مولانا نے پی ٹی آئی کا سیاسی امام بن کر عمران سے بدلہ کیسے لیا؟

عمران خان کے لیے ہمدردی رکھنے والے نواز شریف کے پرانے ساتھی اور پی ٹی آئی کے شکست خوردہ ٹکٹ ہولڈر کیپٹن ریٹائرڈ ایاز امیر نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی قیادت نے مولانا فضل الرحمٰن کو 26ویں آئینی ترمیم کے معاملے پر اپنا سیاسی امام بنا کر جو سنگین غلطی کی اس کے نتیجے میں پارٹی کی ساکھ کا جنازہ بھی نکل گیا اور ترمیم بھی پاس ہوگئی، یوں مولانا نے ایک تیر سے دو شکار کر لیے، انہوں نے پی ٹی آئی کی بینڈ ویگن پر سوار ہو کر اس کی مقبولیت بھی کیش کروا لی اور ماضی میں اپنے ساتھ کیے گئے سلوک کا بدلہ بھی چکا لیا۔

خود کو تجزیہ کار کہلانے والے کیپٹن ریٹائرڈ ایاز میر اپنی تازہ تحریر میں کہتے ہیں کہ تحریک انصاف والوں کی عقل پر پردے پڑگئے تھے۔ پی ٹی آئی کے ساتھ ہاتھ نہیں ہوا‘ اُس نے اپنے ساتھ خود جانتے بوجھتے ہوئے ہاتھ کروایا ہے۔ کیا پی ٹی آئی والے مولانا کو پڑھنے سے قاصر تھے؟ کیا انہیں مولانا کی سیاست کی سمجھ نہیں تھی؟ یہ پہچاننے میں کتنی عقل چاہیے کہ قبلہ مولانا نے کبھی کسی دیوار سے سینگ نہیں ٹکرائے۔ موصوف نہایت ہی سمجھدار آدمی ہیں‘ پھونک پھونک کے چلتے ہیں‘ اور جیسا کہ پنجابی محاورہ ہے‘ اُنہوں نے کبھی تَتے پر پیر نہیں رکھا۔ کیا پی ٹی آئی والے بھول گئے تھے کہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں مولانا اور اُن کے ہمنواؤں کا رول کیا رہا تھا؟

کیپٹن ریٹائرڈ ایاز امیر کہتے ہیں کہ مشرف کے دور میں ہی متحدہ مجلس عمل بنی تھی اور مذہبی جماعتوں کے اس اتحاد نے صوبہ سرحد میں حکومت کی تھی۔ تقریریں ان کی جتنی بھی دھواں دار ہوں‘ مشرف کے ہر ایک اقدام کا مولانا نے ڈٹ کر ساتھ دیا اور آمر کا غیر آئینی لیگل فریم ورک آرڈر بھی پاس کروا دیا۔ کیا پی ٹی آئی والے نہیں جانتے تھے کہ عمران خان کو نکالنے اور رجیم چینج میں کلیدی کردار مولانا کا تھا؟ اُس کارروائی کے تو مولانا روحِ رواں تھے۔ ایسے میں چھبیسویں ترمیم کے معاملے میں پی ٹی آئی مولانا سے کیا توقع کر رہی تھی؟ یہ درست ہے کہ شروع میں جب اس ترمیم کو لانے کی کوشش کی گئی تو مولانا نے بڑے گرج دار طریقے سے اُس کی مخالفت کی۔ شاید اسی امر کی وجہ سے پی ٹی آئی نے آنکھوں اور عقل پر پٹی باندھ لی اور اس کے زعما مولانا کے ڈیرے کے چکر لگانے لگے۔ چکر بھی کیسے لگائے کہ حاضریاں دیتے ہی گئے۔

کیپٹن ریٹائرڈ ایاز امیر کے مطابق ایک طرف صدر آصف علی زرداری‘ وزیراعظم شہباز شریف‘ اور بلاول بھٹو‘ مولانا کو منانے میں لگے ہوئے تھے اور ساتھ ہی بیرسٹر گوہر خان اور اُن عمر ایوب خان مولانا کے در پر حاضریاں دیتے جا رہے تھے۔ نون لیگ اور پیپلز پارٹی کے سامنے تو مقصد واضح تھا کہ اُنہیں مولانا کے ووٹ چاہیے تھے اور اُنہیں یقین تھا کہ مناسب منت سماجت کے بعد مولانا رام ہو جائیں گے۔ لیکن عجوبہ تو پی ٹی آئی کا ہے کہ وہ کس خیال میں مولانا کی خوشامد کر رہی تھی۔ پی ٹی آئی کا تو دوٹوک مؤقف یہ ہونا چاہیے تھا کہ چھبیسویں ترمیم عدلیہ پر کھلا وار ہے اور جیسے بھی حالات ہوں‘ ہم نے اس کی مخالفت کرنی ہے۔

چیف جسٹس بن کر یحیٰی آفریدی کو 3 برس پہلے ریٹائر ہونا پڑے گا

کیپٹن ریٹائرڈ ایاز امیر کہتے ہیں کہ تحریک انصاف کی قیادت کو مولانا کی پشاوری چپل چاٹنے سے پرہیز کرنا چاہیے تھا کیونکہ اس عمل سے جہاں مولانا کی گُڈی اوپر جا رہی تھی‘ پی ٹی آئی کا امیج مسلسل خراب ہو رہا تھا۔ پر پتا نہیں بانی پی ٹی آئی کو اندر جاکر کیا کچھ بتلایا جاتا تھا اور بتلائے جانے کی روشنی میں پتا نہیں وہ کیا ہدایات جاری کرتے تھے۔ اس قضیے میں پی ٹی آئی نے اپنے آپ کو برباد کر لیا ہے۔ اگر بیرسٹر گوہر اور عمر ایوب خان کا یہ خیال تھا کہ ہماری چکنی چپڑی باتوں سے مولانا پھسل کر ہمارے ساتھ آ کھڑے ہوں گے تو ایسی خام خیالی کا شاید حکیم لقمان کے پاس بھی کوئی علاج نہ ہو۔

کیپٹن ریٹائرڈ ایاز امیر کے مطابق چھبیسویں ترمیم پر جتنی تنقید کی جائے بجا ہے، لیکن جن طریقوں سے بھی کیا‘ حکومت نے اسے منظور تو کروا لیا۔ اور ووٹ جب اس کے حق میں ڈل چکے تھے تب وہ منظر دیکھنے کے قابل تھا کہ سب قبلہ مولانا سے ہاتھ کیسے ملا رہے تھے۔ جب سب خوشی سے پھول رہے تھے تب بھی پی ٹی آئی کے زعما کو بات سمجھ نہیں آئی؟

چلیں در پر حاضریاں تو ایک بات ہوئی لیکن جب مولانا نے اپنا ارادہ ظاہر کر دیا تھا کہ وہ ترمیم کے حق میں ووٹ ڈالیں گے تو پھر بیرسٹر گوہر کو کیا سوجھی کہ مولانا کی تعریف کے ڈونگرے برسانے لگیں؟ ٹی وی پر سنتے حیرانی کی انتہا نہ رہی کیونکہ تعریف میں بیرسٹر صاحب بولتے جا رہے تھے۔ اتنا تو پھر سوچئے کہ اگر مولانا کی اتنی تعریف کی گئی تو پھر (ن) لیگ اور پی پی پی کتنی قصوروار ٹھہریں کیونکہ جو ثواب کا کام مولانا کر رہے تھے وہی انہوں نے کیا‘ یعنی ترمیم کے حق میں ووٹ ڈالے۔ جب حرکت برابر کی تو تعریف بھی برابر کی بنتی ہے۔ پی ٹی آئی سے یہ بھی کوئی پوچھے کہ اگر ترمیم کے بارے میں اتنے اعتراضات تھے تو پھر وہ نیا چیف جسٹس بنانے والی پارلیمانی کمیٹی کا حصہ بننے پر کیوں تیار ہو گئی جبکہ اس نے اس عمل میں ووٹ بھی نہیں ڈالنا تھا؟ مختصر یہ کہ مولانا کے ساتھ ہاتھ ملا کر تحریک انصاف نے اپنی سیاست کا جنازہ نکال دیا ہے۔

Back to top button