محسن نقوی نے جے شاہ کو کس طرح چاروں شانے چت کیا؟

 

 

 

بالآخر پاکستان کرکٹ بورڈ نے ایک مرتبہ پھر عالمی کرکٹ کی سیاست میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل اور اس کے طاقتور سربراہ جے شاہ کو تن تنہا چاروں شانے چت کر دیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے ساتھ ہونے والی زیادتی کے خلاف پاکستان کے سوا آئی سی سی کا کوئی اور رکن بورڈ سامنے نہیں آیا تھا اور آئی سی سی کی جانب سے پاکستان کے خلاف ایکشن لینے کی دھمکیاں دی جا رہی تھیں۔ پاکستان نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے بنگلہ دیش کو باہر کرنے کے خلاف احتجاجاً اکیلے ہی سخت مؤقف اختیار کیا اور 15 فروری کو انڈیا کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا اعلان کر کے آئی سی سی کو ایک بڑے بحران میں مبتلا کر دیا، اس انکار کے باعث کرکٹ کے عالمی ادارے کو 50 ارب روپے کے ممکنہ مالی نقصان کا سامنا تھا۔ اسی دباؤ کے نتیجے میں آئی سی سی قیادت کو پسپائی اختیار کرنا پڑی اور بالآخر بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے تمام مطالبات تسلیم کر لیے گئے۔

 

آئی سی سی کی جانب سے بنگلہ دیش کے مطالبات منظور کرنے کے فوری بعد وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستانی کرکٹ ٹیم کو ہدایت جاری کی کہ وہ 15 فروری کو انڈیا کے خلاف شیڈول ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میچ میں شرکت کرے۔ اس سے قبل پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی وزیراعظم کو باضابطہ طور پر آئی سی سی کے سرنڈر کرنے کے حوالے سے آگاہ کر چکے تھے۔ ذرائع کے مطابق محسن نقوی نے وزیراعظم کو پی سی بی، آئی سی سی کے نمائندوں اور بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے صدر کے درمیان ہونے والے اجلاس میں طے پانے والے فیصلوں کی تفصیلات فراہم کیں، جس کے بعد حکومتی سطح پر حتمی منظوری دی گئی۔ حکومت پاکستان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ فیصلہ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کی جانب سے پی سی بی کو موصول ہونے والی باضابطہ درخواستوں کے ساتھ ساتھ سری لنکا، متحدہ عرب امارات اور دیگر رکن ممالک کے پیغامات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا۔

 

بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی سری لنکا کے صدر انورا کمارا ڈسانائیکے سے ٹیلیفونک گفتگو بھی ہوئی، جس میں سری لنکن صدر نے صورت حال کو خوش اسلوبی سے حل کرنے کی درخواست کی۔ حکومتی بیان میں مزید کہا گیا کہ دوست ممالک کی درخواستوں اور کھیل کے وسیع تر مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے حکومت پاکستان نے پاکستانی ٹیم کو ہدایت دی ہے کہ وہ 15 فروری 2026 کو آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے شیڈول میچ کے لیے میدان میں اترے۔

 

اس تمام پیش رفت سے قبل اتوار کو لاہور میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے اعلیٰ حکام کے درمیان ایک اہم اجلاس منعقد ہوا تھا۔ اس ملاقات میں آئی سی سی کے ڈپٹی چیئرمین عمران خواجہ نے پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی سے تفصیلی مذاکرات کیے، جبکہ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے صدر محمد امین الاسلام بھی اجلاس میں شریک تھے۔ اسی اجلاس میں تنازع کے حل کی بنیاد رکھی گئی۔ واضح رہے کہ یہ تنازع تب شروع ہوا تھا جب بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے اپنی ٹیم کی سیکیورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے میچز انڈیا سے باہر منتقل کرنے کی درخواست کی تھی۔ تاہم آئی سی سی نے یہ درخواست مسترد کر دی، جس پر پاکستان نے شدید ردعمل دیتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ اگر بنگلہ دیش کو سیکیورٹی خدشات کی بنیاد پر انڈیا میں کھیلنے کا حق نہیں دیا جاتا تو پاکستان بھی 15 فروری کو انڈیا کے خلاف میچ کا بائیکاٹ کرے گا۔

 

تاہم لاہور میں ہونے والے مذاکرات کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے ایکس پر اعلان کیا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اور آئی سی سی کے درمیان کامیاب بات چیت کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ پاکستان ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں اپنے تمام میچز کھیلے گا۔ آئی سی سی کے مطابق یہ مذاکرات ایک وسیع تر عمل کا حصہ تھے، جس میں دونوں فریقوں نے دیانتداری، انصاف اور تعاون کے ساتھ کھیل کے مفادات میں متحد رہنے پر اتفاق کیا۔ آئی سی سی نے واضح کیا کہ تمام رکن ممالک آئی سی سی ایونٹس میں شرکت کی شرائط کے مطابق اپنے وعدوں کا احترام کریں گے اور موجودہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کو کامیاب بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ بنگلہ دیش کے حوالے سے آئی سی سی نے کہا کہ چونکہ وہاں کرکٹ کی ایک بڑی مارکیٹ موجود ہے اور 200 ملین سے زائد شائقین کرکٹ سے وابستہ ہیں، اس لیے اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ ٹورنامنٹ میں عدم شرکت کے باعث ملک میں کرکٹ کو کوئی طویل مدتی نقصان نہ پہنچے۔

 

بنگلہ دیش کو ورلڈ کپ سے باہر کرنے والے آئی سی سی نے یہ بھی اعلان کیا کہ بنگلہ دیش پر کسی قسم کا جرمانہ عائد نہیں کیا جائے گا اور اسے 2031 کے ورلڈ کپ سے قبل ایک آئی سی سی ایونٹ کی میزبانی کا موقع دیا جائے گا۔

یاد رہے کہ پاکستان نے بنگلہ دیش کی حمایت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اگر کسی ملک کو سیکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر کسی مقام پر کھیلنے سے انکار کا حق حاصل ہے تو بنگلہ دیش کو بھی یہی حق ملنا چاہیے۔ اس مؤقف کا حوالہ گزشتہ برس پاکستان میں ہونے والی چیمپئنز ٹرافی سے جوڑا گیا، جہاں انڈین ٹیم نے پاکستان آ کر کھیلنے سے انکار کیا تھا اور اس کے میچز دبئی منتقل کیے گئے تھے۔

سری لنکن صدر پاکستانی ٹیم کو انڈیا کیخلاف کھیلنے کی اجازت دینے پر شہباز شریف کے مشکور

آئی سی سی کی جانب سے پاکستانی دباؤ پر بنگلہ دیش کے مطالبہ تسلیم کیے جانے کے بعد سوشل میڈیا پر اس فیصلے کے اثرات پر بھرپور بحث جاری ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان نے اگرچہ میچ کھیلنے کا فیصلہ کیا، مگر وہ بنگلہ دیش کے لیے بیانیے کی جنگ جیتنے میں کامیاب رہا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کے اس مؤقف نے مستقبل کے لیے ایک نئی مثال قائم کی ہے، تاہم وہ اس حقیقت کی جانب بھی توجہ دلاتے ہیں کہ اس تمام تر سفارتی کامیابی کے باوجود بنگلہ دیش کے کھلاڑیوں کو ورلڈ کپ میں کھیلنے کا موقع نہ مل سکا۔

Check Also
Close
Back to top button