ایم کیو ایم کی سیاست نائن زیرو سے زیرو تک کیسے پہنچی؟

کراچی سے تعلق رکھنے والے سینئیر صحافی مظہر عباس نے کہا ہے کہ ماضی میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کو آگے لگا کر سیاست کرنے والی متحدہ قومی موومنٹ اپنی مصنوعی لیڈر شپ کی زیر قیادت ایک بند گلی میں داخل ہو چکی ہے، جہاں اب وہ نہ تو اپنی کوئی بات منوا سکتی ہے اور نہ ہی مزاحمت کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ ان کے مطابق ’نائن زیرو‘ سے شروع ہونے والا مہاجر قومی موومنٹ کا سیاسی سفر اب ’زیرو‘ ہو گیا ہے، ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ قومی اسمبلی میں 17 نشستیں دلوائے جانے کے باوجود ایم کیو ایم نہ تو متحد نظر آتی ہے اور نہ ہی حقیقی سیاسی طاقت کے طور پر کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں ہے۔
روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تجزیے میں مظہر عباس لکھتے ہیں کہ اصل سوال یہ نہیں کہ ایم کیو ایم کے نامزد کردہ گورنر کامران ٹیسوری کس طرح لائے گئے، اہم سوال یہ ہے کہ ان کی رخصتی پر پارٹی خاموش کیوں ہے۔ ان کے متبادل کے طور پر آنے والے نہال ہاشمی کا تعلق ایک متوسط طبقے سے ہے، تاہم یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا وہ اپنی جماعت مسلم لیگ (ن) کو سندھ میں دوبارہ متحرک کر پائیں گے یا نہیں۔
مظہر عباس کے مطابق پیپلز پارٹی بدستور سندھ میں مضبوط پوزیشن رکھتی ہے اور آصف علی زرداری نے آئندہ سیاسی حکمت عملی پر کام بھی شروع کر دیا ہے۔ ان کے مطابق، ایم کیو ایم کی اصل طاقت اس کی مرکزیت میں تھی، جو وقت کے ساتھ ساتھ ختم ہوتی گئی۔ اس زوال میں اندرونی اختلافات، ریاستی مداخلت اور یکے بعد دیگرے ہونے والے آپریشنز نے اہم کردار ادا کیا۔ بانی ایم کیو ایم الطاف حسین کو جہاں ان کی پرتشدد سیاست نے نقصان پہنچایا، وہیں مختلف ادوار میں ریاستی اداروں نے بھی ان کی جماعت کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا—کبھی پیپلز پارٹی، کبھی مسلم لیگ (ن) اور کبھی پاکستان تحریک انصاف کے خلاف۔
مظہر عباس کہتے ہیں کہ ایک وقت ایسا بھی آیا جب ایم کیو ایم کے تمام دھڑوں نے متحد ہونے کی کوشش کی، مگر ’نامعلوم افراد‘ کی مداخلت کے باعث یہ کوشش ناکام ہو گئی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شہری سیاست میں ایم کیو ایم کے کردار کو محدود کرنے کی کوششیں طویل عرصے سے جاری تھیں۔ ایم کیو ایم کا مرکز عزیز آباد میں واقع ’نائن زیرو‘ رہا، جو 1992 سے 2013 تک متعدد فوجی، نیم فوجی اور پولیس آپریشنز کے باوجود برقرار رہا۔ تاہم 2013 کے انتخابات اور پھر 22 اگست 2016 کی تقریر نے پارٹی کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں۔ 2013 کے انتخابات میں ایم کیو ایم کے روایتی حلقوں میں اس کے خلاف ووٹوں کا پڑنا اور خود اس کے تنظیمی ڈھانچے کے اندر سے اختلافات سامنے آنا اس بات کا اشارہ تھا کہ شہری سیاست میں اس کی گرفت کمزور ہو رہی ہے۔
2014 میں عمران خان کی حکومت مخالف تحریک کے دوران بھی ایم کیو ایم کو شامل کرنے کی کوشش کی گئی، یہاں تک کہ کراچی کو بند کرنے کی تجویز دی گئی، مگر الطاف حسین نے مبہم پیغام کی بنیاد پر اس سے انکار کر دیا۔ بعد ازاں پارٹی میں ٹوٹ پھوٹ کا عمل تیز ہو گیا اور مصطفیٰ کمال، انیس قائم خانی، رضا ہارون اور دیگر رہنما الگ ہو گئے۔ 2016 میں مصطفیٰ کمال نے پاک سرزمین پارٹی کے قیام کا اعلان کیا، جس نے ایم کیو ایم کی سیاست کو مزید تقسیم کر دیا۔
اسی دوران طویل عرصے تک گورنر رہنے والے ڈاکٹر عشرت العباد کو بھی عہدہ چھوڑنا پڑا، جبکہ 22 اگست 2016 کی متنازع تقریر کے بعد ایم کیو ایم میں سب سے بڑی تقسیم سامنے آئی اور پارٹی کو ایم کیو ایم (پاکستان) اور ایم کیو ایم (لندن) میں تقسیم کر دیا گیا۔
سینیئر صحافی کہتے ہیں کہ بعد ازاں پارٹی کے اندر مزید گروپس وجود میں آئے، جن میں بہادرآباد اور پی آئی بی دھڑے شامل تھے۔ اسی دوران کامران ٹیسوری کی سیاست میں انٹری ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ مرکزی کردار بن گئے۔ مظہر عباس کے مطابق دلچسپ امر یہ ہے کہ جن قوتوں نے ٹیسوری کو آگے لایا، انہی کے کردار سے ایم کیو ایم اور پاک سرزمین پارٹی کا انضمام بھی ممکن ہوا، اور بعد میں انہیں گورنر سندھ بنایا گیا۔ تاہم ان کی رخصتی پر پارٹی کی خاموشی نے اس کے اندرونی تضادات کو مزید بے نقاب کر دیا۔ ادھر آصف علی زرداری کی کراچی کی سیاست میں دلچسپی بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے حالیہ دنوں میں وزیر داخلہ محسن نقوی کو کراچی بلا کر خالد مقبول صدیقی سے ملاقات کرائی، جو مستقبل کی سیاسی صف بندیوں کا اشارہ سمجھی جا رہی ہے۔
مظہر عباس کہتے ہیں کہ آصف علی زرداری ماضی میں بھی کراچی کی سیاست میں سرگرم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے ذوالفقار مرزا کے ذریعے 2008 میں آپریشن کروایا، پھر ایم کیو ایم کو حکومت میں شامل کیا اور بعد ازاں سیاسی توازن تبدیل کیا۔
اطلاعات کے مطابق زرداری کراچی کے لیے ایک جامع منصوبہ رکھتے ہیں، جس میں امن و امان کی بہتری، انفراسٹرکچر کی ترقی، ٹرانسپورٹ اور پانی کے مسائل کا حل شامل ہے۔ وہ ممکنہ طور پر تحریک انصاف کو سیاسی منظرنامے سے باہر رکھتے ہوئے پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان اتحاد چاہتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق عین ممکن ہے کہ ایم کیو ایم کو سندھ حکومت میں شمولیت کی پیشکش بھی کی جائے، تاہم موجودہ حالات میں پارٹی کی پوزیشن کمزور دکھائی دیتی ہے۔
شریف فیملی کے نیب مقدمات ختم، عمران کیخلاف کارروائیاں جاری
مظہر عباس کے مطابق مجموعی طور پر ایم کیو ایم کی سیاست ایک ایسے مقام پر پہنچ چکی ہے جہاں وہ نہ تو اپنی شرائط منوا سکتی ہے اور نہ ہی کسی بڑی مزاحمتی تحریک کی قیادت کر سکتی ہے، جو اس کے سیاسی مستقبل پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
