنی مرضی کے مطابق بنوایا اور دو بڑی جماعتوں کو مجبور کیا کہ وہ ان کی وکٹ پر آ کر کھیلیں اس سے نہ صرف ایک بار پھر ان کے سیاسی قد کاٹھ میں اضافہ ہوا بلکہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ورکنگ ریلیشن شپ میں ان کا اپر ہینڈ آ گیا ہے۔دوسری چیز جو ابھی نظر نہیں آ رہی وہ وہ سیاسی فائدے ہیں جنھوں نے ابھی شکل اختیار نہیں کی۔ یہ ممکن نہیں کہ مولانا اتنا کچھ کریں اور پھر اپنا دامن جھاڑ کر واپس چلیں جائیں گے وہ کچھ نہ کچھ ساتھ لے کر جائیں گے۔

دوسری جانب پاکستانی پارلیمان کی کارکردگی پر نظر رکھنے والی تنظیم پلڈاٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب نے مولانا فضل الرحمٰن کے آئینی ترمیم میں کردار کو آئندہ انتخابات میں زیادہ نشستیں حاصل کرنے سے جوڑا۔

ان کا کہنا ہے کہ ’اس سارے عمل میں مولانا فضل الرحمٰن نے آئینی ترامیم کی تراش خراش اس طرح کی ہے کہ حکومت کو اس سے بہت زیادہ فائدہ بھی نہیں لینے دیا اور اسے باقی جماعتوں کے لیے بھی قابل قبول بنا دیا ہے۔‘حتی کہ اگر عمران خان اس کو ویٹو نہ کرتے تو ممکن تھا کہ پی ٹی آئی بھی اس کی حمایت کر دیتی۔ اور میرا خیال ہے کہ اگلے انتخابات میں مولانا کی جماعت کو زیادہ نشستیں ملنے کا قوی امکان ہے۔‘

پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین بلاول بھٹو بھی 26ویں آئینی ترمیم کے مسودے سے منظوری تک کے عمل کا کریڈٹ لیتے دکھائی دیے مگر پیپلز پارٹی اس سے کیا سیاسی فائدہ حاصل کر پائی؟

کیا عمراندار ججز آسانی سے 26 ویں آئینی ترمیم کو قبول کر لیں گے؟

اس سوال پر صحافی طلعت حسین کا خیال ہے کہ اس سارے عمل کے دوران پیپلز پارٹی اور جے یوآئی ف دونوں نے خوب نام کمایا ہے بلکہ بلاول بھٹو کو بھی خوب سیاسی عروج ملا۔ان کے مطابق ’آئینی ترمیم کی تیاری اور منظوری کے دوران پیپلز پارٹی نے اپنے منشور کے ایک نکتے کو ٹک کیا ہے اور چارٹرڈ آف ڈیموکریسی کو استعمال کرتے ہوئے ایک نئے قانون کی تشکیل بھی دی ہے۔‘وہ کہتے ہیں کہ ’اس سیاسی عمل کے دوران بلاول کا سیاسی طور پر ’ایکچوئل لانچ‘ ہوا ہے۔ 2024کے انتخابات میں بھی انھیں وہ عروج نہیں ملا جو انھیں آئینی ترمیم میں کردار ادا کرنے پر شہرت ملی۔‘

عاصمہ شیرازی بھی بلاول بھٹو کی جانب سے سیاسی جماعتوں میں مفاہمت کروانے کے کردار کو سراہتی ہیں۔’بلاول نے جیسے پی ٹی آئی کے ساتھ رابطے کیے اس سے نہ صرف انھوں نے اپنا سیاسی قد بڑھایا بلکہ جس نکتے پر پی پی پی اور مسلم لیگ ن کا اتفاق تھا اس میں کامیابی حاصل کی اور اپنے ووٹر، سپورٹر کو اپنے منشور کے ساتھ منسلک کرنے میں کامیاب رہے۔‘

عاصمہ شیرازی کے مطابق ’پی ٹی آئی اس میں اپنا رول تو ادا نہیں کر سکی حالانکہ ان کوآئینی ترمیم کے عمل کا حصہ بننا چاہیے تھا۔ تاہم مولانا نے آخر وقت تک ان کو شامل رکھا۔ اپنی سیاسی اور پارلیمانی طاقت کو استعمال کرنے میں پی ٹی آئی ناکام نظر آئی ہے۔‘

دوسری جانب طلعت حسین کے مطابق ’پاکستان تحریک انصاف نے جس معاملے پر تکیہ کیا ہوا تھا وہ اب سیدھا ہو سکتا ہے۔‘ان کے مطابق آئینی ترمیم کی منظوری سے جو انقلابی مزاج عدلیہ کے اندر بنتا دکھائی دے رہا تھا وہ تھم جائے گا۔‘طلعت حسین کامزید کہنا تھا ’آئینی ترمیم سے حکومت جو چاہ رہی تھی وہ سب کچھ تو اسے نہ مل سکا جس کی شروع میں اسے توقع تھی۔ مگر کم از کم جو اس کی خواہش تھی کہ سپریم کورٹ کے نئے چیف جسٹس کی تعیناتی میں اس کا ایک کردار ہو اس میں وہ کامیاب ہو گئے ہیں۔‘طلعت حسین آئینی ترمیم کی منظوری کو حکومت کے بنیادی مقاصد کی کامیابی قرار دیتے ہیں۔ان کے مطابق ’حکومت کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ سپریم کورٹ کے سینیئر ججوں کی تعیناتی پارلیمان کے ذریعے ہو۔ دوسرا مقصد یہ تھا کہ آئینی معاملات کو سیاسی اور عمومی معاملات سے علیحدہ رکھا جائے۔ جب عدلیہ میں معاملات جائیں تو آئین کے نام پر کوئی سیاسی کھلواڑ نہ ہو سکے تو حکومت کے بنیادی مقاصد تو پورے ہو گئے۔‘

Back to top button